انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

سوشلستان، جنریشن زی اور سیلاب

ایازخان

تصور کریں ایک ایسی قوم کا جہاں 25 کروڑ سے زائد لوگ رہتے ہیں، جہاں عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر عیاشی کی تصاویر کا سیلاب ہے-چمکتی کاریں، ڈیزائنر لباس، اور پرتعیش زندگی۔ یہ ہے 2025 کا پاکستان-ایک ملک جو معاشی تنگی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، لیکن کنزیومرازم کی لہر اور ڈیجیٹل دھوکوں نے اسے جکڑ رکھا ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے،جبکہ 40 سے 45 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور وی لاگرز اقدار کو پس پشت ڈال رہے جبکہ نام نہاد صحافی حقیقی مسائل کو چھوڑ کر پروپیگنڈے سے معاشرے کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 2025 کے سیلاب نے طبقاتی خلیج کو ننگا کر دیا غریب تباہی کی زد میں آئے، جبکہ اشرافیہ اپنی دولت کے بل بوتے پر محفوظ رہی غیر یقینی اور مایوسی کے دلدل میں پھنسی نوجوان نسل سوشل میڈیا میں پناہ ڈھونڈ رہی ہے.۔۔۔ لیکن آخر کب تک ۔۔۔مگر گھرائیے نہیں حکمرانوں کی نظر آپ پر ہی ہے۔

پاکستان کی معیشت ایک کاغذی قلعہ ہے، جو مسلسل مسائل کی زد میں ہے۔ اگرچہ مہنگائی کی شرح حالیہ دنوں میں 3 فیصد تک گر گئی، مگر گزشتہ برسوں میں یہ 10 فیصد سے زائد رہی، اور گزشتہ سالوں میں یہ 40 فیصد کا ریکارڈ بناتی رہی ہےعام آدمی پھر بھی جھیل گیا قرضہ جی ڈی پی تناسب 70 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل چھین رہا ہے۔بجلی کےبلوں اور بے جاٹیکسز سے عوام کا بچاکھچا خون چوس کر گڈ گورننس کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ زراعت جو معیشت کا 25 فیصد حصہ ہے حکومتی بے توجہی کا شکار رہا ہے ۔اور سیلاب نے جو درگت بنائی ہے اس کے بعد کسان کیا بیچے گا اور کیا کھائے گا۔۔ تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری شرمناک حد تک کم ہے۔ بدعنوانی معیشت کو کھوکھلا کر رہی ہے— مزید تنزلی کا شکار ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن انڈیکس رپورٹ مطابق پاکستان 180 ممالک کی فہرست میں 135 ویں نمبر پر ہے ادھر حکومت عوام کی بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے نگرانی اور کنٹرول پر اربوں روپے اڑا رہی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ہی حالیہ رپورٹ "شیڈوز آف کنٹرول” بتاتی ہے کہ پاکستانی حکام نے چینی، یورپی، اماراتی اور شمالی امریکی کمپنیوں سے جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، جو سنسرشپ اور عوام پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی بجائے، تمام تر کوششیں انہیں قابو میں رکھنے پر مرکوز ہیں۔ چلیں نظر تو رکھے ہوئے ہیں۔

2025 کے سیلاب نے سب کھول کر رکھ دیا۔ شدید بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے اور اس کے نتیجے میں سیلابسے پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں 900 کے قریب جانیں ضائع ہوئیں، ہزاروں افراد زخمی ہوئے، اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ معاشی نقصانات حیران کن ہیں— جس میں زراعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ ہزاروں مویشی ہلاک ہوئے، فصلیں تباہ ہوئیں، اور غذائی مہنگائی 7.2 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ہزاروں گھر، سینکڑوں سکول اور 120صحت کے مراکز متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے نام ابھی حکمرانوں کے نام پر بدلےگئے تھے ۔سیلاب سے پنجاب کے دیہی غریبوں کے کچے مکانات اور فصلیں بہہ گئیں، اب سندھ کی باری ہے ۔جبکہ شہری اشرافیہ شہروں میں محفوِظ ہے اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے زراعت، صنعت اور معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور معاشی شرح نمو کو بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا دوسری طرف اسی اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی رپورٹ نے کاروباری اشرافیہ کی لسٹ بھی جاری کی ہے یہ 40 گروپ اربوں کےمنافع کے ساتھ سر فہرست ہیں۔۔۔۔ایک طرف یہ اشرافیہ کےٹاپ کے 40 گروپس اور دوسری طرف غربت کی لکیر سے نیچے جونجتے 40 سے 45 فیصد عوام اس ملک کی بلیک اور وائٹ تصویر ہیں۔
سیلاب نے تو جیسے سیاسی اشرافیہ کو تشہیر کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ خیمے سے لیکر راشن پر اپنی تصویریں چپکا کر عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ حکمران ہم ہی ہیں اور ہم ہی رہیں گےلیکن سیلاب نے ناقص انفراسٹرکچر کو عیاں کر دیا ہے ۔
پاکستان میں آفت سب پر برابر نہیں گرتی۔ ایک معاشرے میں جہاں اقوام متحدہ کے مطابق 43 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اسی ملک میں لوگ اپنی آمدنی کا 20 فیصد مہنگے فونز اور برانڈڈ کپڑوں پر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟ جواب ہے صارفیت یا کنزیومر ازم کا نشہ اور گرفت، جو پاکستانیوں کو مادی خواہشات کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا پر چمکتی زندگیوں کی نقل کرنے کے چکر میں ہیں۔ فیس بک ،انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو ہوا دی—انفلوئنسرز پر تعیش زندگی کی نمائش کرتے ہیں، جو خاص طور پر فیشن کے رجحانات کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ چمک دمک تلخ حقائق سے توجہ ہٹاتی ہے، طبقاتی شعور کو کمزور کرتی ہے، اور لوگوں کو قرضوں کے جال میں پھنساتی ہے۔ جب انفلوئنسرز بے جا خرچ کو فروغ دیتے ہیں، تو وہ روایتی اقدار کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے زریعے تعیش زندگی کو ہر کسی کی دسترس میں دکھاتے ہیں—سب سمجھتے ہیں کہ وہ بھی ایسی حرکات سے امیروں میں شامل ہوجائیں گے. حالانکہ یہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ نتیجہ؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں غریب امیروں کی نقل کرتے ہیں، اور غربت کی گہرائی میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

