بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے پہلگام ڈرامہ رچایا لیکن افسوس کہ اِس کے تمام کردار بے جان اور کہانی فلاپ ثابت ہوئی، پہلگام کا ڈرامہ رچانے کا واحد مقصد گریٹر اسرائیل کیلئے پاکستان کو دبائو میں لانا، حملے کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا، کیونکہ اِس وقت پانی کے مسئلے پر وفاق اور سندھ آمنے سامنے ہیں ، انہی مقاصد کیلئے پاک بھارت سرحدی پوائنٹس بند کئے گئے، پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں اڑتالیس گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا اور ڈرامہ میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے بھارتی میڈیا کو اُکسایا تاکہ وہ نہ صرف پاکستان کیخلاف پراپیگنڈا کرے بلکہ جنگ کا ماحول بھی بنادے، اور یہی سب کچھ بھارتی میڈیا بھی کررہا ہے۔ اطلاعات کےمطابق اسرائیل آئندہ دنوں ایک عرب ملک میں حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن اسے پاکستان سے خطرہ ہے ، اسی لئے سی آئی اے ،موساد اور بھارتی بدنامہ زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘نے منصوبہ تیار کیا،تاکہ پاکستان کو دبائو میں لاکر عالمی سطح پر ہمدردیاں سمیٹی جاسکیں ، لیکن بھارتی اپوزیشن کے سیاستدانواں نے خصوصاً جبکہ بھارتی میڈیا کے کچھ کرداروں نے بھارتی منصوبے کا پول کھول دیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘اس نوعیت کی دہشت گردی کے واقعات میں خود ملوث ہوتی ہیں،اسی طرز کا حملہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے 14فروری 2019ء کو پلوامہ میں خود ہی کرایا، اِس حملے میں بھارتی فوج کے 46 اہلکار مارے گئے، اِس حملے کے بعد نریندر مودی کی سیاسی پوزیشن ملک میں مضبوط ہوگئی کیونکہ مودی نے حملے کے فوراً بعد ہی پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں لیکن جب بالا کوٹ پر بھارت فضائیہ نے جعلی ائر سٹرائیک کی اور جواب میں پاک فضائیہ نے بھارت میں گھس کر ناصرف اِس کے اسلحہ ڈپوئوں کے قریب بمباری کرکے بھارت کو سخت پیغام دیا بلکہ اپنے تعاقب میں آنیوالے بھارتی جنگی طیاروں میں سے دو کو مارگرایا، جبکہ دو خود بھارتی حدود میں تباہ ہوئے، پس مودی سرکار ہر بار ایک ہی سکرپٹ پر نیا ڈرامہ بنانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ ہر پچھلے ڈرامے کی طرح بری طرح فلاپ ہوجاتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی بڑھے اور کوئی جنگ چھڑنے جیسے حالات ہوں کیونکہ ایسا ہونیکی صورت میں پاکستان کے مقبول لیڈر کی رہائی بھی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا جنگ کی صورت میں ناصرف بھارت کا بڑا نقصان ہوگا بلکہ کئی ممالک کے مفادات کو بھی زک پہنچے گا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس جسے کبھی لیڈیز پولیس کہہ کر پکارا جاتا تھا، اب آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی پوسٹنگ کے بعد پورے ملک کی نظر میں آئی ہوئی ہے، لہٰذا اب تمام افسران و ملازمین کو واضح طور پر سمجھ آچکی ہے کہ وہی ملازمت پر برقرار رہے گا جو فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوگا، یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی ’’آرام طلب ‘‘پولیس نے قانون پر عمل داری کیلئے صرف مجرموں کوہی نہیں بلکہ’’ اوروں‘‘کو بھی بے آرام کیا ہوا ہے، کیونکہ سید علی ناصر رضوی تین گھنٹے کی نیند لینے کے عادی ہیں، لہٰذا وہ رات کے کسی بھی پہر اپنے دفتر پہنچ جاتے ہیں، اور پھر افسران اور اسلام آباد کے تمام تھانوں میں رات کے پچھلے پہر دن چڑھ جاتا ہے، شاہ صاحب کی یاد داشت سے بھی افسران پریشان ہیں کیونکہ انہیں کوئی بات کوئی کیس بھولتا ہی نہیں ، اسی لئے تمام افسران ٹاسک جلد ازجلد مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ رات کے پچھلے پہر آئی جی اسلام آباد کو بریفنگ نہ دینا پڑے۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے اسلام آباد پولیس کو اپنے کام کے طرز سا کرلیا ہے لیکن اِس کے ساتھ ہی ملازمین و افسران کی فلاح و بہبود کیلئے بھی ایسے مثالی اقدامات کئے ہیں جو تاریخ میں اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے، لہٰذا اسلام آباد پولیس کے افسران و ملازمین مگر خصوصاً افسران خوشی سے نہال ہیں۔ چند روز قبل ہی سید علی ناصر رضوی اور ڈی آئی جی علی رضا کی خصوصی ہدایت پر اسلام آباد پولیس نے اپنےبہادر افسران کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ’’ہفتہ غازی‘‘ منایا، اپنی پولیس کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 21 اپریل سے 26 اپریل تک ’’ہفتہ غازی‘‘کی تمام ڈویژنز میں تقاریب کا انعقاد کرکے پولیس غازیوں کو مدعو کیا جا رہا ہے اور ان کی بہادری پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے اب تک 131 افسران و اہلکار غازی کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، انہیں شجاعت اور غازی کے تمغوں سے نوازا گیا ہے۔ آئی جی پی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ پولیس افسران و ملازمین اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داریاں بے خوفی سے نبھاتے ہوئے شہید و غازی ہوئے، اِس لئے پولیس کے یہ دلیر غازی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ’’غازی‘‘ کا تمغہ حاصل کرنے والے افسران کو ایک لاکھ روپے انعام،فرسٹ کلاس کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ اور ان کی پسند کی پوسٹنگ دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کی پولیس نے آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی تعیناتی کے دوران ہی اسلام آباد پولیس نے اپنے بل بوتے پر دھرنا، لانگ مارچ اور احتجاج کا راستہ روکا اور سب سے بڑا احتجاج جو تحریک انصاف نے کرنا تھا، اسے بھی ناکام بنا یا۔
خیبر پختونخوا کے واحد ایماندار اور پروفیشنل پولیس افسر ڈی آئی جی ہیڈ کواٹر رضوان منظور سے صوبہ بھر کے افسر انتہائی خوش ہیں ،ڈی آئی جی رضوان منظور اپنے کام میں اسقدر دلچسپی رکھتے ہیں کہ اپنے آفس سنٹرل پولیس آفس میں سب سے پہلے پہنچتے اور آخر میں جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی رضوان منظور کی سیٹ انتہائی اہم ہے لیکن انکی ایمانداری اور پروفیشنل ازم کے باعث کوئی افسر سفارش کرواکے انکی جگہ تعینات کا خواہشمند نہیں کیونکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کےزبردست چیلنجز ہیں، وہیں اپنے ماتحت افسران و ملازمین کے جائز کام بھی پہلی ترجیح پر سرانجام دیتے ہیں۔لاہور پولیس میں سزا جزا کا عمل شروع ہے کوئی نہ کوئی افسر و اہلکار کسی مافیا کا حصہ ہوتا ہے جو اب پکڑا جاتا ہے کاہنہ میں ڈاکوں کے انکشاف پر ایس ایچ او وویمن پولیس اسٹیشن کے گھر ریڈ کر کے اسے گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہونے والا پسٹل برآمد کر لیا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لاہور ہی نہیں بلکہ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ طرز پر پنجاب بھر میں سزا جزا کا عمل نیک نیتی سے شروع کیا جائے تو پولیس سے کالی بھیڑیں پکڑی جائیں جس کے بعد ہر طرح کے جرائم کی شرح کم ہو جائیگی لاہور میں گلشن اقبال پولیس اسٹیشن کا سب انسپکٹر حافظ ذاہد لوگوں کو اغوا کرکے ان سے تاوان وصول کرنے کے کیس میں گرفتار ہوا ملزم نے بہت سے واقعات کا انکشاف کیا جس کے بعد اسے عدالت کے حکم پر جیل بھجوا دیا گیا اس بارے افسران کو بھجوائی گئی سپیشل رپورٹ غائب ہوگئی اور سب انسپکٹر مدعی سے صلح کر کے واپس آکر کام کر رہا ہے ۔ اسی طرح پولیس اکثر جن ڈاکوں چوروں اور سنگین نوعیت کے مقدمہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرتی تو تفتیش کے دوران علم ہوتا ہے وہ کئی بار پکڑے گئے اور رشوت لیکر رہائی پالیتے ہیں ان کرپٹ افسران کی سپیشل رپورٹ افسران کو بھجوائی نہیں جاتی اسے لئے سزا جزا کا عمل ممکن نہیں



