پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

افواج پاکستان نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، سپیکر پنجاب اسمبلی

فیلڈ مارشل کا اعزاز جنرل عاصم منیر کی جرات، قیادت کا اعتراف: ملک محمد احمد

لاہور (بیورو چیف) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ، بری اور بحری افواج نے بھارت کو تاریخی سبق سکھایا ہے اور افواج پاکستان نے شاندار طریقے سے دنیا کے آگے قوم کا سر فخرسے بلند کر دیا ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام ’ مستقبل کی تعلیم : چیلنجز اور مواقع ‘ کے موضوع پر تین روزہ بارہویں بین الاقوامی کانفرنس آن ایجوکیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج اور عوام نے 90ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا تو پھر بھارت کیسے پاکستان پر دہشتگردی کا الزام لگا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ثبوت کے الزام لگا کر بھارت نے رات کے اندھیرے میں ہماری خودمختاری پر حملہ کیا اور یکطرفہ طور پر پاکستان کے پانی کو روکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنی مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی میں آج کا دور سب سے قابل فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کی برتری کا دور ہے۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں جو بیانیہ میرے نوجوانوں نے بنایا اسے دنیا نے تسلیم کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لئے جدید علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ مزید برآں سپیکر نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی پانے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں سپیکر نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ حق کی شاندار فتح قوم کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کا اعزاز جنرل سید عاصم منیر کی جرات، قیادت اور قربانیوں کا اعتراف ہے۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے اپنی دانا قیادت سے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج مزید فتوحات حاصل کریں گی اور ملک کو درپیش چیلنجز کا جرات مندی سے مقابلہ کرتی رہیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button