انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

بنگلہ دیش میں اسحاق ڈار کی اہم ملاقاتیں، 6 معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

500 بنگلہ دیشی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف، 100 سول سرونٹس کیلئے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز ،1971 کے معاملات دو مرتبہ حل ہوچکے:اسحاق ڈار، ڈاکٹر یونس، توحید حسین، شیخ بشیرالدین، خالدہ ضیاء و دیگر سے ملاقاتیں

ڈھاکہ:(ویب ڈیسک)نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلادیش حکومت کے سربراہ محمد یونس سے ملاقات کی ۔چیف ایڈوائزر محمد یونس سابق وزیرِ اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کی جلاوطنی کے بعد بنگلا دیش کے سربراہ بنے تھے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی ملاقات میں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کی بحالی پر گفتگو ہوئی، نوجوانوں کے درمیان روابط بڑھانے، کنیکٹیویٹی بہتر بنانے پر بھی بات ہوئی۔

نائب وزیرِ اعظم نے پروفیسر محمد یونس کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی نیک خواہشات پہنچائیں۔ملاقات میں خطے کی حالیہ صورتِ حال اور علاقائی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران مشیر خارجہ ایچ ای ایم ڈی توحید حسین سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کردیئے گئے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سفارتکاروں، حکومتی اہلکاروں کے لئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاک بنگلہ دیش فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) اور بنگلہ دیش سنگباد سنگستھا کےدرمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوگئے۔

میڈیارپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش نالج کوریڈور منصوبے کے آغاز کا اعلان کردیا گیا،منصوبے کے تحت پانچ سو بنگلہ دیشی طلبہ کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔ 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کے لئے خصوصی تربیتی پروگرام کا بھی اعلان ہوگیا۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق منصوبے کے تحت آئندہ 5 سال کے دوران 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دیے جائیں گے، وظائف کا ایک چوتھائی حصہ میڈیسن کے شعبے کے لئے مختص کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کے لئے خصوصی تربیتی پروگرام کا بھی آغاز ہوگا جبکہ پاکستان ٹیکنکل اسسٹننس پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کے لئے وظائف 5 سے بڑھا کر 25 کر دیئے گئے۔دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جن میں اعلیٰ سطح کے دورے، تجارتی و اقتصادی تعاون، عوامی روابط، ثقافتی تبادلے، تعلیم اور استعداد کار میں اضافے کے منصوبے اور انسانی ہمدردی سے متعلق امور شامل تھے۔

اس موقع پر علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی جن میں سارک کی بحالی، فلسطین کے مسئلے اور روہنگیا بحران کے حل جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سنہ 1971 کے غیر حل شدہ معاملات دو مرتبہ تحریری اور زبانی طور پر حل ہو چکے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا میرے خیال میں بھائیوں کے درمیان یہ معاملہ طے ہونے کے بعد، اسلام بھی ہمیں دل صاف رکھنے کا حکم دیتا ہے لہذا ہمیں آگے بڑھنا چاہئے اور مل کر کام کرنا چاہئے۔ اسحاق ڈار نے کہا ہم نے تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، سکیورٹی، دفاع میں باہمی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات کی، ایک معاہدے اور 6 ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے عہد کیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گے اور بین الاقوامی فورمز پر بھی مل کر کام کریں گے۔

بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ نے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔قبل ازیں اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین سے ناشتہ پر ملاقات کی۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے۔دونوں جانب سے اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔

اسحٰق ڈار نے پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر کی جانب اپنے اعزاز میں دئیے گئے استقبالیہ میں شرکت کی۔اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ملاقات کی جن میں بنگلہ دیشی حکومت کے مشیران ، بیوروکریٹس، سیاسی جماعتوں کی قیادت، وائس چانسلرز، دانشور اور تھنک ٹینکس کے ارکان، کھلاڑی، فنکار، صحافی، ریٹائرڈ جرنیل اور دیگر شامل تھے۔

اسحٰق ڈار نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی عوام کے بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ برادرانہ جذبات ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کے لئے ہم آہنگی اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ایک تعمیری اور مستقبل کی طرف دیکھنے والے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیاء سے بھی ملاقات کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button