لاہور:(سیدظہیر نقوی /سلمان حسین سے )پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016میں مزید ترمیم کا بل جیسا کہ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز 2016(XL 2016) میں مزید کارآمد بنانے کے لئے اس میں حسب ذیل طور پر ترمیم کی جا رہی ہے۔

1۔ عنوان میں اختصار اور آغاز
(i) یہ ایکٹ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025کہلائے گا۔
(ii) یہ پورے طور پر ایک ہی بار نافذ العمل ہو گا۔
(2) 2016ء کے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے سیکشن 2میں ترمیم۔
پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016(XL 2016) کو یہاں ’’مذکورہ ایکٹ‘‘ کہا جائے گا۔ اس کی شق 2کی ذیلی شق ایک میں ترمیم یوں ہو گی:
1۔ (الف) شق(iii) کے بعد مندرجہ ذیل نئی شق(iiiالف) شامل کی جائے گی۔ اس کا نام (iiiالف)’’aspersion‘‘ جس کا مطلب جھوٹی اور ضرر رساں معلومات پھیلانا ہے جو کسی فرد کی ساکھ کو خراب کرے۔
( شق IV ب) کے لئے متبادل نام مندرجہ ذیل ہو گا۔
IV ’’اتھارٹی‘‘ سے مراد سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ہو گا جو سیکشن 24اے کے تحت قائم کی گئی۔
(ج) شق (VIاے) مندرجہ ذیل کو متبادل سمجھا جائے گا۔
(vi الف) ’’شکایت کنندہ‘‘ کا مطلب ہر ایسا فرد جو اس ایکٹ کے تحت جرم کی شکایت کرتا ہے،بشمول اس جرم کا شکار، یا کوئی ایسا فرد جس کی بابت یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجوہات ہوں کہ اس کے ساتھ جرم ہوا ہے‘‘
(VIب )’’ انکوائری‘‘ میں ہر وہ انکوائری شامل ہے جو کسی تحریری شکایت پر کسی تفتیشی ایجنسی نے انجام دی ہو۔
(ج) بعد از شق (XXV) حسب ذیل نام سے نئی شق شامل کی جائے گی:
’’XXVالف ‘‘ غیر قانونی و مجرمانہ مواد‘‘ اس کا مطلب سیکشن 2آر میں واضح کیا گیا جرم ہے ۔
(XXVب) ’’person‘‘ سے مراد ایک لیگل یا فطری شخص اور بشمول کوئی سیاسی جماعت یا کاروبار
(XXVب) ’’prescribed‘‘ کا مطلب قوانین یا اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے ضابطے۔
(د) شق (XXViiiالف) کے بعد حسب ذیل نئی کلاز شامل کی جائے گی.
(XXViiiب) سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا مطلب:
(الف) ایسا فرد جو سوشل میڈیا یا سوشل نیٹ ورک کی سروسز کا مالک ہو‘ سروس فراہم کرتا ہو یا کسی سوشل میڈیا و سوشل نیٹ ورک سروس کی آن لائن اطلاعات کے نظام کی دیکھ بھال کرتا ہو۔
یا
(ب) کوئی ویب سائٹ‘ ایپلی کیشن یا موبائل ویب ایپلی کیشن پلیٹ فارم یا کمیونی کیشن چینل اور ایسی کوئی ایپلی کیشن اور سروس جو کسی فرد کو رجسٹرڈ صارف بننے کی اجازت دیتی ہو۔ اپنا اکائونٹ بنائے یا پبلک پروفائل تشکیل دے جو صارف کو اس اکائونٹ یا پروفائل کے ذریعے مواد تخلیق کرنے کے قابل بنائے‘ ایک یا زیادہ صارفین کا تخلیق کیا گیا مواد جو کہ دوسرے دیکھیں‘ پوسٹ ہو‘ شیئر کیا جائے مگر وہ پلیٹ فارم پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے تحت رجسٹرڈ نہ ہو اور
(ج) شق (xxx ) کے بعد حسب ذیل نام کی نئی کلاز شامل کی جائے گی۔
(شقxxx الف )’’ ٹربیونل‘‘ سے مراد سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹریبونل ہو گا جو کہ باب ایک (ج )کے تحت قائم کیا گیا۔
باب 1الف
اتھارٹی
