پاکستانتازہ ترین

فارم 47 کی وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی فکر چھوڑے، اپنی فکر کرے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

کبل خودکش حملے کے بعد سوات کا ہنگامی دورہ، شہداء کے لواحقین سے تعزیت، امن کی بحالی ہر قیمت پر یقینی بنانے کا عزم

سوات/پشاور/جنوبی وزیرستان (سی این این اردو – ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کبل پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش حملے کے بعد سوات کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا، زخمیوں کی عیادت کی اور واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "فارم 47 کی وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی فکر چھوڑے، اپنی فکر کرے۔”

وزیراعلیٰ کے ہمراہ معاون خصوصی برائے داخلہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

بعد ازاں سہیل آفریدی نے سیدو شریف ٹیچنگ اسپتال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زخمی پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور علاج میں کسی قسم کی غفلت نہ برتنے کی ہدایت کی۔

امن و امان پر اعلیٰ سطح اجلاس

دورے کے دوران وزیراعلیٰ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خودکش حملے کی تحقیقات، سکیورٹی انتظامات اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار مزید بہتر بنا رہی ہے اور امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اس لیے صوبے میں امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی حکومت پر تنقید

زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنا خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کی ذمہ داری ہے اور یہی ادارے امن بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پولیس کو جدید آلات، اسلحہ اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 35 ارب روپے سے زائد فراہم کیے ہیں۔

وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا:

"وفاقی حکومت فارم 47 کے تحت آئی ہے، اسے خیبرپختونخوا کی فکر چھوڑ کر اپنی گرتی ہوئی معیشت کی فکر کرنی چاہیے۔ آئی پی پیز کی مد میں ہزاروں ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ ملکی جی ڈی پی مسلسل نیچے جا رہی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام کے مینڈیٹ سے منتخب حکومت قائم ہے اور صوبائی حکومت عوامی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھے گی۔

دہشت گردی وفاق کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ قرار

اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں دہشت گردی کی حالیہ لہر وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دوبارہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور امن ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

کبل خودکش حملے میں شہداء کی تعداد 17 ہوگئی

دوسری جانب سوات کے علاقے کبل میں تھانے کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق شہداء میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں جبکہ 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی پولیس کانسٹیبل مکرم خان بھی دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

حملے میں شہید ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی جبکہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

خودکش حملہ آور کی شناخت

انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے میڈیا کو بتایا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ دوسرے حملہ آور کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کا تعاقب کر رہے ہیں اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جنوبی وزیرستان میں مفتی جنا میر جاں بحق

ادھر جنوبی وزیرستان کے رستم بازار میں ایک دھماکے کے نتیجے میں معروف مذہبی و سماجی شخصیت مفتی جنا میر جاں بحق ہوگئے۔

ڈی ایس پی اصغر علی شاہ کے مطابق نامعلوم افراد نے بازار کی ایک عمارت کے نچلے حصے میں بارودی مواد نصب کیا تھا، جو دھماکے کا سبب بنا۔

ذرائع کے مطابق مفتی جنا میر علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے سرگرم تھے اور مختلف قومی امن جرگوں میں بطور مقرر بھی شرکت کرتے رہے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button