دوران پروازآخری پیغام لکھ لیا تھا شایدمیرے جنازے پر پڑھا جاتا:عدنان صدیقی
لاہور( کلچرل رپورٹر)سینئر اداکار عدنان صدیقی نے کراچی سے لاہور آتے ہوئے طوفان کی زد میں آنے والی نجی ایئر لائن کی پرواز میں سفر کا دل دہلا دینے والا تجربہ بیان کیا ہے ۔24 مئی کو کراچی سے لاہور پہنچنے والی پرواز شدید طوفان کے باعث خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئی تھی۔
فلائی جناح کی پرواز کئی منٹ تک آندھی کی زد میں رہی اور طیارے کو طوفان کے باعث شدید جھٹکے لگے، مسافروں کی چیخیں نکل گئیں اور وہ بلند آواز میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے۔تاہم پائلٹ بڑی مہارت سے طیارے کو واپس کراچی لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔طیارے میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر بھی سوار تھے جبکہ اب اداکار عدنان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ اس خوفناک تجربے سے گزرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔عدنان صدیقی نے یہ واقعہ انسٹاگرام پر شیئر کیا اور اس کے دوران اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے لکھا کہ ہفتہ کے روز کہیں کراچی کے آسمان اور لاہور کے میدانوں کے درمیان میں خود کو جنت اور زندگی کی ناپائیداری کے بیچ پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا۔انہوں نے لکھا کہ ایک عام سا سفر اچانک ایک ایسے لمحے میں بدل گیا جو انسان کو اس کی بے بسی، اس کے وہمِ اختیار اور روزمرہ کی مصروفیات سے نکال کر زندگی کی اصل حقیقت دکھا دیتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اچانک جہاز میں شدید جھٹکے لگے اور مسافر خوفزدہ ہو گئے، اردگرد لوگ چیخ رہے تھے، ایک دوسرے کو تھامے ہوئے تھے، اکثریت کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن ان سب کے بیچ ایک خاموش سا احساس تھا کہ ہم سب کسی بڑی قوت کے رحم و کرم پر ہیں۔عدنان صدیقی کے مطابق ان لمحوں میں ان کے دل و دماغ پر صرف ایک چیز چھائی رہی وہ یہ کہ ان کے بچے، ان کا خاندان۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے خود کو ہمت دیتے ہوئے سیٹ کا آرم ریسٹ تھامے رکھا، مگر اصل گرفت اپنے خیالات، سانسوں اور ایمان پر تھی، میں نے اﷲ سے دعا مانگی نہ صرف اپنے لیے بلکہ ان تمام اجنبی مسافروں کے لیے جو اس وقت ایک ہی کشتی کے سوار تھے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جب جہاز لاہور کی زمین کو چھو ہی رہا تھا، تو اچانک ایک تیز جھٹکے کے ساتھ وہ دوبارہ آسمان کی طرف بلند ہو گیا، کپتان کو سلام پیش کرتا ہوں، کیا زبردست فیصلہ، کیا حاضر دماغی!۔عدنان صدیقی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ فضا ء میں خوف کی فضا ء تھی اور لوگ چیخ رہے تھے، وہ خود غیرمعمولی طور پر پرسکون تھے۔
ان کے مطابق میں اتنا خاموش تھا کہ میں نے فون نکالا اور ایک الوداعی پیغام لکھ دیا، شاید وہ میرے جنازے پر پڑھا جاتا، یا سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتا، لینڈنگ کے بعد وہ پیغام پڑھا اور پھر ڈیلیٹ کر دیا لیکن ہر لفظ دل سے لکھا تھا۔اپنے جذباتی پیغام میں اداکار نے لکھا کہ جب ہم اترے تو یہ صرف پرواز کا اختتام نہیں تھا، یہ اﷲ کا کرم تھا، یہ ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ زندگی دردناک طور پر نازک، دل دہلا دینے والی مختصر اور انتہائی مقدس ہے، یہ ایک تحفہ ہے،برائے مہربانی اسے ضائع نہ کریں، اپنے لوگوں کو قریب رکھیں اور اس لمحے، زندگی اور موقع کے لیے اﷲ کا شکر ادا کریں۔