2الف۔ اتھارٹی کا قیام۔(1) جونہی پریونشن آف الیکٹرانک کرائم (ترمیمی) ایکٹ 2025نافذ ہو گا وفاقی حکومت آفیشل گزٹ کے نوٹی فکیشن کے ذریعے ایک اتھارٹی قائم کرے گی جو سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کہلائے گی‘ یہ اتھارٹی اس ایکٹ کے مقصد کی تکمیل کرے گی۔
(2) مذکورہ اتھارٹی ایک کارپوریٹ باڈی ہو گی جس میں دائمی جانشینی اور ایک مشترکہ مُہر ہو گی اور اس کے لئے اپنے نام پر مقدمہ اور مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے اور اس ایکٹ کے مقاصد کے تحت جائیداد کو رکھنے اور تصرف میں لانے اور معاہدہ کرنے کی مجاز ہو گی۔
(3) اتھارٹی کا پرنسپل دفتر اسلام آباد میں ہو گا اور یہ صوبائی دارالحکومتوں میں اپنے دفاتر قائم کر سکے گی‘ اسی طرح اتھارٹی پورے پاکستان میں جہاں مناسب سمجھے اپنے دفاتر قائم کر سکے گی۔
(2ب) اتھارٹی کے اختیارات اور اعمال
1۔ اس ایکٹ میں بصورت دیگر بیان کردہ افعال اور اختیارات کے علاوہ اتھارٹی کے پاس درج ذیل اختیارات اور افعال ہوں گے‘
a) ( متعلقہ شعبے میں تحقیق و فروغ تعلیم۔
(b) سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو فروغ دینا‘ اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے سہولت فراہم کرنا۔
(c) پرنٹ‘ ڈیجیٹل یا سوشل و الیکٹرانک میڈیا یا کسی اور ذریعے سے جو اتھارٹی مناسب سمجھے‘ عوامی آگاہی کے لئے اشوز پر رہنمائی بذریعہ سرکاری و نجی سیکٹر فراہمی۔
(d) کسی فرد کے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر آن لائن حقوق کو کسی بھی نوع کے نقصان سے یقینی بچانا۔
(e) سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر موجود غیر قانونی و مجرمانہ مواد کو پاکستان سے ریگولیٹ کرنا۔
(f) سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی فہرست سازی کو ریگولیٹ کرنا۔
(g) سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی اجازت‘ تجدید‘ استرداد ‘ معطل یا منسوخ کرنا۔
(h) کسی شکایت پر اس ایکٹ کے تحت کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنا جو اس ایکٹ کے ضابطوں کی تعمیل میں ناکام رہا ہو۔
(i) سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے لئے رہنمائی‘ ہدایات اور معیارات کا تعین کرنا۔
(j) اس ایکٹ کے ذیل میں آنے والے امور پر کسی نوع کی درخواستوںکی سماعت کرنا اور پھر ایکٹ کے مطابق کارروائی کرنا۔
باب ۱بی
2 Q: ان لسمنٹ۔ اتھارٹی کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اتھارٹی کے تحت اندراج کر سکے گی اور اندراج کی فیس کا تعین بھی کر سکے گی۔
(2) اتھارٹی سوشل میڈیا کی ان لسمنٹ کی شرائط اور قواعد و ضوابط بھی طے کرے گی۔
2 R: اتھارٹی کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ہدایات جاری کرے اور کسی بھی آن لائن مواد کو ہٹانے کا کہے یا بلاک کا کہے اگر مواد میں مندرجہ ذیل قابل اعتراض ہو:
(a) مواد نظریہ پاکستان کے خلاف ہو۔
(B)عوام الناس کو قانون شکنی یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اکساتا ہو۔
(c) شہریوں کے کسی گروہ کو حکومتی یا نجی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے پر اکسائے۔
(d) شہریوں یا کسی گروہ کو قانونی سرگرمیوں اور تجارت اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کا باعث ہو۔
