لاہور:(سید ظہیر نقوی سے)لاہور میں جنسی درندے سرعام گھومنے لگے حوا کی بیٹیاں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔
تھانہ مزنگ کی حدود میں ملزم نے مبینہ طورپر ماں،بیٹی جبکہ تھانہ شالیمار کی حدود میں مبینہ طور پر ملزم نے 15سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈلا،پولیس نے مقدمات درج کرلئے ہیں۔
تھانہ مزنگ میں متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزم شاہد نے 6 سال قبل اسے(ع) اور اس کی 18سالہ بیٹی (ث) کو مکان کرایہ پر لے کر دیا تھا،ملزم شادی کا جھانسہ دے کرخاتون(ع) اور اس کی 18سالہ بیٹی (ث)کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور بلیک میل کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق مثاثرہ خاتون نے 15پرکال کی جس پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم شاہد کو گرفتار کرلیا ہے،ملزم نے زنا بالجبر کا اعتراف کیا ہے۔
ایس ایچ اوتھانہ مزنگ رائے آصف جبار نے کہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندہ صفت لوگ کیفرِ کردار تک پہنچائے جائیں گے۔
دریں اثنا تھانہ شالیمار کی حدود میں ملزم لازرمسیح نے 15سالہ بچی(م)کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
مثاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق اس کے 5بچے ہیں،ملزم لازرمسیح جو کہ ہماراہمسایہ ہےاس نے میری بچی(م) کو کہا کہ اس کے باپ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے میرے ساتھ چلو میں تم کو ہسپتال لے جاتا ہوں اور میری بیٹی اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ملزم کے ساتھ رکشہ میں بیٹھ گئی،ملزم نے میری بیٹی کو نامعلو م مقام پر لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیا ہے تفتیش جاری ہے جبکہ دوران تفتیش بچی نے کہا ہے کہ بچی نے کہا ہے کہ وہ ملزم کو جانتی ہے ،پولیس کے مطابق بچی ملزم کے ساتھ اپنی رضامندی سے اکیلے کمرے میں سالگرہ منانے کے لیے گئی تھی۔
مثاثرہ بچی کے والد نے کہا ہے کہ ملزم کو کڑی سے کڑی سزادی جائے ۔
شہریوں نے جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں،پولیس اور دیگر حکام کو نوٹس لے کر فوری کارروائی کرنی چاہیئے ۔
سرکاری اور غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ6سال کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں 33 فیصد حیران کن اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی قانون سازی کی گئی مگر انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کے مطابق خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔
حال ہی میں پارلیمان کو وزارت قانون اور حقوق انسانی کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے گزشتہ 2برس میں ان کے پاس جنسی زیادتی کے 615 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم اس دوران ایسے واقعات کی تعداد 3000 ہزار سے بھی زائد ہے جن میں سے زیادہ تر صوبہ پنجاب میں پیش آئے۔




ضلع اٹک کے گاؤں پنڈی سرہال میں ایسے ا متعدد واقعات ہو رہے ہیں