لکی مروت،بنوں،پشاور(ویب ڈیسک) پشاور کے علاقے ارمڑ میں مسجد کی دیوار کے قریب بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں عالم دین مفتی منیر شاکر شہید اور 3افراد زخمی ہو گئے۔

خیبر پختونخوا کے 2اضلاع لکی مروت اور بنوں میں 4 پولیس سٹیشنوں اورایک چوکی پر دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنادیا گیا، جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ 2پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
لکی مروت پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رات گئے دادی والا اور پیزو تھانوں پر حملہ کی لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کر کے دونوں حملے ناکام بنا دیے اور حملہ آور پسپا ہو گئے، دونوں حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ دہشت گردوں نے لکی مروت کے لنڈیواہ روڈ پر سڑک کنارے نصب بم کے ذریعے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیاجبکہ دوسرا فرار ہو گیا ۔
دوسری جانب بنوں میں تھانہ بکاخیل ،تھانہ غوری والہ اور ایک کھوجری پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے اور شدید فائرنگ کی ،اہلکاروں نے بروقت کارروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہو گئے۔
پولیس چوکی پر حملے کے بعد گاؤں کے رہائشی ہتھیاروں کے ساتھ باہر نکل آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم چیک پوسٹ کی حفاظت کریں گے، گاؤں والوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
پولیس کے مطابق علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، عوام نےپولیس کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے تھانوں پر دہشت گردوں کے حملے ناکام بنانے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں 2 زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ پولیس فورس کے جوان دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں،انہوں نے اہلکاروں کیلئے تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات کا بھی اعلان کیا۔علاوہ ازیں
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ مفتی منیر شاکر کی شہادت کا سن کر شدید افسوس ہوا۔