(e) اندرونی انتشار کا باعث ہو یا فرقہ وارانہ جذبات اور تشدد کو ہوا دے۔
(f) جنسی جذبات کو ابھارنے یا کسی بھی غیر قانونی حرکت پر مائل کرتا ہو۔
(g) خبر جھوٹی ہو یا جس کی تصدیق کے قابل اعتماد ذرائع نہ ہوں یا خبر کی صداقت پر شبہ ہو۔
(h) افواج پاکستان ،عدلیہ اور ان سے متعلقہ افراد، ارکان قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہو۔ یا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف تشدد پر اکساتا ہو۔
(2) ایسا مواد جس کی رپورٹنگ پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے چیئرمین نے اشاعت پر پابندی لگائی ہو ایسے مواد کو سوشل میڈیا پر لگایا جا سکے ،خلاف ورزی پر شفاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے گی۔
(3) اداروں اور ان کے نمائندوں کے بیانات سوشل میڈیا پر لگائے جا سکیں گے نا ہی سوشل میڈیا پر نشر ہوں گے۔
2 S: سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر غیر قانونی آن لائن مواد کے بارے میں شکایات کے حوالے سے شفاف اور موثر نظام وضع کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم قابل رسائی اور آسان اور مستقل طریقہ کار واضح کریں گے جہاں غیر قانونی حرکات اور قابل اعتراض مواد کے بارے میں شکایات درج کروائی جا سکیں۔
2 T: سوشل میڈیا شکایات کونسل
وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے سوشل میڈیا کونسل قائم کرے گی جو ایک چیئرمین اور چار ممبران پر مشتمل ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک افسر شکایات کی وصولی اور ان درخواستوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گا جو کونسل کے ضوابط کے مطابق شکایات کا ازالہ کرے گا۔
کونسل کے چیئرمین اور دیگر چار ممبر سوائے ایکس آفیسر ممبر کی تعیناتی وفاقی حکومت تین سال کے لئے کرے گی جو اگلے تین سال کے لئے قابل تجدید ہو گی۔
چیئرمین اور ممبران کی تقرری کے وقت عمر62سال سے زیادہ نہ ہو گی۔
چیئرمین اور ممبران میں سے کوئی بھی ہاتھ سے لکھی درخواست کو متعلقہ وفاقی ڈویژن کے ذریعے بھجوا کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔
(7) وفاقی حکومت کے پاس کسی بھی ممبر یا چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہو گا۔ اگر وہ سمجھے کہ مذکورہ شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت اس کو
فرائض کی انجام دہی سے روک رہی ہے یا وہ کسی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے۔
(8) اگر چیئرمین یا کسی ممبر کی وفات یا استعفیٰ یا عہدے کی برطرفی کی وجہ سے سیٹ خالی ہوتی ہے تو وفاقی حکومت اس کی جگہ کسی دوسرے اہل فرد کو تعینات کرے گی۔
2 U: سوشل میڈیا کی ہدایات پر عملدرآمد نا ہونے کی صورت میں اتھارٹی معاملہ ضروری کارروائی کے لئے ٹربیونل کو ریفر کر سکتی ہے۔
باب 1 سی
سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل
(1) وفاقی حکومت گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے جس قدر ضروری سمجھے سوشل میڈیا ٹربیونل قائم کر سکتی ہے۔ اگر حکومت ایک سے زائد ٹربیونل تشکیل دیتی ہے تو حکومت کو ٹربیونل کے حدود و قیود کا تعین بھی کرنا ہو گا کہ ٹربیونل کن حدود میں اپنے اختیارات استعمال کرے گا۔
