انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

بوڑھے والدین کی خوشیوں پر پہرے کیوں؟

بازغہ چشتی

 

کہتے ہیں انسان جیسے جیسے عمر کی آخری منزل کی طرف بڑھتا ہے، اس کی خواہشیں بھی چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔ اسے نہ بڑی جائیداد چاہیے ہوتی ہے، نہ دولت کی ہوس رہتی ہے، نہ دنیا فتح کرنے کا شوق۔ بڑھاپے میں اگر کچھ باقی رہ جاتا ہے تو وہ صرف اپنوں کی محبت، عزت اور سکون کی خواہش ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے بوڑھے والدین کو یہی سب سے کم نصیب ہوتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض بچے اپنے والدین کی خوشیوں کے محافظ بننے کے بجائے ان کے نگران بن جاتے ہیں۔ وہ یہ طے کرنے لگتے ہیں کہ والدین کس سے ملیں گے، کہاں جائیں گے، کس سے بات کریں گے اور کس پر اپنے پیسے خرچ کریں گے۔ گویا جن لوگوں نے انہیں آزاد انسان بن کر جینا سکھایا، انہی کی آزادی پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

جب والدین جوان ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دیتے ہیں۔ اپنی نیند، اپنی صحت، اپنی آسائشیں اور اپنے خواب تک بچوں پر قربان کر دیتے ہیں۔ لیکن جب وہی والدین کمزور ہو جاتے ہیں تو بعض اولاد انہیں بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ ان کے ہر کام پر جھنجھلاہٹ، ہر بات پر ناراضی اور ہر خواہش پر اعتراض کیا جاتا ہے۔

سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب والدین کو بڑھاپے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ "اب آپ سے کچھ نہیں ہوتا”، "آپ کی عمر ہو گئی ہے”، "آپ کو کیا ضرورت ہے؟” شاید یہ جملے کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ اگر بڑھاپا عیب ہے تو جوانی ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتی۔ وقت کسی کو رعایت نہیں دیتا۔

اور پھر ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جو دل کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔ جب میاں بیوی میں سے ایک اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ زندگی بھر کا ساتھی بچھڑ جائے تو انسان پہلے ہی اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اسے اپنے بچوں کے سہارے، محبت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر افسوس، بعض گھروں میں اسی وقت اس کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔

بیوہ ماں ہو یا تنہا رہ جانے والا باپ، دونوں کو زندگی کے اس نازک مرحلے میں محبت، احترام اور سہارا چاہیے ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ بعض اوقات انہیں اپنے ہی بچوں کی بے حسی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان پر پابندیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کی پسند، ناپسند، ملاقاتیں، یہاں تک کہ ان کی ذاتی زندگی پر بھی فیصلے دوسرے کرنے لگتے ہیں۔ اگر وہ کسی عزیز کے گھر جانا چاہیں تو سوال اٹھتے ہیں، اگر کسی پرانے دوست سے بات کریں تو اعتراض ہوتا ہے، اگر کہیں خوش نظر آئیں تو بعض لوگوں کو یہ بھی برداشت نہیں ہوتا۔

آخر کیوں؟

کیا بڑھاپا انسان سے اس کا حقِ زندگی بھی چھین لیتا ہے؟ کیا شریکِ حیات کی وفات کے بعد زندہ رہ جانے والا انسان صرف سانس لینے کے لیے رہ جاتا ہے؟ کیا اس کے جذبات، خواہشات اور احساسات ختم ہو جاتے ہیں؟

بعض بچے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ والدین کی ہر جمع پونجی پر صرف ان کا حق ہے۔ اگر والدین اپنی خوشی کے لیے کچھ خرچ کرنا چاہیں یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا چاہیں تو انہیں روکا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ وہی والدین ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی حساب نہیں لگایا تھا کہ بچوں پر کتنا خرچ ہو رہا ہے۔

اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم نے "اُف” تک کہنے سے منع کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ والدین عمر رسیدہ ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کی خوشیوں کے لیے وقف کر دی ہوتی ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہر اولاد ایسی نہیں ہوتی۔ بے شمار بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں، ان کی مسکراہٹ میں اپنی خوشی تلاش کرتے ہیں اور ان کے آرام کے لیے اپنی خواہشات تک قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کے لیے مثال بنتے ہیں۔

لیکن جن گھروں میں والدین کو مسلسل احساسِ کمتری دیا جاتا ہے، ان کی بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، انہیں ہر وقت محتاج ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے یا ان کی خوشیوں پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں، وہاں صرف ایک بزرگ نہیں ٹوٹتا، پورا خاندان اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بڑھاپا کوئی جرم نہیں، زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں ہر انسان کو پہنچنا ہے، اگر عمر نے مہلت دی۔ آج ہم جس کرسی پر بیٹھ کر اپنے والدین کو نصیحتیں دے رہے ہیں، کل اسی کرسی پر ہم خود بھی بیٹھے ہوں گے۔ اس وقت ہمارے اپنے بچے ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے ہم سے سیکھا ہوگا۔

ابھی بھی وقت ہے کہ جوان اولاد اپنے بوڑھے والدین کی زندگی کو قید خانہ بنانے کے بجائے اسے سکون، عزت اور محبت کا آخری سفر بنائے۔ ان کی خوشیوں پر پہرے نہ بٹھائے، ان کی آزادی نہ چھینے، انہیں بڑھاپے کا طعنہ نہ دے، اور اگر ان میں سے ایک اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دوسرے کی زندگی کو عذاب نہ بنائے۔ کیونکہ والدین کو صرف زندہ رہنے کا نہیں، عزت اور خوشی کے ساتھ جینے کا بھی حق حاصل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button