پنجاب پولیس میں حال ہی میں قائم ہونے والے خصوصی یونٹ کرائم کاؤنٹر ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے اپنے آغاز ہی سے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔اس یونٹ کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے پاس ہے، جن کی قیادت میں متعدد خطرناک اور ریکارڈ یافتہ ملزمان کو مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔جہاں ایک طرف حکام اس نئے یونٹ کو مؤثر پولیسنگ کی علامت قرار دے رہے ہیں، وہیں یہ اچانک کامیابی کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
برسوں بعد کامیابی کیوں؟عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ وہی پولیس جو سالہا سال سے جرائم کے خلاف موثر کارروائی نہ کر سکی، اب اچانک اتنی مؤثر کیسے ہو گئی؟پنجاب پولیس کا سالانہ بجٹ اربوں روپے پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باوجود قتل، ڈکیتی، اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم طویل عرصے سے قابو سے باہر دکھائی دیتے تھے۔اب جب کہ سی سی ڈی کے تحت ملزمان کی بڑی تعداد پولیس مقابلوں میں مارے جا رہی ہے، تو یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہیں ماضی میں پولیس بے بس تھی، یا بعض عناصر جرائم پیشہ گروہوں سے کسی نہ کسی طور منسلک تھی۔
ماضی میں بھی پولیس کے کئی شعبے بنائے گئے لیکن نتائج زیادہ تر کاغذی کارروائیوں تک محدود رہے۔سی سی ڈی کی کامیابی کو اکثر ماہرین اس کی قیادت سے جوڑتے ہیں،ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کو ایک نڈر اور پیشہ ور افسر کے طور پر سراہا جا رہا ہے ان کے آنے کے بعد بظاہر پولیس کی کارروائیاں منظم، تیز رفتار اور ہدفی ہو گئی ہیں۔
اب یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر یا تو پنجاب چھوڑنے پر مجبور ہیں یا سیاسی پناہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔پولیس مقابلے اور ماضی کا سچ یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہو۔تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ان مقابلوں کے بعد بھی جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بلکہ ان مواقع پر پولیس افسران کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ ضرور نوٹ کیا گیا۔
لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں ہونے والا واقعہ اس کی ایک مثال ہے، جہاں دوران واردات مزاحمت پر ایک بینک منیجر کو قتل کر دیا گیا۔واقعے کے بعد پولیس تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سی آئی اے کاہنہ کے ایک سب انسپکٹر کا ملزمان کے ساتھ رابطہ تھا۔یہی افسر بعد میں آلہ قتل کو تبدیل کر کے فرانزک کے لیے بھجواتا ہے تاکہ ملزمان کو فائدہ ہو۔تاہم فرانزک رپورٹ منفی آنے پر اعلیٰ افسران کو شبہ ہوا اور موبائل ڈیٹا کی مدد سے افسر اور ملزمان کے روابط کی تصدیق ہوئی۔نتیجتاً تفتیشی افسر کے خلاف انکوائری ہوئی اور کارروائی کی گئی۔
یہ واقعہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ احتساب کا عمل سست مگر ممکن ہے، بشرطیکہ کوئی بااثر مدعی میدان میں ہو۔عام شہری کا مسئلہ کیا ہے؟پولیس میں احتساب کا عمل صرف اس وقت فعال ہوتا ہے جب شکایت کنندہ کے پاس سفارش، اثر و رسوخ یا میڈیا کا سہارا ہو۔عام سائل کو عموماً تفتیشی افسر اور مقامی بااثر افراد کے بیچ مفاہمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں بعض اوقات اشٹام پیپر پر معافی لے کر انکوائری بند کر دی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ افسران موٹر سائیکل سے مہنگی گاڑیوں تک کے سفر میں کامیاب رہے۔
خاموشیوں کے پیچھے کی چیخ: ’حمیدا کروڑپتی‘ کی کہانی پنجاب کا ایک بدنام زمانہ مجرم حمیدا عرف کروڑپتی کئی بار گرفتار ہوا، مگر ہر بار کچھ ہی مہینوں میں جیل سے باہر آ گیا۔وجہ؟ پولیس اہلکار اس کے خلاف تمام مقدمات ایک ہی چالان میں شامل کر کے بھیج دیتے، جس سے وہ معمولی سزا کاٹ کر رہا ہو جاتابعد ازاں وہ قتل ہو گیا۔
کہا جاتا ہے کہ اس کی موت نے ان پولیس اہلکاروں کو ریلیف دیا جو اس کے ذریعے فوائد حاصل کرتے رہے تھے۔کیونکہ اس کی موت کے بعد ان کے خلاف کوئی ثبوت باقی نہیں رہا۔
تبدیلی کہاں ہے: فرد میں یا نظام میں؟سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک افسر کی تبدیلی نے سب کچھ بدل دیا ہے؟یا یہ کسی بڑی پالیسی شفٹ، حکومتی ارادے یا خفیہ آپریشن کی علامت ہے؟اگر واقعی سہیل ظفر چھٹہ نےنا ممکن کو ممکن بنایا ہے، تو کیا پنجاب پولیس پہلے بھی یہ سب کچھ کر سکتی تھی لیکن نیت کی کمی تھی؟مستقبل کیا ہو گا؟سی سی ڈی کی کامیابیاں فی الحال متاثرکن دکھائی دیتی ہیں، لیکن کیا یہ رفتار برقرار رہے گی؟کیا یہ تمام پولیس مقابلے شفاف تحقیقات کے مراحل سے بھی گزریں گے؟یا چند ماہ بعد یہ نظام بھی کسی نئی فائل میں دفن ہو جائے گا؟
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



