بلاگتازہ ترینجرم-وسزاکالم

ظلم کا نوبل پرائز

تحریر: راحیلہ بقائی (اسلام آباد)

سورہ بقرہ 178 ،179۔اے لوگو تم پر قتل کا بدلہ قصاص فرض کر دیا گیاایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے۔ان آیات سے شریعت کا قانون شروع ہو رہا ہے۔اسلامی شریعت میں قیام عدل سب سے زیادہ ضروری ہے ،مقاصد شریعت میں جان کا تحفظ مال کا تحفظ عقل کا تحفظ اور نسب کا تحفظ شامل ہے ، یہ قانون قتل کی صورت میں حکومت پر مقتول کے قاتل سے قصاص لینا فرض قرار دیتا ہے۔

قاتل کا کھوج لگانااس کی تحقیق و تفتیش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانا اور اگر قاتل کسی بڑی حیثیت کا مالک ہو تو پوری قوت سے اس پر ہاتھ ڈالنا پھر عدالت تک اس معاملے کو لے کر جانا ، پھر فیصلہ کا نفاز کرنا یہ تمام فرائض حکومت کے ہیں۔یہی قانون تورات میں بھی تھا عقلمندوں کو خطاب کر کے کہا گیا کہ قاتل کو اگر چھوڑ دو گے تو سب کی زندگی خطرے میں ہے۔

معاشرے میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس قانون کا نفاذ بہت ضروری ہے۔آج کی دنیا میں پچھلے سو سال میں جتنا خون بہایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔چائنہ کے ڈکٹیٹر مائو نے 75 ملین انسان قتل کیے۔ہٹلر نے 85 ملین انسان قتل کیے۔1918میں روس کے ڈکٹیٹر stalin نے کیمونزم کے لیے کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان اور ایران عراق میں پینٹاگون کے مطابق5, 6 ملین انسان مار ڈالے۔ گزشتہ ڈھائی سال میں فلسطین میں نیتن یاہو اور امریکہ کے مشترکہ اتحاد سے ایک لاکھ 50 ہزار ٹن بارود اس چھوٹی سی بستی پہ گرایا گیا جو کہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے ایٹم بم سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔

75 ہزار فلسطینی شہید کیے گئے جن میں 17 ہزار بچے اور 11 ہزار خواتین شامل ہیں۔گزشتہ 30 سالوں میں کشمیر میں 80 ہزار مسلمان شہید کیے گئے۔ایک ظالمانہ پالیسی کے مطابق آبادی کو ختم کرنا ان ظالموں کا منصوبہ ہے ایک کتے اور بلی کی جان کی حفاظت کرنے والے انسانی جان کے قتل عام کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس مکروہ کام کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتے ہیں۔ٹرمپ صاحب بھی ہر جگہ اپنے آپ کو انسانیت کا مسیحا اور امن کے نوبل ایوارڈ کا حقدار قرار دے رہے ہیں۔اگر ظلم کے نوبل پرائز کا تقاضا کرتے تو دنیا کا ہر شخص بخوشی اس پر سر تسلیم خم کرتا۔

پچھلے مہینے ایران میں 149بے گناہ اسکول کی طالبات کو بمباری کر کے ہلاک کر دیا گیا،کیا یہی امن ہے۔؟آج کے دور کے بحری قزاق آبنائے ہرمز پہ گزرنے والے جہازوں پر میزائل پھینکنے والوں کو دنیا ہمیشہ قاتلوں کے نام سے ہی یاد رکھے گی۔گزشتہ سو سالوں میں امریکہ نے سو چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں۔ کروڑوں جانوں کو ختم کیا بغیر ثبوت کے ان پر جرائم کے الزامات عائدکیے گئے ایپسٹن فائل نے ان تمام ظالموں کی گندی گھناو¿نی وارداتیں جب کھولنی شروع کیں اور طاقت کے ایوانوں کی کہانیاں منظر عام پر ائیں تو عالمی ایوانوں میں زلزلے آگئے۔اس کے مقابلے میں اسلام کے نظام عدل کے قیام کے لیے غزوات اور سریہ میں تقریباً 300 لوگوں کی جانیں گئیں۔

اسی لیے دنیا کے مفکرین اسلامی انقلاب کو Blood less revolution قرار دیتے ہیں۔ آج پھر انسانیت قران کے اس سوشل جسٹس نظام کو پکار پکار کر نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے اسلام کا قانون عدل ہی قانون قصاص ہے۔ ولکم فی القصاص حیات یا اولی الباب۔ "اے عقلمندوں قصاص میں ہی تمہاری زندگی ہے”۔ قاتل کو قتل کیا جائے اور زمین میں فساد کرنے والوں کو قتل کیا جائے تاکہ انسانی جان و مال کا تحفظ ہو سکے۔اسلام کا قانون قصاص صرف شزا نہیں بلکہ زندگی کا ضامن ہے۔اس کا مقصد صرف انتقام نہیں بلکہ انصاف ، توازن اور انسانی جان کا تحفظ ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے زندگی کہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button