یہ قول مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب ہے ۔۔۔!!
جس دن جنگوں میں بڑے لوگوں کے بچے بھی مرنے لگے،پوری دنیا میں جنگیں ختم ہوجائیں گی ،یہ ایک تلخ حقیقت ہے،کوئی دوسری رائے نہیں۔
جنگوں نے دنیا کو صرف تشدد، خوف، بھوک اور بے بسی ہی دی،جنگ عظیم اول سے لے کر اب تک ، تمام جنگیں معمولی باتوں ،کچھ شخصیات کی انا،اقتدار کی ہوس کی وجہ سے ہی لڑی گئیں۔۔۔
خدانخواستہ، اگر جنگ ہوئی !!
تو پھر؟
ایک دن جنگ رک جائےگی !!
تو پھر ؟
حکمران،جنرلز ایک دوسرے سے گلے ملیں گے،گرم جوشی سے،تپاک سے۔
توپھر ؟
مائیں !! اپنے بچوں کا راستہ تکتے تکتے عمرگزاریں گی۔۔۔ باپ !! زندگی بھررنجیدہ رہیں گے، جن کے بچےمارے گئے۔۔۔ وہ مائیں،پاکستان کی ہوں یا بھارت کی،ماں تو ماں ہی ہوتی ہے۔۔۔ کیا مہاتما گاندھی نے غلط کہا تھا ؟بڑے لوگ کون۔۔۔ ؟ صرف جنرل اورحکمران۔۔۔
وزیراعظم صاحب !! اتنی عاجزانہ خارجہ پالیسی کی کیا ضرورت ۔۔۔ ؟ سانحہ ٹرین پرآپ نے بھارت پر دباؤ کیوں نہ ڈالا۔۔۔ ؟ دہشتگردی میں بھارت ملوث ہونے کا بیانیہ کیوں نہ بنایا، بھارت بھی عالمی اداروں سے غیرجانبدارانہ تحیققات کرانے کا کہتا،جیسے آپ کہہ رہے ہیں،آپ کیوں ہربار دفاعی پوزیشن میں آتے ہیں۔۔۔؟ پاکستان میں تو روزدہشتگردی ہورہی،اور ایک عرصے سے ہورہی،کبھی آپ لوگوں نے بھارت کو مجبور کیا وہ دفاعی پوزیشن میں آئے ۔۔۔؟ وزیراعظم صاحب !! ذرا غورفرمائیں۔
یوکرین کے عوام اگراپنے فنکارصدرپرکنٹرول کرلیتے،ہزاروں ہلاکتوں اورتباہی سے بچ جاتے،صرف اقتدار کے لالچی شخص نے ملک تباہ کرادیا،یہی حال مودی کا،بھارتی عوام اپنے وزیراعظم کا گلہ گھونٹیں جو اپنے اقتدارکی ہوس میں کروڑوں عوام کو آگ کا ایندھن بنانے پر تلا ہوا۔۔۔۔ کیا پاکستان اوربھارت کے عوام جنگ چاہتے۔۔۔ ؟ عوام کا جنگوں سے کیا تعلق۔۔۔؟ یہ تو حکمرانوں کے کھیل ہیں،مرنا بھی عوام نے،بھگتنا بھی عوام نے۔ جنگوں نے دنیا کو تشدد، خوف، بھوک اور بے بسی کے علاوہ کیا دیا۔۔۔؟ پاک،بھارت جنگ میں نقصان کس کا زیادہ ہوگا۔۔۔؟ سب جانتے ہیں،بھارت کا ہوگا۔۔۔؟ وہ کیسے۔۔۔؟ بھارت اس وقت جنوبی ایشیا میں ایک طاقتور اور مستحکم اقتصادی طاقت بن چکا ہے، جو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جس کا جی ڈی پی 3.7 ٹریلین ڈالر (2024) سے زیادہ، زرمبادلہ کے ذخائر 640 ارب ڈالر سے اوپر، اور سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 82 ارب ڈالر ہے۔ اگرچہ بھارت کی آبادی پاکستان سے تقریباً 6 گنا زیادہ ہے، لیکن اس کی معیشت 10 گنا سے بھی بڑی ہے۔ انڈیا 2027–28 تک اپنی جی ڈی پی کو 5 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔
پاکستان کی طرف آئیں، جی ڈی پی صرف 340 سے 370 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کے قرضوں اور چین و سعودی عرب کی ادائیگیوں کو رول اوور کرنے کے بعد بھی 9 ارب ڈالر کے قریب ہیں، اور دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔ فی کس آمدنی کے لحاظ سے، انڈیا کا اوسطاً 2,700 ڈالر ہے فی کس ہے، جبکہ پاکستان 1,600 ڈالر پر کھڑا ہے۔۔۔۔ جنگ ہوئی تو کس کا نقصان۔۔۔؟ بھارت ایک صدی پیچھے چلا جائے گا،پاکستان کا کیا۔۔۔؟ یہ تو پہلے ہی ادھارلے لے کر کھا رہے ہیں۔۔۔اس سے آگے چلیں،بھارت کی اس وقت 12ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں زوروں پر چل رہیں، جنگ ہوئی تو بھارتی فوج کو پاکستان سے زیادہ ان ریاستوں کے علیحدگی پسندوں سے لڑنا پڑے گا،بہت زیادہ امکان ہے یہ ریاستیں آزادی حاصل کرلیں،یوں بھارت تیرہ،چودہ ٹکروں میں تقسیم ہوجائے گا۔۔۔ اور دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کا بھوت ان کے سر سے اترجائے گا،یہ دنیا کا دستور ہے،اجڑی ہوئی مانگ کون بھرتا ہے ۔۔۔؟ خزاں میں تو باغ سے پرندے بھی اڑجاتے ہیں۔۔۔ بوڑھی طوائف کو کون سہارہ دیتا ہے۔۔۔؟ بھارت،نیپال،مالدیپ،سری لنکا کے برابر ہوجائےگا۔مودی کی سیاست کا پہیہ صرف مسلم دشمنی پر چل رہا اور رہا مودی کا جانشین، یوگی آدیتہ ناتھ ۔۔۔ وہ مودی سے بھی دس ہاتھ آگے۔۔۔یہ سارا ڈرامہ جنتا پارٹی کی مقبولیت برقراررکھنے اوریوگی کو آئندہ وزیراعظم بنانے کیلئے رچایا جارہا۔۔۔مودی تو اقتدار کی ہوس میں اندھا ہوچکا،بھارت کے عوام اٹھیں،اس کا گلا گھونٹیں،جوکروڑوں لوگوں کو اپنی خاطر آگ کا ایندھن بنانے پرتلا ہوا ہے۔۔۔اللہ نہ کرے یہ جنگ ہو،اگرہوئی تو تاریخ میں لکھاجائے گا،پاک،بھارت جنگ کسی سانحہ پر نہیں،جہالت اورگھمنڈ کی وجہ سے ہوئی،چند ایک افراد نے اپنی انا کی خاطرکروڑوں عوام کومروادیا۔



