لاہور:(سید ظہیر نقوی سے ) پنجاب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ نے تاریخ میں پہلی بار بڑے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں شعبہ جات کے سربراہوں کی کارکردگی جانچنے کے اشاریے (KPIs) متعارف کرادیئے ہیں۔
ہسپتال کے انتظام، کارکردگی اور مریضوں کی دیکھ بھال جیسےاہم پہلوؤں پر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کو جانچا جائیگااقدام کا مقصد احتساب اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے علاوہ حاضری اور مریض کے فیڈ بیک سے لے کر مالی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ طرز عمل تک ہر چیز کا پتہ لگانا ہے۔
کارکردگی کے یہ اشاریے متعدد شعبوں پر محیط ہیں جن میں مستقل حاضری، شعبہ ایمرجنسی کے دوروں اور مریض کے اطمینان کی اہمیت پر زور دیا ۔کے پی آئیز میں طبی طریقہ کار، دستاویزات، اور مریض کی دیکھ بھال میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے HODs کو اب روزانہ کم از کم ایک راؤنڈ اور ہر ہفتے آؤٹ پیشنٹ کے دورے کی ایک مقررہ تعداد کو یقینی بنانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ان اشاریوں کے ذریعے کارکردگی کا جائزہ نہ صرف عملے کی تربیت کے میعار کا احاطہ کرے گا بلکہ شعبوں کے سربراہان کی طرف سے دیئے گئے لیکچرز کی تعداد اور شائع شدہ تحقیقی مضامین کے علاوہ مخصوص آپریشنل میٹرکس جن میں ان کی طرف سے کی جانے والی سرجریوں کی تعداد اور اور ویٹنگ لسٹوں کے حوالے سے انتظامات ، مریضوں کی شکایات سے نمٹنے، اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنے، اور انسانی وسائل کو بہتر بنانےجیسے بنچ مارکس پر ان کی قیادت کا جائزہ لیا جائیگا۔
ان کے پی آئیز میں مالیاتی کارکردگی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں اب سربراہان سے توقع کی گئی ہے کہ وہ محکمانہ آمدنی کا انتظام کریں، بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں، اور آڈٹ کی تعمیل کو برقرار رکھیں۔
پنجاب کے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر عظمت محمود نے بتایا کہ اداروں کے سربراہان اور شعبہ جات کے سربراہوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں مریضوں کے اطمینان اور اعتماد میں کمی پر بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اب ہسپتالوں کے شعبوں کے سربراہ اور ٹیچنگ ہسپتالوں کی قیادت جوابدہی کے لئے تیار رہیں ۔