(2) ٹربیونل درج ذیل افراد پر مشتمل ہو گا۔
(a) چیئرمین ایسا شخص ہو گا جو ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کی شرائط پوری کرتا ہو۔
(b)’’ صحافی‘‘ ٹربیونل کے لئے صحافی کے لئے لازم ہو گا کہ وہ پاکستان کے کسی پریس کلب کا رکن ہو اور اپنے شعبے میں 12سال کا تجربہ رکھتا ہو۔ اپنے شعبے میں پہچان، کم از کم صحافت میں کسی بھی منظور شدہ ادارے سے بیچلر ڈگری کا حامل ہو۔
(c) سافٹ ویئر انجینئر
ٹربیونل میں شامل سافٹ ویئر انجینئر کے لئے سوشل میڈیا کے حقوق کے علم کے بارے میں واقفیت کے ساتھ اپنے شعبے میں کسی بھی منظور شدہ ادارے کی بیچلر ڈگری ہونا لازم ہو گا۔
(3) وفاقی حکومت ٹربیونل کے چیئرمین اور ممبر کی تقرری تین سال کے لئے کرے گی۔
(4) ٹربیونل کا چیئرمین یا ممبر وفاقی حکومت کی متعلقہ ڈویژن کو ہاتھ سے لکھی ہوئی درخواست کے ذریعے اور قانونی قواعد کے مطابق اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔
(5) وفاقی حکومت کے پاس ٹربیونل کے چیئرمین اور ممبر کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہو گا اگر وفاقی حکومت سمجھے کہ مذکورہ شخص کی ذہنی یا جسمانی
حالت فرائض کی انجام دہی میں حائل ہے یا وہ معذور یا مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے۔
(6) چیئرمین یا ممبر کی وفات یا عہدے سے برطرف کئے جانے کی صورت میں یا مدت کے ختم ہونے پر وفاقی حکومت کسی دوسرے اہل شخص کا اس عہدے تقرر کرے گی۔
(7) ٹربیونل تمام مقدمات کو 90روز میں نمٹائے گا۔ اگر کسی وجہ سے ٹربیونل فیصلہ نہیں کر پاتا تو فیصلے یں اس کی وجوہات لکھے گا۔
(8) ٹربیونل مندرجہ ذیل طریقہ اور اختیارات
(1) ٹربیونل ایکٹ میں فراہم کئے گئے اختیارات کے مطابق کام کرے گا۔
(2) متاثرہ شخص اتھارٹی کے کسی بھی فیصلے کے خلاف طے شدہ ضابطہ کار کے تحت اپیل کر سکے گا۔
2 X: ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل کا طریقہ کار
ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف متاثرہ شخص کو فیصلے کے 60یوم کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہو گا۔
(4) سیکشن 17ایکٹ X 2آف 226میں لفظ اتھارٹی کا متبادل الفاظ پاکستان ٹیلی کام کمیونی کیشن اتھارٹی ہو گا۔
(5) سیکشن 26 Aایکٹ 2016ء میں اضافہ
سیکشن 26کو بل کی منظوری کے بعد 26 Aکا نام دیا گیا ہے۔
26 Aمیں جھوٹی خبر اور جعلی خبر پر سزا
جو کوئی بھی شعوری طور پر ارادی طور پر عوامی سطح پر کسی بھی ذرائع سے یا انفارمیشن سسٹم کے ذریعے جھوٹی یا جعلی خبر پھیلائے گا اور جس سے عوام میں خوف ہراس بدامنی بے چینی اور تشدد کا خطرہ ہو ایسے شخص کو تین سال قید 20لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
(6) مذکورہ ایکٹ میں سیکشن 29کے متبادل تفتیشی ایجنسی ہو گا
(1) وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم کے نام سے ایک نئی ایجنسی تشکیل دے گی۔ وہ ایک کے اختیارات کے مطابق تحقیق اور تفتیش اور قانونی کارروائی کی مجاز ہو گی۔‘‘ کا مطلب ہر ایسا فرد جو اس ایکٹ کے تحت جرم کی شکایت کرتا ہے‘ بشمول اس جرم کا شکار‘ یا کوئی ایسا فرد جس کی بابت یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجوہات ہوں کہ اس کے ساتھ جرم ہوا ہے‘‘



