بر صغیر پاک و ہند میں آنکھ کھولنے والے محبت کی ان لوگ داستانوں سے بخوبی واقف ہوں گے جنہیں مثالی بنا کر ایسے پیش کیا جاتا رہا گویا انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیئےہوں، شاعری ،ڈرامے افسانے سب ان ہی کے گرد گھوم رہے ہوتےجب تجربہ کار،پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں نے ان داستانوں کو مثالی بنا کر پیش کیا تو ناسمجھی کے دور میں کہیں نہ کہیں ذہن نے یہ قبول کر لیا کہ ان داستانوں میں کوئی تو قابل تعریف پہلو ہوگا۔۔۔
جب شعور کے در وا ہوئے اورعلم کی سرحدوں پر قدم رکھا تو رب کی بندے اور بندے کی رب سے محبت سمجھ آئی، پھر سیرت کا مطالعہ کیا تو ادراک ہوا کہ اصل محبت تو یہی ہے، رب کی بندے سے محبت کا تو شمار ہی نہیں ۔یہ محبت ہی تو ہے کہ اپنی مخلوق کی ہدایت کیلئے رب نے نبیﷺ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کائنات میں ایسے انمول نگینے کی طرح جڑ دیا جس کی روشنی سے کائنات کا ذرہ ذرہ روشن ہو گیا ،وہ حیرت انگیز ہستی جنہیں مائیکل ہارٹ اپنی کتاب” 100 پراثر شخصیات "میں صف اول پر رکھنے پر مجبور ہو ا۔ بدر و حنین کے سپہ سالار کی ہمہ گیر شخصیت کا یہ عالم کہ کوئی بادشاہ ہو، سپہ سالار ،تاجر معلم، مربی ،قاضی ،باپ، شوہر، بھائی غرض ہر شعبے اور ہر رشتے میں انکی دائمی، آخری جامع اور عالمگیر رہنمائی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
سیرت کو پڑھتے جائیں اور ان کی شخصیت کے سحر میں پور پور ڈوبتے جائیں، انہوں نے جو قربانیاں امت مسلمہ کے لیےدیں ان کو پڑھتے ہوئے کون ذی ہوش ہے جسکی آنکھوں سےاشکوں کی برسات جاری نہ ہو ۔ سیرت کا مطالعہ کیا تو سمجھ آیا کہ صحابہ کرام کی محبت نبیﷺ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اتنی شدید کیوں تھی، کیوں وہ کٹنے مرنے کو تیار رہتے ،کیوں انکے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہتے ، کیوں ایسی عقیدت کہ وضو کا پانی زمین پر نہ گرنے دیتے، ہر ہر جنبش اور ہر ہر عادت کی اتباع کرتے۔سیرت کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں اپنی خود نصیبی پر رشک آیا کہ ہم ایسے نبیﷺ کے امتی ہیں جنکی تعریف کرتے غیر مسلم نہیں تھکتے۔۔۔وہیں یہ فکر بھی لاحق ہوئی کہ اپنی نسلوں کو اصل محبت کی یہ داستانیں سنانےاور سیرت سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے،تاکہ دنیاوی کھوکھلی محبتوں کی جگہ اصل محبت دلوں میں پروان چڑھے اور انہیں اطاعت رب کی راہ پر گامزن کردے ۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ صحابہ کرام (رض) نے نبیﷺ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کیسی اطاعت کی ،اصحاب نبیﷺ اپنا مال اور جان ہتھیلی پر رکھ کر نبیﷺ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتے تھے کہ جب حکم ہو اوران پر قربان کردیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے ساری دولت غزوہ تبوک کے لیے نبیﷺ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی، وقت ہجرت جب غار ثور میں پناہ لینے کے لیے پہنچے تو ابوبکر صدیق پہلے خود داخل ہوئے تاکہ کوئی خطرہ ہو تو اس کا سامنا وہ کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم محفوظ رہیں، انہوں نےغار کے تمام سوراخ اپنی تہ بند سے بند کر دیئے تاہم دو سوراخ بند کرنے سے رہ گئے تو انہوں نے اپنے پاؤں ان پہ رکھ دیئے، جب نبیﷺ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کی آغوش میں سو گئے تو سوراخ پر رکھے پاؤں پر کسی چیز نے ڈس لیا، شدت تکلیف سے ان کے آنسو ٹپکنے لگے مگر وہ ہلے تک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نہ کھل جائے قربان ہو جانے کو دل چاہتا ہے ایسی لازوال محبت ۔۔۔۔
حضرت علی (رض) بھی پیچھے نہ رہے،بوقت ہجرت نبیﷺ جب گھر چھوڑ رہے تھے تو حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے اور ان کی سبز خضرمی چادر اوڑھ کر سو گئے تاکہ کفار مکہ قتل کے ارادے سے آئیں تو انکو پائیں اور نبیﷺ محفوظ رہیں۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت لینے والے اسلام کے وفادار صحابہ کرام جنہوں نے بے تحاشا مظالم سہے ان میں حضرت حمزہ جو غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔
حضرت بلال حبشی جن کو دہکتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا گیا زنجیروں سے باندھا گیا مگر زبان پر احد احد رہا ۔
حضرت خباب بن ارت آگ پر لٹائے گئے کنگھیوں سے جسم چھلنی کیا گیا مگر پھر بھی ایمان پر ڈٹے رہے۔
