انٹر نیشنلبلاگتازہ ترینجرم-وسزا

قاتلانہ حملے،کون سے امریکی صدور کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا؟

ابراہام لنکن کو 1865ء میں واشنگٹن کےتھیٹر میں گولی ماری گئی، جیمز گارفیلڈ،ولیم میکنلی ، جان ایف کینیڈی بھی ہلاک،رونلڈ ریگن ، تھیوڈور روزویلٹ ، ٹرمپ بچ نکلنے والوں میں شامل

واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکہ میں صدور پر قاتلانہ حملوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، لگ بھگ ڈیڑھ سو سالوں میں متعدد امریکی صدور پر حملے ہوئے اور چار صدور کو دوران صدارت اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔امریکی تاریخ کے انتہائی اہم رہنما، ملک کےسولہویں صدر اور خانہ جنگی کے دوران ملک کی قیادت کرنے والے ابراہام لنکن کو 1865میں قتل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے طویل اور اعصاب شکن جدوجہد کے بعد ملک سے غلامی کا خاتمہ کیا تھا۔ معروف اداکار جان ولکس بوتھ نے 14اپریل 1865ء کو واشنگٹن کے فورڈز تھیٹر میں صدر ابراہام لنکن کو اس وقت پیچھے سے سر میں گولی ماری جب وہ ڈرامہ ’’آور امیریکن کزن‘‘ دیکھ رہے تھے۔ صدر ابراہام کو ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ اگلے روز 15اپریل 1865ءکو انتقال کر گئے۔

امریکہ کے بیسویں صدر جیمز ابرام گارفیلڈ کو 2جولائی 1881ء کو چارلس جے گوٹیو نے واشنگٹن کے بالٹی مور اینڈ پوٹومیک ریل روڈ سٹیشن پر گولی ماری، وہ اڑھائی ماہ سے زائد زیر علاج رہے تاہم زخموں کی وجہ سے انفیکشن کا شکار ہوئے اور 19ستمبر کو چل بسے۔حملہ آور چارلس گوٹیو ذہنی طور پر غیرمستحکم تھا اور اس کا یہ بھی ماننا تھا کہ اسے خدا نے صدر کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ولیم میکنلی امریکہ کے پچیسویں صدر تھے۔ ایک انتشار پسند سیاسی کارکن لیون چول گوش نے 6ستمبر 1901ء کو صدر ولیم میکنلی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ نیویارک میں پین امریکہ ایکسپوزیشن میں شریک تھے، صدر میکنلی جب لوگوں سے مل جل رہے تھے تو حملہ آور چول گوش نے انہیں دو گولیاں ماریں، صدر میکنلی چند دن زیر علاج رہے اور زخموں کے باعث انفیکشن پھیلنے کی وجہ سے 14ستمبر 1901ء کو انتقال کر گئے۔

حملہ آور لیون چول گوش کو 29اکتوبر 1901ء کو سزائے موت دے دی گئی۔جان فٹزجیرالڈ کینیڈی امریکہ کے پہلے کیتھولک اور کم عمر ترین صدر تھے۔ انہیں ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں گولی ماری گئی۔حملہ آور لی ہاروے آسوالڈ سابق فوجی تھا اور اس نے 22نومبر 1963ء کو ڈلاس شہر میں اس وقت صدر جان ایف کینیڈی پر گولی چلائی جب صدارتی قافلہ ڈِی لِی پلازہ (سٹی پارک) سے گزر رہا تھا۔ حملہ آور نے صدر کینیڈی کو تین گولیاں ماریں اور وہ نصف گھنٹے بعد پارک لینڈ میموریل ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

آسوالڈ کو گرفتار کر لیا گیا تاہم دو دن بعد ایک نائٹ کلب کے مالک جیک روبی نے اسے قتل کر دیا۔صدر رونلڈ ریگن قاتلانہ حملے میں بچ نکلے تھے، 30مارچ 1981ء کو صدر ریگن واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے فائرنگ کر دی، صدر ریگن گولی لگنے سے زخمی ہوئے تاہم بچ گئے۔

سابق صدر تھیوڈور روزویلٹ 1912ء میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے، تاہم وہ اس وقت حاضر سروس صدر نہیں تھے بلکہ مدت صدارت مکمل کر چکے تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جولائی 2024 میں بٹلر،پنسلووینیا میں انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی،ایک گولی ان کے کان کے نچلے حصےمیں لگی اور وہ زخمی ہوئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button