سزاؤں کا بنیادی مقصد بہتری لانا ہوتا ہے راہ راست پر رکھنا ہوتا ہے قانون کا خوف پیدا کرنا اور لوگوں کو طے شدہ امور سے بھٹکنے سے بچانا مقصود ہوتا ہے لیکن یہ سزائیں اسی وقت کارگر ثابت ہوتی ہیں جب جرم کرنے کی پاداش میں دی جائیں بے گناہ کو سزا دینے سے بہتری آنے کی بجائے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ویسے اگر کسی جرم کرنے والے کو اس کے جرم کی سزا دی جائے تو نہ صرف اس سے سزا دینے والا مطمئن ہوتا ہے بلکہ مجرم کا ضمیر بھی مطمئن ہوتا ہے کہ اس کو اس کے کیے کی سزا ملی ہے اس سے سسٹم مضبوط ہوتا ہے لیکن جب کسی کو تنگ کرنے کے لیے اور سزاؤں کو کسی اور مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے معاشرے میں خوفناک بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے سسٹم نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانے کے لیے اس کیس میں پھانسی پر لٹکا دیا جو اس کا جرم بنتا ہی نہیں تھا اگر بنتا بھی ہوتا تو دنیا کے کسی قانون اصول ضابطے میں اس کی یہ سزا نہیں بنتی تھی جس کی پاداش میں اسے سولی پر لٹکا دیا گیا اس سزا کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
آج تک پاکستان کے سیاسی حالات مستحکم نہیں ہو سکے سیاسی خرافات نے ایسا جنم لیا کہ آج تک اس پر قابو نہیں پایا جا سکا اس سزا سے بہتری آنے کی بجائے الٹا نقصان ہو گیا کہتے ہیں کہ کسی ایک بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے ایک بے گناہ کو بچانے کے لیے اگر سو گناہ گاروں کو فائدہ پہنچتا ہو تو اسے بچا لینا چاہیے آپ لوگوں نے اکثر دیکھا ہو گا کہ نچلی عدالتوں سے سزا یافتہ اکثر مجرم اعلی عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ مشق عام ہے کہ ماتحت عدلیہ کے ججز میں یہ سوچ غالب ہے کہ وہ اس نیت سے دل کھول کر سزائیں دے دیتے ہیں کہ جب معاملہ اعلی عدالتوں میں جائے گا تو وہ خود دیکھ لیں گے ماتحت عدالتوں سے پھانسی کی سزا پانے والے مجرم بھی اعلی عدالتوں سے باعزت بری ہو جاتے ہیں لیکن ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ اعلی عدالتوں میں جب کیسز کی باری آئی اور انھوں نے میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے مجرم کو باعزت بری کر دیا جب وہ آرڈر سامنے آئے تو پتہ چلا کہ مجرم کو تو کب کا تحتہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پولیس تفتیش کی خامیاں پراسکیوشن کی عدم توجہ سے اکثر انصاف کا قتل عام ہوتا دکھائی دیتا ہے لیکن سب سے بڑا خلا یہ ہے کہ مینج کرکے کسی کو سبق سکھانے کی خاطر سزا دے دی جائے ہم نے ماضی میں یہ بھی دیکھا کہ پولیس مقابلوں میں گناہ گاروں کے ساتھ ایسے بے گناہ لوگوں کو بھی مار دیا گیا جن کا کوئی قصور نہ تھا پولیس اہلکاروں نے کسی صاحب حیثیت کی خواہش کے احترام میں بے گناہ مار دیے یہی وجہ ہے کہ اتنے پولیس مقابلوں کے باوجود جرم تو نہیں رک سکا۔
جرم صرف اسی صورت رک سکتا ہے جب مجرموں کو انصاف کے ساتھ سزائیں دی جائیں ایک بار میں نے فوجداری مقدمات کے معروف وکیل آر اے اعوان مرحوم کا انٹرویو کیا وہ اکثر مجرموں کو سزا سے بچا لیتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ دن دیہاڑے سرعام بازار میں ایک شخص قتل ہوتا ہے ساری دنیا کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کو کس نے مارا ہے آپ پھر بھی انھیں سزا سے بچا لیتے ہیں انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں 90 فیصد ایف آئی آر حقائق کے منافی جھوٹ کی آمیزش سے درج ہوتی ہیں اگر درست حقائق کے ساتھ ایف آئی آر درج کروائی جائے تو مجرم کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا وقوعہ ایک بندے نے کیا ہوتا ہے ہم آٹھ سے دس بندے نامزد کر دیتے ہیں وقوعہ میں 32 بور پسٹل استعمال ہوا ہوتا ہے ہم سنگینی پیدا کرنے کے لیے کلاشنکوف ظاہر کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طرف پولیس تفتیش کرتی ہے اس میں مدعیوں کے ساتھ مک مکا کرکے کچھ ملزم جان چھڑوا لیتے ہیں کچھ پولیس والے تفتیش میں بے گناہ کر دیتے ہیں جن کے چالان ہوتے ہیں ان میں سے اکثر کا وہ کردار نہیں ہوتا جو ظاہر کیا جاتا ہے پھر مدعی سرکردہ لوگوں کو پھنسانے کے لیے مرکزی کردار ان کے سر تھوپ دیتے ہیں ایسے میں سارا وقوعہ ہی مشکوک ہو جاتا ہے اور شک کی بنیاد پر سارے ہی رہا ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ ٹیکنیکل بنیادوں پر بھی ملزم رہا ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر مقتول کو صرف دو فائر لگے ہوتے ہیں تو فائرنگ کرنے والے زیادہ ظاہر کیے جاتے ہیں جب فرانزک رپورٹ سامنے آتی ہے تو معاملہ سارا مشکوک ہو جاتا ہے ان تمام تر معاملات سے زیادہ خرابیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب نظریاتی طور پر مخالفین کو پھنسانے اور سبق سیکھانے کے لیے سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنا دیے جاتے ہیں جب سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے ان کے رشتہ داروں ماں بہنوں کو ذلیل کیا جاتا ہے تو ان کے اتنے دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں کہ تصور نہیں کیا جاسکتا پھر جب مقدمات کا سامنا کرنے والوں کی حکومت آتی ہے تو وہ بدلے لینے شروع کر دیتے ہیں اس طرح ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے جسٹس سسٹم کا درست ہونا بہت ضروری ہے



