
ہفتے کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کی میزبانی کر رہے تھے، یہ ایک سالانہ روایت ہے جہاں صحافی، سیاستدان اور اہم شخصیات آزادیِ اظہار کا جشن منانے کے لیے اکٹھی ہوتے ہیں، سب کچھ معمول کے مطابق تھا، لوگ کھانا کھا رہے تھے، بات چیت کر رہے تھے اور ماحول خوشگوار تھا، اسی دوران ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ ایک امریکی مینٹلسٹ اوز پرل مین سے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی اور اس کے فوراً بعد مسلسل گولیاں چلنے لگیں، کم از کم پانچ فائرز کی آوازوں نے پورے ہال کو ہلا کر رکھ دی۔
ہر طرف خوف پھیل گیا، لوگوں کے چہروں پر حیرت اور دہشت واضح تھی، میلانیا ٹرمپ اور اوز پرل مین کے تاثرات میں بھی شدید گھبراہٹ دیکھی گئی، اس سے پہلے کہ کوئی صورتحال کو سمجھ پاتا سیکیورٹی اہلکار حرکت میں آ گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو فوراً اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایک مسلح شخص نے شاٹ گن کے ساتھ فائرنگ کی اور اس کا نشانہ ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ بنا ، گولی اس ایجنٹ کی حفاظتی جیکٹ پر لگی جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہا، ابتدائی طور پر خود ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی لگا کہ شاید کوئی ٹرے گر گئی ہے لیکن جلد ہی صورتحال واضح ہو گئی اور سیکیورٹی نے انہیں، فرسٹ لیڈی اور کابینہ کے دیگر ارکان کو فوری طور پر ہال سے باہر نکال لیا،شئیر کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کو سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس سے تیزی سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد اہلکار اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں اور مشتبہ شخص کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا اور اندازاً پانچ سے آٹھ گولیاں چلیں۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سیکیورٹی اداروں نے بہترین کام کیا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور اگلے تیس دنوں میں دوبارہ منعقد کیا جائے گا جبکہ فرسٹ لیڈی، نائب صدر اور تمام کابینہ ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سیکرٹ سروس ایجنٹ کی بہادری کو سراہا جسے بہت قریب سے ایک طاقتور ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا تھا مگر اس کی جیکٹ نے اس کی جان بچا لی، اسی موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بات بھی کہی، انہوں نے کہا: "صدارت ایک خطرناک پروفیشن ہے”، انہوں نے سیاستدان ہونے کو ریس کار ڈرائیور یا بیل پر سواری کرنے والے کے برابر قرار دیا اور کہا کہ صدور کے گولی کا نشانہ بننے یا مارے جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور پھر انہوں نے کہا: "مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ پروفیشن اتنا خطرناک ہے”
اس واقعے کے بعد سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھنے لگے، نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر لیوک براڈ واٹر کے مطابق ہوٹل کے داخلی راستوں پر کوئی میٹل ڈیٹیکٹر موجود نہیں تھے اور مکمل سیکیورٹی حصار صرف بال روم کے اندرونی حصے کے قریب قائم کیا گیا تھا
بی بی سی کے نماءندے گیری او ڈونوہے نے اپنی رپورٹ میں یہ تک دعوی کیا کہ جب وہ نیچے بال روم میں گئے اور ایک اہلکار نے انکے جسم پر سکیورٹی سکینر پھیرا مگر انکی جیکٹ کی اندرونی جیب میں موجود سامان کی وجہ سے آنے والی بیپ کی آوازوں میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔
انھوں نے دعوی کیا کہ ان سے یہ بھی نہیں کہا گیا کہ وہ اپنا سامان نکال کر دکھاءیں ۔ گیری او ڈوبے نے لکھا کہ مختصراً سکیورٹی کا انتظام بالکل ایک عام وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر جیسا محسوس ہو رہا تھا، ایسا ڈنر جس میں موجودہ صدر شریک نہ ہو۔اب دنیا کے سب سے طاقتور ترین ملک میں صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے یہ سوال اٹھنا اپنے آپ میں عجیب ہیں ۔
گیری او ڈونوبے نے لکھا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ حملہ آور کون تھا، اور اس کے کیا مقاصد تھے امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت اکتیس سالہ کول ٹوماس ایلن کے طور پر کی گئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے ہے اور وہ اسی ہوٹل میں مقیم تھا، حکام کے مطابق ملزم پر دو سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں پرتشدد جرم کے دوران اسلحہ کا استعمال اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ شامل ہیں تاہم اب تک اس حملے کا کوئی واضح مقصد سامنے نہیں آ سکا۔۔۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس نوعیت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہو کیونکہ ماضی میں بھی وہ متعدد حملوں اور دھمکیوں کا سامنا کر چکے ہیں، جولائی دو ہزار چوبیس میں پنسلوانیا کے کے قریب بٹلر میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ایک حملہ آور نے قریبی عمارت کی چھت سے فائرنگ کی جس میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کان پر چوٹ آئی ، حملہ آور جس کی عمر بیس سال تھی کا نام تھامس کروکس تھا جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا ۔ ، اس کے چند ماہ بعد ستمبر دو ہزار چوبیس میں فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ایک مسلح شخص ریان ویسلے راؤتھ نے ٹرمپ کے گالف کورس کے قریب چھپ کر کئی ہفتوں تک حملے کی منصوبہ بندی کی اور جھاڑیوں کے پیچھے سے رائفل کا نشانہ لیا لیکن ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ نے بروقت اسے دیکھ لیا اور وہ فائرنگ سے پہلے ہی گرفتار ہو گیا، بعد میں عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر فروری دو ہزار پچیس میں عمر قید کی سزا سنائی اسی طرح فروری دو ہزار پچیس میں اکیس سالہ آسٹن ٹکر مارٹن نامی شخص شاٹ گن کے ساتھ مار اے لاگو ریزورٹ میں داخل ہوا مگر ٹرمپ وہاں موجود نہیں تھے اور سیکیورٹی نے اسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
آخر میں ایک اور سوال کیا اس واقعے کا ایران جنگ سے بھی کوئی کنکشن ہو سکتا ہے ۔۔ ۔ ۔ تو اس حوالے سے خود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کہا کہ یہ واقعہ انہیں ایران جنگ میں فتح سے نہیں روک سکتا۔



