متروکہ وقف املاک بورڈ کنگال،کرپشن کنگ مالا مال،حکام خاموش
سال 2024-25 میں کرایہ داری، کرنٹ لیز سمیت کئی شعبوں میں کروڑوں کے گھپلے، سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کی حکام کو سب اچھا کی رپورٹ،وزیر اعظم نوٹس لیں،شہریوں کا مطالبہ
لاہور: (بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) متروکہ وقف املاک بورڈ کرپشن کا گڑھ بن گیا۔ محکمانہ بجٹ سال 2024-25 کے مطابق کرنٹ لیز، کرنٹ رینٹ، کرایہ داری کے بقایاجات، لیز کے بقایاجات کی آمدن اور شرائن کے ضرورت سے زائد اخراجات کی وجہ سے متروکہ وقف املاک بورڈ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے ۔
سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کی جانب سے وفاقی وزیر سردار یوسف، وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر عطاءالرحمن اور موجودہ چیئرمین ڈاکٹر ساجد چوہان کو سب اچھا کی رپورٹ دی گئی ہے جبکہ حکام نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کی سرکاری آفیشل دستاویزات اورشواہد کے مطابق سال 2024-25 میں متروکہ وقف املاک بورڈ بجٹ میں ماہانہ کرایہ داری ٹارگٹ 3880 ملین تھا جبکہ 3640 ملین وصول ہوئے اور یوں 240 ملین نقصان ہوا۔ کرنٹ لیز 770 ملین ٹارگٹ تھا اور272 ملین حاصل ہوئے، 48 ملین کہاں غائب ہوئے، کرایہ داری بقایاجات وصولی ٹارگٹ 751 ملین اور حاصل 347 ملین تو پھر 404 ملین کہاں چلے گئے، لیز بقایاجات ٹارگٹ 351 ملین، وصول ہوئے 126 ملین تو 240 ملین کہاں چلے گئے۔
اسی طرح گردواروں، مندروں کی مرمت وغیرہ پر 101 ملین خرچ کرنے تھے جبکہ 110 ملین خرچ کردئیے گئے، شرائن میلہ جات ٹارگٹ 547 ملین تھا جبکہ 764 ملین اخراجات کئے گئے اور اس پر 217 ملین کیوں زیادہ اخراجات ہوئے۔ دفتری اخراجات و سٹاف ٹارگٹ اخراجات 540 ملین تھا اور 1397 ملین خرچ کئے گئے، 857 ملین کاکوئی بھی کسی قسم کا حساب کتاب ہی کہیں پر درج نہیں ہے ۔
ملازمین کی تنخواہوں، دفتری مرمت، میڈیکل وغیرہ ٹارگٹ 613 ملین تھا جس پر شاہ خرچی کرتے ہوئے 20 ملین زیادہ خرچ کئے گئے، مذکورہ بجٹ میں کل 7017 ملین کا ٹارگٹ تھا جبکہ 5650 ملین وصول ہوئے اور 1367 ملین کا خسارہ ہوا۔

قبل ازیں مبینہ طور پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کے احکامات پر 2010 میں درجہ دوئم میں نائب قاصد بھرتی ہونے والے کو سکیل 11 میں 14 سال بعد خفیہ طور پر کلرک بنا دیا گیا ، 14 سال کی سابقہ تنخواہیں و دیگر مراعات کا معاوضہ بھی متروکہ وقف املاک بورڈ کے سرکاری بنک HBL سول لائنز برانچ سے مختلف سرکاری چیکوں کی مد میں ادا بھی کر دیئے گئے ہیں۔
بغیر کوئی اشتہار دیئے گئے چوکیدار شاہد محمود کو رواں سال 2025 میں ظاہر کر دیا گیا کہ یہ کلرک 2010ءمیں بھرتی ہوا تھا جبکہ شاہد محمود کے بنک اکائونٹ نمبر 01277901359703میں مختلف سرکاری چیکوں کے ذریعے بھاری رقوم ٹرانسفر کی گئی جبکہ 30 اپریل کو 1104000 کی رقم بھی ٹرانسفر کی گئی تھی۔
تحقیقات میں معلومات حاصل کی گئی کہ 23-03-2016 کو اس وقت کے ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن نے شاہد محمود کو چوکیداروں کی سنیارٹی میں 61 واں نمبر کا لیٹر جاری کیا تھا ۔
سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کی جانب سے مبینہ طور پراختیارات کے ناجائز استعمال اور اقربا پروری کی وجہ سے دیگر عملہ میں بھی بد دلی پیدا ہونے لگی ہے ،ملازمین اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لوٹ مار کے مرکزی کرداروں بشمول سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کیخلاف ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن کو حرکت میں آنا چاہیئے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس لیتے ہوئے عوامی وسائل کی لوٹ مار کرنیوالوں کو نشان عبرت بنانا چاہیئے ۔
موقف کیلئے وفاقی وزیر اور وفاقی سیکرٹری سے متعدد بار رابطے کئے گئے لیکن انہوں نے کال ریسیو نہیں کی۔ ترجمان ای ٹی پی بی نے سیکرٹری بورڈ فرید اقبال کے موقف کو بیان کیا ہے کہ شاہد محمود کا کورٹ آرڈر پر فیصلہ کیا گیا ہے ۔