مصعب بن عمیر جو انتہائی مالدار ہونے کے باوجود اپنی تمام دولت چھوڑ کر دائرہ اسلام میں آئے بے پناہ سختیاں برداشت کیں، مظالم سہے اور غزوہ احد میں اسلام کا علم اٹھائے شہید ہو گئے کفن بھی ان کو پورا نہ مل سکا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے سب سے پہلے قریش کے مجمع میں سورہ رحمن کی تلاوت کی کفار نے سخت مارا پیٹا لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے ۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ غزوہ احد میں دشمن کے تیروں اور تلواروں کے سامنے نبیﷺ کی ڈھال بنے رہے اپنے ہاتھ پر اتنے تیر کھائے کہ ہاتھ شل ہو گئے مگر نبیﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے خود کو اس فرمان رسول کا مستحق بنایا کہ” جس نے آج طلحہ کو دیکھا ہے اس نے ایک زندہ شہید کو دیکھا ہے”۔
حضرت سعد بن ابی وقاص نہایت ماہر تیر انداز تھے جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر بکرا پکڑا کر دے رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے
” مارو سعد تم پر میرے ماں باپ قربان” یہ الفاظ انہوں نے کبھی کسی اور کے لیے نہیں فرمائے۔
حضرت مالک بن سنان رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے زخم سے بہنے والا خون چوما تاکہ زمین پر نہ گرے ۔
غزوہ بدر میں حضرت علی حضرت حمزہ حضرت عبید بن حارث ،سعد بن معاذ سمیت صحابہ کی پوری فوج نے نبیﷺ کے گرد گھیرا ڈال کر انکی حفاظت کی۔
حضرت ابو دجانہ نے دشمن کے تیروں کے سامنےکھڑے ہوکر اپنی پیٹھ نبیﷺ کی طرف کر دی زخمی ہوتے رہے مگر نبیﷺ کو آنچ نہ آنے دی۔
ان واقعات سےجان کی بازی لگا دینے والے صحابہ کی محبت اور ایمان کی پختگی کا اندازہ اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔
صحابیات کے ایمان کی مضبوطی بھی کسی سے کم نہ تھی
حضرت خدیجہ نے اپنا سارا مال اسلام کے لیے وقف کر دیا ،ہر موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بند ھائی ، شعب ابی طالب کی سختیوں میں وہ آپ کے ہم قدم رہیں۔
ام عمارہ غزوہ احد میں نبیﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر زخم کھاتی اور تلوار کے ساتھ ان کا دفاع کرتی رہیں، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا !
"جہاں بھی دائیں بائیں نظر ڈال رہا تھا ام عمارہ کو اپنے سامنے پا رہا تھا "۔
ہجرت کی رات اسماء بنت ابی بکر نے دشمنان اسلام کی موجودگی میں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پہنچا کر "ذات النطاقین "کا لقب حاصل کیا۔
حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اسلام کی پہلی شہیدہ کا اعزاز ملا۔
یہ تو محض چند مثالیں ہیں، ایسی لازوال مثالوں سے پوری اسلامی تاریخ بھری ہوئی ہے ، تاریخی اوراق پلٹتے جائیں عقیدت و محبت کے سمندر کو اپنے اندر اتارتے جائیں۔۔۔۔
اصحاب کی ساری زندگی اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں گزری اور نبیﷺ کے بعد انکا سفر جاری رہا، ماہ ربیع الاول تب بھی آیا مگر انہوں نے جھنڈے لہرا کر اور نعرے لگا کر اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا بلکہ نبیﷺ کے مشن کو آگے بڑھایا ،چراغاں کرکے مسلمان ہونے کا حق ادا نہیں کیا بلکہ جنگیں لڑیں ،فتوحات کرتے رہے اور اسلام کا دائرہ بڑھاتے رہے۔
جلوس نکالنے اور پکوان بانٹنے کی بجائے نبیﷺ کی تعلیمات کو پھیلانے میں وقت لگایا، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل رہے، رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تدوین حدیث کے سلسلے میں کوششیں کیں ،ایک ایک حدیث کی تلاش میں کئی کئی دنوں کا سفر کیا ،بڑی بڑی طاقتوں کا قلع قمع کرکے عرب کے چپے چپے میں اسلام کا نور پھیلایا۔ دنیا کی رنگینیوں کے حوالےکبھی خود کو نہ کیا نہ نبیﷺ کے ساتھ اور نہ نبیﷺ کے بعد۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کی تمام کاوشیں اپنی امت کیلئے یعنی ہمارے لئے تھیں، تو ذرا سوچئےکیا آج ہم ان کی انتھک محنت کا حق ادا کر رہے ہیں؟
ہم نبیﷺ کی سب سے بڑی سنت دعوت دین کی کوششوں میں سرگرداں ہیں؟
کیا ہم ربیع الاول میں ہی سہی بطور تشکر نبیﷺ کی سنتوں کو زندہ کرتے ہیں؟
کیا غلط سنتوں کے سد باب کیلئے کو شاں ہیں؟
کیا ہم نبیﷺ کی اتباع صحابہ کرام کی طرح کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ؟
کیا ہم خلافت کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟
کیا ہم سابقون و اولون بننے کی جدوجہد کرتے ہیں؟
اگر ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو سمجھ لیجیے یہ نبیﷺ کی محبت نہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ ہے جس میں ہم بھاگے چلے جارہے ہیں۔۔۔
یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے اور سنت سے دوری کی علامت بھی ۔۔۔۔



