لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی سے)انسانی سمگلنگ کے اہم ملزم کی ایف آئی اے اہلکاروں کی حراست میں ہلاکت معمہ بن گئی جس سے کئی قسم کے خدشات اور سوالات جنم لینے لگے ہیں۔
لیبیا اور یونان میں کشتی حادثہ میں پاکستانیوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے اور پوری دنیا میں جگ ہنسائی کے بعدحکام نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ایف آئی اے سمیت دیگرمحکموں کے ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
ایک طرف گجرات ،سیالکوٹ،گوجرانوالہ سمیت کئی علاقوں میں انسانی سمگلروں کیخلاف آپریشن جاری ہے تو دوسری جانب ایف آئی اے میں چھپی کالی بھیڑیں بھی ریڈار پر آچکی ہیں جن میں سے کئی اہلکاروں کو نوکری سے بھی برخاست کیا جا چکا ہے
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی زیر حراست ہلاک انسانی سمگلنگ کے ملزم سہیل حسن بھٹی کے سینے میں بھی کئی اہم راز اور اہم نام تھے جن کو وہ اگلنے والا تھا ۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم سہیل حسن بھٹی کو اسلام آباد کے علاقے جی 10سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم کو اسلام آباد سے لاہور لے جایا جا رہا تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہو گئی، ملزم کو ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ملزم کی کس مقام پر طبیعت خراب ہوئی؟،ملزم کو شیخوپورہ کے ڈسٹرکٹ ہسپتال ہی کیوں منتقل کیا گیا ؟ملزم کو کیا پہلے سے کوئی عارضہ لاحق تھا؟،کیا ملزم کا گرفتاری کے بعد طبی ملاحظہ کرایا گیا تھا؟جس وقت ملزم کوہسپتال منتقل کیا گیا اس وقت اس کی سانسیں چل رہی تھیں یا وہ دم توڑ چکا تھا؟
ملزم کو دل کا دورہ پڑا یا کون سی ایسی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی؟ملزم پر شدید ذہنی دبائو یا تشدد تو نہیں کیا گیا تھا ؟کیا ملزم محکمہ میں چھپی مزیدکالی بھیڑوں کے نام سامنے لانے والاتھا اور بھی بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب بہت ضروری ہے۔
نمائندہ سی این این اردو ڈاٹ کام نے ایف آئی اے اہلکاروں سے رابطہ کیا مگر کوئی بھی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون سرفراز خان ورک نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل تو دے دی ہے جس میں عائشہ آغا، سلمان لیاقت، ذیشان افضل اور گل شہناز شامل ہیں تاہم اور بھی بہت سارے اہم سوالات اور راز ہیں جن کا تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔



