انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

طاقت کا نشہ اور تاریخ کا طمانچہ

بزرگوں کی ایک دانا مثال ہے کہ بھاگتے کو بھگانا عقل مندی ہے، مگر جو پہلے ہی آپ سے مرعوب ہو، اسے روک کر اپنے سامنے لا کھڑا کرنا بعض اوقات اپنے چہرے پر خود طمانچہ رسید کرانے کے مترادف ہوتا ہے۔ عزت وہی قائم رہتی ہے جو فاصلے اور وقار کے ساتھ برقرار رکھی جائے؛ کمزور سمجھ کر کسی کو للکارنا اکثر طاقت کے زعم کو رسوائی میں بدل دیتا ہے۔ ریاستوں کی سیاست بھی اسی انسانی نفسیات کی توسیع ہے۔ جو ملک آپ سے خوف زدہ ہو یا محتاط رویہ رکھتا ہو، اسے دیوار سے لگانے کی کوشش بعض اوقات غیر متوقع ردعمل کو جنم دیتی ہے، اور پھر طاقتور سمجھا جانے والا فریق خود امتحان میں آ کھڑا ہوتا ہے۔

عالمی تاریخ میں اس کی واضح مثال افغانستان ہے۔ 2001 میں United States نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان میں فوجی مہم کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اسے محدود اور فیصلہ کن کارروائی سمجھا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ جنگ طویل ترین امریکی عسکری مہم بن گئی۔ بیس برس بعد انخلا اس حقیقت کی علامت تھا کہ عسکری طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود زمینی حقائق، مقامی مزاحمت اور طویل المدتی سیاسی پیچیدگیاں کسی بھی سپر پاور کو تھکا سکتی ہیں۔ طاقت کا مظاہرہ آسان تھا، مگر انجام پیچیدہ اور مہنگا ثابت ہوا۔

جنوبی ایشیا میں بھی طاقت کے زعم کا امتحان ہو چکا ہے۔ India نے گزشتہ دہائی میں اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے پر خطیر سرمایہ خرچ کیا، جدید طیارے، ڈرونز اور ٹیکنالوجی حاصل کی۔ اس پس منظر میں جب اس نے Pakistan کی سلامتی کو چیلنج کیا تو خیال یہی تھا کہ معاشی دباؤ اور داخلی مشکلات میں گھرا ملک مؤثر جواب نہیں دے سکے گا۔ مگر کشیدگی کے اس مرحلے پر حالات نے ثابت کیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں؛ حکمت عملی، پیشہ ورانہ تیاری اور قومی عزم بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس بحران کے بعد عالمی مبصرین نے دیکھا کہ طاقت کا توازن محض دفاعی خریداری سے طے نہیں ہوتا، بلکہ ردعمل کی صلاحیت اور سیاسی استحکام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

آج جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے تو یہی تاریخی سبق ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف Dan Caine نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرات پر محتاط رہنے کی ضرورت اجاگر کی ہے، جبکہ صدر Donald Trump نے جنگ سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے۔ ایران کا جغرافیہ، علاقائی اثر و رسوخ اور توانائی کی عالمی منڈی سے وابستگی اسے ایک سادہ ہدف نہیں بناتے۔ کسی بھی بڑی کارروائی کے اثرات خلیج فارس سے نکل کر عالمی معیشت تک محسوس ہو سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں China اور Russia کی پوزیشن بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک ایران کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط رکھتے ہیں، مگر براہِ راست تصادم میں کودنے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم عالمی طاقتوں کی بالواسطہ حمایت، سفارتی کور اور اقتصادی راستے کسی بھی تنازع کو طول دے سکتے ہیں، جس سے ابتدائی طور پر “آسان” سمجھی جانے والی مہم طویل الجھاؤ میں بدل سکتی ہے۔

تاریخ کا سبق سادہ مگر گہرا ہے: جو ریاست طاقت کے نشے میں مخالف کو کمتر سمجھتی ہے، وہ اکثر مزاحمت کی اس شدت کا اندازہ نہیں لگا پاتی جو عزت اور بقا کے احساس سے جنم لیتی ہے۔ وقار اسی میں ہے کہ طاقت کو حکمت کے تابع رکھا جائے۔ بصورت دیگر، جو مقابل پہلے سے خاموش تھا، اسے للکار کر میدان میں لانا کبھی کبھی اپنے ہی وقار کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ عالمی سیاست میں اصل دانش یہی ہے کہ ہر جنگ جیتنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سی جنگ لڑنی ہی نہیں چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button