انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیکاروبارکالم

سولرپر ٹیکس،’’سورج‘‘ بھی حکومتی گرفت میں؟

تحریر: فیاض احمد رانا

پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بحران سے نمٹنے کے لیے عوام نے جو راستہ چنا، اب حکومت اس کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں’’سولر ٹیکس‘‘ یا بارہ کلو واٹ سے زائد کے سسٹمز پر لائسنس کی فیس جیسے اقدامات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ایک ہی دہائی سنائی دے رہی ہے کہ کیا اب ’’سورج‘‘ بھی حکومتی گرفت میں ہوگا؟

گزشتہ چند سالوں میں بجلی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے اور طویل لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے نے اپنی جمع پونجی سولر سسٹمز پر لگا دی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ ماہانہ بھاری بلوں سے جان چھوٹے اور کاروبارِ زندگی سکون سے چل سکے۔ عوام نے حکومت سے کسی سبسڈی کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کر کے ملک کے توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کو عوام کا یہ’’خود کفیل‘‘ ہونا پسند نہیں آ رہا۔

حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے قومی گرڈ پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور وہ صارفین جو سولر پر شفٹ ہو گئے ہیں، وہ آئی پی پیزکے’’کپیسیٹی پیمنٹس‘‘ کے بوجھ میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ یہ منطق عوام کے لیے کسی لطیفے سے کم نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ غلط معاہدے حکومتوں نے کیے، ڈالر میں ادائیگیاں کرنے کا وعدہ ریاست نے کیا، تو اس کی سزا ان شہریوں کو کیوں دی جا رہی ہے جنہوں نے اپنے گھروں کو روشن رکھنے کے لیے متبادل توانائی کا راستہ اپنایا؟

دنیا بھر میں حکومتیں ماحول دوست توانائی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کہیں سولر پینلز پر سبسڈی دی جاتی ہے تو کہیں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شہریوں کو مالی فوائد پہنچائے جاتے ہیں تاکہ کاربن کے اخراج میں کمی آئے اور امپورٹڈ فیول پر انحصار کم ہو۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں جب عوام نے ماحول دوست توانائی کی طرف قدم بڑھایا، تو انہیں مراعات دینے کے بجائے ان پر نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ 12 کلو واٹ کی حد مقرر کرنا اور اس پر لائسنس کی شرط عائد کرنا درحقیقت اس صنعت کو ریگولیٹ کرنے کے بجائے اسے ’’کنٹرول‘‘ کرنے کی کوشش ہے۔

عوامی مسائل کے ادراک کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی معاملہ ہے۔ ایک طرف وہ اشرافیہ ہے جسے مفت بجلی اور پیٹرول کی مراعات حاصل ہیں، اور دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے قرض لے کر سولر لگواتا ہے۔ جب حکومت ایسے اقدامات کرتی ہے تو عوام میں یہ تاثر پختہ ہو جاتا ہے کہ ریاست انہیں ریلیف دینے کے بجائے صرف نچوڑنا جانتی ہے۔

سولر پر ٹیکس یا نیٹ میٹرنگ کے ریٹس میں کمی سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوں گے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی ہچکولے کھا رہی ہے، ایسے میں سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی، نہ کہ سستی بجلی پیدا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ معاہدوں کا حل عوام کی جیبوں سے نکالنے کے بجائے ان معاہدوں کی شرائط پر دوبارہ بات چیت میں تلاش کیا جائے۔ عوام کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ریاست ان کی دشمن نہیں بلکہ سرپرست ہے۔

اگر سورج کی روشنی جیسی قدرتی نعمت پر بھی پابندیاں اور فیسیں عائد کر دی گئیں، تو عام آدمی کا ریاست پر اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔ سولر ٹیکس یا اس قسم کی کوئی بھی ریگولیشن عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگی۔ درحقیقت کروڑوں پاکستانی جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی چھتوں پر لگے سولر پینلز سے بننے والی بجلی کو کم از کم حکومتی ٹیکسوں سے دور رکھا جائے۔ سورج سب کا ہے، اور اس کی روشنی پر پہرہ بٹھانا کسی بھی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button