بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریںکالم

رشتے زمین اور عدم اعتماد کی نفسیات

معاشرتی ارتقا کے اس عہد میں جہاں اقدار کی بنیادیں خاموشی سے تبدیل ہو رہی ہیں وہاں نکاح جیسے مقدس اور روحانی بندھن کو بھی مادی مفادات کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا ہے۔ کبھی مہر کی مقدار زیربحث آتی ہے کبھی رہائش کا انتظام اور اب ایک نیا رجحان شدت سے ابھرا ہے کہ زمین پہلے بیٹی کے نام کی جائے یا کم از کم اس کی باقاعدہ منتقلی کی تحریری ضمانت دی جائے۔ دوسری طرف بیٹے والے یہ کہہ کر خود کو مطمئن سمجھتے ہیں کہ ہم لکھ کر دینے کو تیار ہیں مگر نام منتقل نہیں کریں گے۔ یہ جملے محض الفاظ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی نفسیاتی ساخت کی عکاسی کرتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ زمین کس کے نام ہو گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اعتماد کس کے دل میں ہو گا۔

اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے سکون مودت اور رحمت کا سرچشمہ بتایا ہے۔ زوجین کے باہمی حقوق اور وراثت کے منصفانہ اصول ہمیں القرآن میں وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں خصوصاً سورۃ النساء میں جہاں تقسیم میراث کا ایسا عادلانہ نظام بیان ہوا ہے جس کی مثال قدیم معاشروں میں نایاب تھی۔ اس نظام کی روح یہ ہے کہ ملکیت جس کے نام ہو اس کی وفات کے بعد اس کے شرعی وارث اس کے حق دار ہوں گے۔ اس میں نہ مرد کے لیے خصوصی رعایت ہے نہ عورت کے لیے امتیازی استثنا۔

مگر ہمارے معاشرے میں اس شرعی اصول کو اکثر خوف کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ لڑکے والوں کے ذہن میں یہ خدشہ ابھرتا ہے کہ اگر زمین بیوی کے نام کر دی گئی اور اولاد نہ ہوئی تو اس کی وفات کے بعد جائیداد اس کے میکے کے وارثوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ بظاہر یہ اندیشہ قانون کی رو سے ممکن ہے لیکن یہی اصول اس وقت بھی لاگو ہوتا ہے جب زمین شوہر کے نام ہو اور اولاد نہ ہو۔ ایسی صورت میں بیوی بھی اس کی وارث بنتی ہے۔ فقہ اسلامی کی معتبر کتب مثلاً الدر المختار اور اس کی شرح رد المحتار میں اس توازن کو پوری صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔

یوں مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔

بدقسمتی سے ہم نے رشتوں کو ضمانت کی تحریروں میں قید کرنا شروع کر دیا ہے۔ والدین بیٹی کے مستقبل کے تحفظ کے لیے بے چین ہیں جو ان کا فطری حق ہے مگر تحفظ کا واحد ذریعہ جائیداد کی منتقلی کو سمجھ لینا ایک فکری مغالطہ ہے۔ اسی طرح بیٹے والے اپنی ملکیت کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس نکتے کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ نکاح اعتماد کا نام ہے لین دین کا نہیں۔

یہ رجحان ہماری نئی نسل کی ذہنی ساخت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ شادی سے پہلے زمین اور اثاثوں کی شرطیں طے ہو رہی ہیں تو ان کے دلوں میں بھی محبت سے پہلے مفاد جگہ بنانے لگتا ہے۔ نتیجتاً نکاح کی روحانی معنویت کمزور پڑتی ہے اور مادی مفاد مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ رشتہ زمین کے کاغذات سے مضبوط نہیں ہوتا بلکہ کردار کی مضبوطی سے ہوتا ہے۔ اگر نیت صاف ہو اور خاندانوں میں باہمی احترام موجود ہو تو زمین ہو یا نہ ہو زندگی کا سفر آسان رہتا ہے۔ اور اگر دلوں میں شک کی دیواریں کھڑی ہوں تو لاکھ تحریری معاہدے بھی سکون نہیں دے سکتے۔

اسلام نے مہر کا نظام اسی لیے مقرر کیا کہ عورت کی عزت اور معاشی تحفظ کا واضح حق ہو۔ وراثت کا عادلانہ ڈھانچہ اسی لیے دیا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اگر ہم ان اصولوں کی روح کو سمجھ لیں تو اضافی شرائط کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہبہ کی صورت میں جائیداد دینا ہو تو صاف اور قانونی طریقے سے دیا جا سکتا ہے اور اگر تحفظ مطلوب ہو تو معقول مہر اور اخلاقی ذمہ داریوں کی پاسداری ہی اصل ضمانت ہے۔

اصل بحران زمین کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ جب اعتماد زندہ ہو تو زمین برکت بن جاتی ہے اور جب اعتماد مر جائے تو زمین نزاع کا سبب بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو کیسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں رشتے کاغذی ضمانتوں پر قائم ہوں یا ایسا جہاں کردار اور دیانت بنیادی سرمایہ ہو۔

زمین کی ملکیت وقتی ہے مگر رشتوں کی معنویت دائمی ہو سکتی ہے بشرطیکہ ہم انہیں مفاد کی عینک سے دیکھنا چھوڑ دیں۔ نکاح اگر اخلاص پر قائم ہو تو وہی سب سے بڑی ضمانت ہے اور اگر اخلاص نہ ہو تو کوئی زمین کسی کو مطمئن نہیں کر سکتی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button