غزہ:مزید74فلسطینی شہید،اسرائیل کی یورپی سفارتی وفد پربھی فائرنگ،اٹلی اور سپین میں سفیر طلب
یورپی ممالک کی فائرنگ کی شدید مذمت،ہسپانوی پارلیمنٹ میں اسرائیل کو اسلحہ بیچنے پر پابندی کی قرارداد منظور،پوپ کی امداد فراہمی کی اپیل
غزہ ، واشنگٹن:(ویب ڈیسک )اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں مزید 74فلسطینی شہید اور 117زخمی ہو گئے۔وفا نیوز ایجنسی کے مطابق صیہونی طیاروں نے خیمہ بستیوں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جبکہ ہسپتالوں کو بجلی سپلائی کرنے والے جنریٹروں کو تباہ کیا۔اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین کا دورہ کرنے والے یورپی سفارتکاروں کے وفد پر فائرنگ کی، وفد کے ارکان نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔
یورپی وفد جنین کیمپ میں اسرائیلی آپریشن کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے آیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا کہ سفارتی وفد پر انتباہی فائرنگ کی گئی کیونکہ وہ منظور شدہ راستے سے انحراف کرتے ہوئے غیرمجاز علاقے میں جانے کی کوشش کر رہا تھا۔بیلجیم، سپین اور اٹلی نے فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے جبکہ سپین اور اٹلی نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔
فلسطینی وزیر خارجہ نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر وفد پر فائرنگ کی ۔یورپی سفارتکاروں نے بتایا کہ ہم تباہی کا جائزہ لینے کیلئے جنین کیمپ کا دورہ کر رہے تھے کہ مسلسل فائرنگ شروع ہو گئی اور ہم بھاگ کر اپنی گاڑیوں کی جانب آ گئے۔
دریں اثنا ہسپانوی پارلیمنٹ نے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کیلئےقرارداد منظور کرلی، بائیں بازو اور قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو 176 میں سے 171 ووٹ ملے۔قرارداد میں غیر ملکی تجارت کے قانون میں اصلاحات کی سفارش بھی کی گئی تاکہ اسرائیل جیسی کسی بھی ریاست کے ساتھ فوجی معاہدوں پر پابندی لگائی جا سکے جس پر نسل کشی یا انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہو۔امریکہ کی سینٹ کمیٹی میں غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، سینٹ کمیٹی میں معاملے پر بحث و مباحثے کے موقع پر وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی پیش ہوئے اور اس دوران غزہ میں نسل کشی روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امداد کی فراہمی بحال کرنے کی اپیل کی ہے، پوپ لیو نے کہا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور درد ناک ہے جہاں بچوں، بزرگوں اور بیماروں کو دشمنی کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے، غزہ میں بڑی مقدار میں انسانی امداد کی اجازت دی جائے اور دشمنی کا خاتمہ کیا جائے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔اماراتی سرکاری میڈیا کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اسرائیلی ہم منصب گیدون ساعر سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس کے نتیجے میں فوری انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا۔