جب رابطے کا ذریعہ دھوکے کا ہتھیار بن جائے تو کیا ہوتا ہے؟ پاکستان میں سوشل میڈیا ایک اخلاقی دلدل بن چکا ہے۔ انفلوئنسرز اپنی نجی زندگی کو داؤ پر لگا کر یا غیر اخلاقی مواد بنا کر پیسہ کما رہے ہیں،۔ خاندانی روایات اور سماجی اقدار کو روندتے ہوئے۔عوام کی اکثریت اسی دوڑ میں لگ چکی ہے۔ یوٹیوب پر پروپیگنڈہ "صحافت” کے نام پر فروخت ہوتا ہے، جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے، اور اصلی صحافت کو دھندلا دیتا ہے۔ واچ ڈاگز، جو سماجی انصاف کے محافظ ہونے چاہئیں، پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، سیاسی پارٹیوں کا ساتھ دے رہے ہیں، اور معاشرے میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ سیاسی انجینئرنگ کے لیے بنائے گئے یوٹیوب چینلز نے اب کئی انڈے بچے دے دیے ہیں۔ دوسری طرف مایوس اور بے سمت 60 فیصد نوجوان روزانہ گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، تلخ حقیقت سے فرار کی تلاش میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ انفلوئنسرز، خاص طور پر نوجوان خواتین کے رویوں اور خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جہاں "پیرا سوشل” تعلقات صارفیت یا بے جا خریداری کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ یہ عارضی آمدنی معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے، جھوٹ اور پروپیگنڈے سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔
محدود تعلیم اور روزگار کے مواقع والے ملک میں، یہ مایوسی کا نسخہ ہے۔ لیکن ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ ۔۔اور اس کا نظارہ ہم نے بنگلہ دیش میں 2024 میں دیکھا جب جنریشن زی یا نوجوانوں کی قیادت میں احتجاج نے شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ طلبہ اور نوجوان سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم، بدعنوانی اور آمریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، پہلے سوشل میڈیا پر منظم ہوئے ،اور ہھر انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کا سامنا کرتے ہوئے بھی، لاکھوں کو سڑکوں پر لائے اور بالآخر وزیراعظم کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔اور اب نیپال میں بھی یہی ہو رہا ہے— جنریشن زی نے بدعنوانی، بے روزگاری اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا، جس میں 19 افراد ہلاک ہوئے،اور اسمبلی کو پھونک ڈالا اور نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ۔۔۔

2025 کے سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں تھے—یہ سماجی ناانصافیوں کا انکشاف ہیں۔ دیہی غریبوں کی فصلیں اور کچے مکانات، جو ان کی واحد جائیداد تھے، بہہ گئے۔ اور یہ تباہی ابھی جاری ہے۔ راوی کے پیٹ میں بنی ایک سوسائٹی میں پانی کیا گھسا سوشل میڈیا چیخ اٹھا۔۔ویاں بھی جرنلزم کی بجائے مال بنانے پر توجہ زیادہ رہی ۔ اب عوام کو امداد اور بحالی کا لولی پوپ ملے گا۔۔۔ایمرجنسی لگ جائےگی۔۔۔ پھر حکمران مغرب کی طرف عوام اور نقصان کے نام پر صدا لگائیں گے۔۔۔ ضرور جائیں مگر ان سے مانگنے نہیں اپنے نقصان کا ازالہ کروانے کیونکہ یہ کلائیمیٹ چینج انہی ترقی یافتہ اقوام کی عطا کردہ ہے. جو تھرڈ ورلڈ کے عوام بھگت رہے ہیں۔لیکن ہماری اشرافیہ ؟

ان کی سٹاک ایکسچینج عروج پر رہے گی۔ دولت بڑھتی رہےگی۔اور پھر سیلاب کونسا پہلی بار آئے ہیں یہ تو آتےرہتے ہیں۔ 2022 کے سیلاب، جنہوں نے 30 ارب ڈالر کا نقصان کیا اور لاکھوں کو بے گھر کیا، اس سال کے بحران اس بھی زیادہ ہیں۔۔۔۔مگر یہ رکیں گے نہیں۔۔۔ ناانصافی محض تصوراتی بات نہیں نہیں، یہ جان لیوا ہے۔ یہ سیلاب پھر بتا گئے ہیں۔۔پاکستان کوئی امیر ملک نہیںصرف ایک فیصد اشرافیہ کے پاس دولت ہےبے لگام اصراف یا کنزیومرازم نے ہمارا طبقاتی شعور چھین لیا ہے سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے ہماری اقدار کو تباہ کیا، اور 2025 کے سیلاب نے ہماری کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ نگرانی اور کنٹرول پر اربوں خرچ کرنے والی حکومت عوام کی بہبود کو نظر انداز کر رہی ہے، جبکہ نوجوان نسل کی مایوسی کچھ اور ہی پیغام دے رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button