دریائے سوات بھپر گیا،ایک ہی خاندان کے18افرادسمیت 75 بہہ گئے،10لاشیں برآمد
سیاح دریا کنارے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھےکہ اچانک بڑے ریلے نے آلیا، 55افرادریسکیو ، 20کی تلاش جاری،صدر، وزیراعظم اور دیگر کادکھ کا اظہار، متعدد افسر معطل، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
پشاور ، سوات:(ویب ڈیسک )خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر گیا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 18افراد سمیت 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے، جن میں سے 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور 55 سے زائد افراد کو ریسکیوکرلیا گیا جبکہ 20 سے زائدکی تلاش جاری ہے۔
ریسکیو ترجمان نیاز احمد خان کے مطابق ضلع سوات میں موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی اور 7 مقامات پر درجنوں افراد بہہ گئے۔متاثرہ خاندان کے رکن احمد علی نے بتایا کہ ہم ناشتہ کر کے دریا کنارے بیٹھے تھے، بچے سیلفیاں لے رہے تھے کہ بارش شروع ہوئی، اچانک پانی کا ریلا آیا اور ہمیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
ڈسکہ کے 18افراد حادثے کا شکار ہوئے جن میں عبدالرحمٰن کی دو بیٹیاں، داماد، بہو اور ان کے بچے شامل تھے، عبدالرحمٰن کی بہو روبینہ کوثر15سالہ بیٹا عبد اﷲ ، 21سالہ بیٹی تزمین ،19سالہ بیٹی شرمین ،عبدالرحمٰن کی بیٹی فوزیہ ، داماد محسن اور ان کی بیٹیاں 17سالہ میرب، 15 سالہ عجوہ، 13سالہ عشال، 9 سالہ انفال ، عبدالرحمٰن کی بیٹی عائشہ زوجہ شہباز، ان کی بیٹی 12سالہ آئما، 9سالہ بیٹا بیٹا ایان، 5 سالہ زیان ، 3سالہ زوہان شامل ہیں۔
بائی پاس کے مقام پر موجود شہریوں عابد علی جان اور عزیز الحق کے مطابق سیالکوٹ ڈسکہ اور مردان سے تعلق رکھنے والی 3 فیملیاں دریا کے کنارے بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں جو غیر قانونی طور پر کھودا گیا تھا، دریا میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوئی اور ٹیلہ پانی میں گھر گیا، وہ لوگ کنارے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ درمیان میں گہرے گڑھے تھے اور پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔عینی شاہدین کے مطابق پانی کا ریلا ایک ایک کرکے وہاں موجود تمام افراد کو بہاکر لے گیا۔
مقامی افراد کے مطابق انہوں نے فوراً ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی لیکن امدادی ٹیمیں کافی تاخیر سے پہنچیں، جب وہ پہنچے تب تک 8 لاشیں ہسپتال پہنچائی جاچکی تھیں۔واقعہ کی خوفناک فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں جن میں خواتین اور بچوں سمیت ایک درجن افراد کو مٹی کے ٹیلے پر پھنسا ہوا دیکھا جاسکتا ہے اور کچھ ہی دیر میں تمام افراد دریا کی نذر ہو گئے۔ ریسکیو کے مطابق امام ڈھیرئی میں 22 افراد سیلاب میں پھنس گئے تھے جنہیں بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔غالیگے کے مقام پر 7 افراد سیلاب میں پھنس گئے، ایک شخص کی لاش برآمد ہوگئی اور دیگر کی تلاش میں آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو کا کہنا ہے کہ مانیار میں 7 افراد پھنس گئے جنہیں نکالنے کیلئے کارروائی جاری ہے، اسی طرح پنجیگرام میں بھی ایک شخص سیلاب میں پھنس گیا۔مٹہ کے علاقے برہ بامہ خیلہ میں 20 سے 30 افراد سیلاب میں پھنس گئے جنہیں بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔دریں اثنا پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہنچ گئی، ضروری ساز و سامان سے لیس فوجی دستے ریسکیو اور ریلیف مشن میں شریک ہیں ، اب تک 3لوگوں کو زندہ بچایا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ایبٹ آباد میں بھی طوفانی بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، سڑکوں،گلیوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ گلیات کنڈلہ کے مقام پردرخت گرنے سے سڑک بند ہوگئی اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، ایک سیاح کی کار دریا میں گر کر تباہ ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق مون سون بارشوں کے پیش نظر دریا کے کنارے جانے پر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے لیکن سیاحوں کی لاپروائی اور وارننگز کو نظر انداز کرنے کی روش نے یہ سانحہ جنم دیا۔
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اورچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سیلابی ریلے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ جاں بحق افراد کو جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لاپتہ افراد کو جلد تلاش کرنے، این ڈی ایم اے، انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو دریاؤں و ندی نالوں کے قریب حفاظتی تدابیر مزید مربوط بنانے کی ہدایت کی۔کے پی حکومت نے سیاحوں کے ڈوبنے کے واقعات پر ناقص کارکردگی پر متعدد افسران کو معطل کر دیا گیا۔
ترجمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق جاں بحق افراد کے ورثاکو فی کس 10 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی، تحقیقات کیلئے وزیراعلیٰ کے حکم پرانکوائری ٹیم تشکیل دےدی گئی ہے جو سانحہ کی وجوہات اورذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پرناقص کارکردگی پرمتعدد افسران معطل کر دیے گئے ہیں جن میں اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی بھی شامل ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کو پیشگی وارننگ نہ دینے اور اے ڈی سی ریلیف پیشگی انتظامات نہ کرنے پرمعطل کردیا گیا۔ریسکیو1122کےضلعی انچارج کو بھی فوری معطل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔



