انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

’مکہ معاہدہ‘: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے

انقرہ (ویب  ڈیسک) ترکیہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد تینوں ممالک کے درمیان عسکری اور سیاسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ نظام تشکیل دیا جائے گا، جبکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں بھی کریں گے۔

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق اس نئے نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز شامل ہوں گے، جس کے ذریعے دفاعی اور سیاسی سطح پر باہمی رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ فوجی مشقیں

ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان ریئر ایڈمرل ذکی آکٹرک نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان عسکری تعاون کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کمانڈ پوسٹ اور فیلڈ مشقوں کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ بعد کے مراحل میں بری، بحری، فضائی، فضائی دفاع اور بغیر پائلٹ نظاموں کو شامل کرتے ہوئے مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ترک وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد ممکنہ بحرانوں سے قبل دفاعی ضروریات اور صلاحیتوں میں موجود کمیوں کی نشاندہی کرنا، حاصل ہونے والے تجربات کو عسکری نظریات، تربیت اور منصوبہ بندی میں شامل کرنا اور تینوں ممالک کی مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنانا ہے۔

دفاعی صنعت میں بھی مشترکہ تعاون کا فیصلہ

ریئر ایڈمرل ذکی آکٹرک نے کہا کہ دفاعی صنعت میں تعاون بھی مشترکہ دفاعی معاہدے کا اہم حصہ ہے۔ تینوں ممالک صرف دفاعی مصنوعات اور نظام خریدنے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں مشترکہ طور پر تیار کرنے کے امکانات پر بھی کام کیا جائے گا۔

ان کے مطابق بغیر پائلٹ اور خودکار نظام، الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں اور مصنوعی ذہانت سے لیس عسکری ٹیکنالوجی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں۔

یہ تعاون تینوں ممالک کی دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی قیادت پر مشتمل نظام کی تجویز

ترک وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ معاہدے کے تحت وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور مسلح افواج کے سربراہان کی شرکت سے ایک اسٹریٹجک سیاسی و عسکری نظام تشکیل دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

اس نظام کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مستقل رابطہ اور دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

علاقائی سلامتی اور استحکام بنیادی مقصد ہے

ریئر ایڈمرل ذکی آکٹرک نے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار ادا کرنا، عسکری تعاون کو فروغ دینا اور ممکنہ بحرانوں کی صورت میں مشترکہ طور پر مؤثر کارروائی کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ایسا ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہے جو امن کے دوران مؤثر انداز میں کام کرے، ممکنہ بحرانوں کے لیے پیشگی تیاری رکھے اور ضرورت پڑنے پر ٹھوس عسکری معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button