انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

ایران کے امریکی و اسرائیلی اہداف پر حملے جاری،ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل ، اتحادیوں کا انکار

تہران نے اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان، اسلحہ کمپنی رفال ،قطر کی العدید ایئربیس،کویت،عراق میں امریکی اڈے،دبئی اورفجیرہ کو نشانہ بنایا،مذاکرات چاہتے نہ جنگ بندی کاکہا،مسلم ممالک کس طرف ہیں؟ایران

تہران،واشنگٹن:(ویب ڈیسک) ایران کے امریکی و اسرائیلی اہداف پر حملے جاری ہیں، جنگ کے 17 ویں روز مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تہران پر اسرائیل نے فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کی، ایران کے جوابی واربھی جاری ہیں،ایرانی میڈیا نےکہادارالحکومت کے اوپر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے مبینہ دشمن اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی۔ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے میں اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان اور اسلحہ کمپنی رفال کوبھی نشانہ بنایاہے۔

iranian-attack-on-israel-1

آپریشن وعدہ صادق کی56ویں لہر میں قطر کی العدید ایئربیس، عراق کے شہر اربیل میں مسلح اپوزیشن گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ حکام کے مطابق دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد فیول ٹینک کے قریب آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث پروازوں کا نظام عارضی طور پر متاثر ہوا۔ فجیرہ کے صنعتی علاقے میں بھی ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کی وجہ سے لگی آگ پر قابو پالیا گیا، ایئرپورٹ کی طرف جانے والی پروازوں کو فضا میں ہی روک لیا گیا۔

iran

دبئی میڈیا آفس کے مطابق شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دبئی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر ایک ڈرون نے ایندھن کے ٹینک کو نشانہ بنایا، حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، دبئی آنے والی پروازیں عارضی طور پر فضا میں روکی گئیں۔عالمی فلائٹ مانیٹرنگ ویب سائٹ نے فلائٹس کی تفصیلات جاری کردیں۔

america-iran

عراق میں پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے۔ عراقی فضائی دفاعی نظام نے بغدار میں امریکی سفارتخانے اور بلد ایئربیس کے قریب ڈرونز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ایران نے دبئی اور دوحہ کے مخصوص علاقوں میں ممکنہ حملوں کی وارننگ جاری کردی۔ایران کے میڈیا آپریشنز سینٹر نے خبردار کیا کہ دبئی اور دوحہ کے مخصوص علاقوں کے رہائشی حملوں کے پیش نظر علاقہ خالی کردیں۔ایران کا دعوی ہے کہ ان مقامات پر امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے چیلنج کرتے ہوئے کہا امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ایرانی بحریہ کو تباہ کر دیا، ٹرمپ ہمت کریں خلیج میں امریکی نیوی بھیجیں،ابھی 10 سال پہلے تیار کیے گئے میزائل استعمال کر رہے ہیں، جون 2025 کے بعد تیار میزائل استعمال میں نہیں لائے۔ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے کہا ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے سوال کیا کہ وہ کس طرف ہیں۔

IRAN

عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے مسلم ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران اپنی جدوجہد میں ڈٹ کر کھڑا ہے، مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف ہیں۔ جب ایران پر حملہ ہوا تو مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے حمایت نہ ملنے پر افسوس ہوا۔

araghchi iran

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا امریکہ سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔امریکی میڈیا کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا ایران نے نہ تو کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے کوئی درخواست دی ہے۔ ایران اس وقت کسی سیز فائر یا بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور جب تک ضرورت ہوگی اس موقف پر قائم رہے گا۔جب تک امریکی صدر ٹرمپ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ غیر قانونی ہے، اس وقت تک ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں رات گئے سے اب تک 60 سے زائد ڈرون مار گرائے گئے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری متعدد بیانات میں بتایا گیا کہ فضائی دفاعی نظام نے آدھی رات کے بعد مختلف مقامات پر آنے والے مجموعی طور پر 61 ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

وزارتِ دفاع کے مطابق یہ تمام ڈرون ملک کے مشرقی حصے کی جانب بڑھ رہے تھے تاہم بر وقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ملک کا دفاعی نظام پوری طرح الرٹ ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔اٹلی کی فوج نے کویت میں واقع ایک امریکی، اطالوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔

اطالوی چیف آف ڈیفنس جنرل لوسیانو نے ایک بیان میں کہا کہ آج صبح علی السالم بیس کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، حملے میں اطالوی ٹاسک فورس ایئر کا ریموٹ کنٹرول طیارہ تباہ ہو گیا۔ حملے میں تمام اہلکار محفوظ ہیں اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

دریں اثنابرطانیہ، جاپان اورآسٹریلیا نے آبنائے ہرمز کھلوانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل مسترد کرے ہوئے اپنے بحری جہاز نہ بھیجنے کا اعلان کردیا۔چین اور جنوبی کوریا بھی خاموش ہیں۔برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔برطانوی اخبار کے مطابق وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے ٹرمپ کو بتایا کہ برطانیہ اس کیلئے تیار نہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےبرطانوی وزیراعظم نے کہا برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے،آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے،معاملے پرمستند اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہےتاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا،مشرق وسطیٰ میں جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے، برطانیہ اس تنازع کے تیز ترین حل کے لیے کام کرتا رہے گا اور وقت بتائے گا کہ اس جنگ کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف درست تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔جاپان نےبھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔

جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف نےکہا کہ خطے میں بہت بڑی دہلیز پار ہوئی تبھی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکیں گے۔چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش ہے، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔جنوبی کوریا نے کہا ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطی کی صورتحال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکاہے۔

ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا۔صدر ٹرمپ نے دوران پرواز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔ آبنائے ہرمز سے متعلق 7 ممالک سے بات چیت کررہے ہیں، ان سے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسرائیل آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر سے طے شدہ ملاقات تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔یہ صرف اسی وقت مناسب لگتی جب آبنائے ہرمز سے مستفید ہونے والے یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی دے دی۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کے خارگ جزیرے کے زیادہ تر حصے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے جزیرے پر مزید حملوں کا انتباہ بھی دیا۔ان کا کہنا ہے ہم محض تفریح کے لیے اسے چند بار مزید نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے ڈرون بنانے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایران کی ڈرون سازی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ایران میں اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی کے علاوہ باقی ممالک ابنائے ہرمز کھلونے میں ہماری مدد کریں کیونکہ امریکا کا ایک فیصد تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں آتا بلکہ دیگر ممالک آبی گزر گاہ کی بندش سے پریشان ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے تمام بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ کر دیئے، ایرانی بحریہ کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور ہمیں اب تک کوئی تصدیق نہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، جو ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں انہیں خود اقدام کرنا ہوگا، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کے دفاع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ٹرمپ نے وارننگ دی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے خارک آئل آئی لینڈ میں تیل تنصیبات پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد ایرانی جہاز ڈبو دیے، دو ہفتے پہلے ایران مضبوط تھا، اب کمزور ہو چکا اور کاغذ ی شیر بن چکا ہے۔ٹرمپ نے کہاہم اپنے اتحادیوں کا دفاع کرتے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہماری مدد نہیں کرتے، آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پیشگوئی پہلے ہی کر دی تھی۔

دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فرانسیسی صدر میکرون کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران مشرق وسطی کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر میکرون نے ایرانی صدر پر زور دیا کہ مشرق وسطی میں حملوں کو فوری بند کیاجائے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد از جلد بحال کی جانی چاہیے۔ میکرون نے کہا کہ نیا سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک ہی سب کے لیے امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، فریم ورک کو یہ ضمانت بھی دی جائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button