اسلام آباد:(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر لاہور، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کی جانب سے دائردرخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں سُپر ٹیکس لینا ہے توسب سے لیں۔
پارلیمنٹ کوبتانا چاہیئے تھاکیوں امتیازی طورپر ٹیکس نافذ کیا گیا، ایسے اقدامات سے یہ ٹیکس دہندگان بھی بیرون ملک نہ چلے جائیں ، آسانیاں پیداکریں، آسانیاں پیداکریں گے توہی کام چلے گا،پارلیمنٹ کی دانش سے انکارنہیں، چندسیکٹرز کوشامل کریں اور باقی کونکال دیں، یہ کہہ دیتے سب پرٹیکس لاگوہوگا۔
جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیئے یہ بوجھ کس پر منتقل ہوگا، سیمنٹ کی بوری یاکھانا پکانے والا گیس کاسلنڈر مہنگاہوگاتوآخر میں ادائیگی کس نے کرنی ہے، عام صارف نے ہی کرنی ہے، وزیر خزانہ کی تقریر متعلقہ ہوسکتی ہے، قانون سے دیکھنا ہے غلط ہے یاصحیح ہے۔
جسٹس سید حسن اظہررضوی نے ریمارکس دیئے کیاقومی اسمبلی میں سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پرکوئی بحث کی گئی، کسی کمیٹی میں غوروفکر ہوا، کیا وزیر خزانہ کی تقریر کے بعد ارکان نے اپنی تجاویز دیں، اُس وقت اپوزیشن نہیں تھی اس لئے کسی نے مخالفت نہیں کی، قومی مفاددیکھا جائے، ذاتی مفاد نہ دیکھا جائے ، اس پالیسی کوبنانے سے قبل کیاہوم ورک کیا گیا، کسی صنعتکار نے 2ہزارلوگوں کونوکریاں دی ہیں اوروہ ملک کوغیرملکی زرمبادلہ بھی کماکردے رہا ہے تواُس کوئی فائدہ ہوگا، پالیسی بناتے وقت ریونیو کے علاوہ کوئی اورمعیارمقررنہیں کیاگیا، سُپرٹیکس کے نفاذ کے لئے مختلف شعبوں کو منتخب کرنے کے لئے کیا طریقہ اپنایا گیا۔کوئی مشق کی گئی کہ کیوں چندشعبوں پر 30کروڑ سے زیادہ آمدن کے باوجود ٹیکس نہیں لگایاگیا۔
سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ نے سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ تین ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف دائر 2044اپیلوں پربدھ کے روز سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا کہ انکم ٹیکس حکومت عوام سے لیتی ہے، کیسے حساب کتاب ہونے کے بعد دوبارہ ٹیکس لے سکتے ہیں۔
مدعاعلیہان کے وکیل مخدوم علی خان نے روسٹرم پرآکرکہا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن 4-Bاور4-Cآئین کے مطابق ہیں کہ نہیں اس حوالہ سے ہائی کورٹس نے فیصلہ کرنا ہے یاسپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے۔
وکیل اسماحامد کاکہنا تھااگر ایک مرتبہ قانون کے حوالہ سے فیصلہ ہوگیا توکیا یہ ہرسال چیلنج ہوگا۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا کیاسندھ ہائی کورٹ کافیصلہ ماننا ہمارے اوپر لازم ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ اگرمختلف ہائی کورٹس کے مختلف فیصلے ہوں توپھر ایف بی آر کس فیصلہ پرعمل کرے گا۔اسما حامد کاکہنا تھا مجھے روز، روز تو5رکنی بینچ کے سامنے دلائل دینے کاموقع نہیں ملے گا۔جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا آئینی بینچ کم ازکم 5رکنی ہی ہوگاجب تک کچھ اور نہ ہوجائے۔مخدوم علی خان کاکہنا تھا ہم سب ججز سے ڈرتے ہیں۔
اسماحامد کاکہنا تھا مدعاعلیہان نے ریکارڈ پرکوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا کہ کس طرح سُپر ٹیکس کانفاذ امتیازی سلوک ہے، 2022کے لئے 30کروڑ آمدن والوں پر 10فیصد سُپرٹیکس لگنا ہے اور 2023میں 50کروڑ کمانے والوں پر 10فیصد سُپرٹیکس لگناہے۔ جسٹس محمد علی مظہرکا کہنا تھا وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر ایک پیپر بُک میں جمع کروادیں۔
جسٹس امین الدین خان کاکہنا تھا منافع پر ٹیکس لیں۔جسٹس محمد علی مظہرکاکہنا تھا امتیازی سلوک غیر قانونی ہی ہوتا ہے،قانونی امتیازی سلوک کون ساہوتاہے، ہم نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرنا ہے کہ ہائی کورٹس کے فیصلے درست ہیں کہ نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا چندسیکٹرز کوشامل کریں اور باقی کونکال دیں، یہ کہہ دیتے سب پرٹیکس لاگوہوگا۔
جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا دیگر شعبے بے شک 50کروڑ بھی کمائیں ان پر صرف 4فیصد سُپرٹیکس نافذ کیا گیا۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا آسان طریقہ ہے پیٹرول کی قیمت بڑھادیں۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا مخصوص کرنے کی کیاضرورت تھی، استثنیٰ دینے کامقصد اِن شعبوں کوفروغ دینا ہوتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ مخصوص شعبوں کو فروغ دینے کے لئے ایمنسٹی سکیمیں دی جاتی ہیں، 4-Cکے تحت اضافی ٹیکس لگایا گیا ہے ہوسکتا ہے اِس کواگلے سال 15یا20فیصد کردیں۔
اسما حامد کاکہنا تھاپارلیمنٹ کوکسی شعبہ کوشامل کرنے یانکالنے کااختیارہے۔ جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا پالیسی بناتے وقت ریونیو کے علاوہ کوئی اورمعیارمقررنہیں کیاگیا۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہنا تھا کچھ لوگ زیادہ کمارہے ہیں اور وہ 10فیصدٹیکس میں نہیں آتے اورکچھ کم کمارہے ہیں وہ 10فیصدٹیکس میں آتے ہیں۔ مزید سماعت آج ہوگی۔



