پاکستانتازہ ترین

ایران، امریکہ تنازع طے کرنے میں پاکستان کا مرکزی کردار: وزیراعظم شہبازشریف

دوستی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون، پاکستان ہر معاملے میں چین کے شانہ بشانہ کھڑا رہیگا، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا، صدر زرداری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں ایران، امریکہ تنازع طے کرنے کے لئے مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا یہ سفر جاری رہے گا، پاکستان کسی خوف و تردید کے بغیر متحد چین کی پالیسی کی حمایت کرتا ہے، دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنارہے ہیں، پاکستان میں موجود ہر چینی باشندے کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقی اور خوش حالی کے اقدامات کو سراہتے ہیں، دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور یہ ہم سب کے لئے اطمینان اور فخر کی بات ہے۔ پاک، چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ چین کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔
تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا یہ سفر جاری رہے گا، پاکستان کسی خوف و تردید کے بغیر متحد چین کی پالیسی کی حمایت کرتا ہے، دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنارہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں موجود ہر چینی باشندے کو سکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ پاکستان میں چینی باشندوں کو وہی سکیورٹی ملنی چاہیے جو یہاں صدر اور وزیراعظم کو حاصل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر اور وزیراعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے، جس نے چین کو تسلیم کیا، چینی بھائیوں کی تقریب میں شرکت باعث مسرت ہے۔ انہوںنے کہا کہ آج ہم چین کے ساتھ اپنے عظیم تعلقات کو منا رہے ہیں، دنیا میں منفرد مثال پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت، چین نے بے مثال ساتھ دیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی، سی پیک پاکستان کی معیشت اور روزگار کی فراہمی کیلئے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران اور امریکہ تنازع کے حل میں پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، چین کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین دنیا میں پاکستان کے ساتھ مستعدی کے ساتھ کھڑا رہا ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کا یہ سفر جاری رہے گا، مشترکہ کوششوں سے ترقی کا راستہ طے کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ چین نے 800ملین افراد کو غربت کی لکیر سے نکالا، گزشتہ سال میں نے ایک ہزار طلبہ کو چین بھیجنے کا اعلان کیا تھا، ہم چین کے شکر گزار ہیں، اس نے ہماری کاوش کو عملی جامہ پہنایا۔ شہباز شریف نے کہا کہ آج چین کی اقتصادی اور فوجی قیادت دنیا کے لیے مثال ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے دورے کی طرح میرا دورہ چین بھی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ مزید برآں پاک، چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان، چین کے سفارتی تعلقات پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، چین کی ترقی اور تبدیلی ترقی پذیر ممالک کیلئے باعثِ تحریک اور قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات اور مثالی دوستی ایک مضبوط ہر موسم کی تزویراتی اشتراکی شراکت داری میں تبدیل ہوچکی ہے، بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود یہ دوستی مسلسل مضبوط، موثر اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہوتی گئی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین کے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت اور مختلف شعبہ جات میں چین کے تعاون کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک چین کے اصول پر اپنے غیرمتزلزل سفارتی موقف کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی ترجیحات میں چین کی مضبوط معاونت نے غیرمعمولی کردار ادا کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سی پیک نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ، صنعتی تعاون میں بے پناہ کردار ادا کیا ہے، دنیا میں پاکستان اور چین کثیرالجہتی تعاون، پرامن بقائے باہمی اور جامع ترقی کے اصولوں پر کاربند ہیں، اللہ کرے کہ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی ہر آنے والی نسل کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی چلی جائے۔ ادھر وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کے پہلے سرکاری دورہ پاکستان کے موقع پر اُن کے اعزاز میں ناشتے کی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک ( اے کے ڈی این) کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے دیہی ترقی، صحت، تعلیم، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے شعبوں میں اے کے ڈی این کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے اے کے ڈی این کو پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال میں اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ترغیب دی، جہاں اس نیٹ ورک کی ادارہ جاتی موجودگی اور عوامی خدمات کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی ( اے کے یو) کے ساتھ مزید تعاون کا بھی خیرمقدم کیا اور صحت و اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں اس کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے عزت مآب کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، خصوصاً گلیشیئرز سے متاثرہ شمالی علاقوں میں ماحولیاتی استحکام کے فروغ کے لیے اے کے ڈی این ایک قدرتی اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ وزیراعظم نے عزت مآب پرنس رحیم آغا خان پنجم کا پاکستان کے دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اُن کا دوسرا گھر رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرنس رحیم کے باقاعدہ دورے پاکستان اور اسماعیلی برادری کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

دوسری طرف صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے جسے پاکستان میں عوامی، سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر مکمل حمایت حاصل ہے، پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور معاشی ترقی کے حوالے سے چین کی مسلسل حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور منصفانہ موقف کی حمایت کی ہے، پاکستان عالمی امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لیے چین کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سی پیک باہمی مفاد، رابطہ کاری، خوشحالی اور جامع ترقی کے مشترکہ وژن کی روشن مثال ہے،۔
پاکستان ’ون چائنہ پالیسی‘ پر ہمیشہ قائم رہے گا اور چین کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق ہر معاملے پر اس کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے آصف علی زرداری نے حکومت اور عوام کی جانب سے چین کی قیادت اور عوام بالخصوص چین کے صدر شی جن پنگ کو سفارتی تعلقات کے 75برس مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے اس خصوصی استقبالیے میں آپ کے ساتھ شریک ہوں۔ انہوں نے میں نائب چیئرمین کائی ڈافینگ اور چینی وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی آج یہاں موجودگی اس تاریخی موقع کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کی دوستی کی مضبوطی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 75سال قبل دونوں اقوام نے باہمی احترام اور مشترکہ خواہشات پر مبنی ایک سفر کا آغاز کیا تھا، آج وہ سفر ایک منفرد ہمہ موسمی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنر شپ میں ڈھل چکا ہے۔ صدر نے کہا کہ اس سنگ میل پر ہم اس شاندار تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس میں پاکستان اور چین نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا مکمل یکجہتی کے ساتھ تحفظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا تعاون تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے۔
صدر نے کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے جسے پاکستان میں عوامی، سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر مکمل حمایت حاصل ہے، اسی باعث یہ تعلق نسل در نسل اور مختلف حکومتوں کے باوجود تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت اور غیر متزلزل عزم نے پاکستان، چین تعلقات کو غیر معمولی بلندیوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، ان کے مختلف اقدامات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے مسلسل حمایت نے مشترکہ خوشحالی اور علاقائی استحکام کے نئے راستے کھولے ہیں۔ صدر نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے جدیدیت، جدت، غربت کے خاتمہ اور قومی احیاء کے میدانوں میں غیر معمولی پیش رفت حاصل کی ہے۔
پاکستان چین کے عالمی امن اور ترقی کے فروغ میں تعمیری کردار خصوصاً گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹو، گلوبل سویلائزیشن انیشیٹو اور گلوبل گورننس انیشیٹو جیسے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عالمی امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، مذاکرات ، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے عالمی چیلنجز کے حل پر یقین رکھتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button