انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پہلگام واقعہ:بھارت کاسندھ طاس معاہدہ معطل، واہگہ بارڈربند،سفارتی عملہ محدود،تمام پاکستانیوں کوملک چھوڑنے کا حکم

نئی دہلی،(ویب ڈیسک)بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب، بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں کو 48گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

بھارت نے واہگہ بارڈر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے منسوخ کردیے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا۔

وائس آف امریکا کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کے لیے ’سندھ طاس‘ معاہدہ طے پایا تھا، اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔

معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، اس کے تحت ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول بھات کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔

ادھر، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے کے بعد اپنا دو روزہ دورہ سعودی عرب مختصر کرکے واپس بھارت پہنچ گئے تھے، نئی دہلی کی وزارت خارجہ کے مطابق نریندر مودی اور سعودی ولی عہد نے پہلگام حملے پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل نریندر مودی کو وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلگام میں حملے کے بارے میں بریفنگ دی تھی، انہوں نے امیت شاہ سے کہا تھا کہ وہ تمام مناسب اقدامات کریں اور جائے وقوعہ کا دورہ کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button