پاکستانتازہ ترینکالم

مجھے ایسی دنیا نہیں چاہیے ۔۔۔۔

حسنین جمیل

چند سال قبل دنیا ایک جان لیوا موزی مرض کرونا کی لپیٹ میں تھی 2020 کا پورا سال کرونا کی نذر ہو گیا ،مارچ سےلے کر ستمبر تک پوری دنیا میں جیسے کرفیو نافذ رہا عجب سا ماحول تھا سب کچھ بند تھا سکول تجارتی مراکز سینما گھر کھیل کے میدان عبادت گاہیں، شراب خانے، چائے خانے پارک ہر طرف تالہ بندی تھی اگر کہیں رش تھا تو ہسپتالوں اور قبرستانوں یا شمشان گھاٹوں پر لوگ اس جان لیوا مرض کرونا سے مر رہے تھے ۔

جو بیماری کے بعد صحت مند ہو جاتے تھے وہ طویل عرصے تک ان دنوں کو یاد کر کے کانپ جاتے تھے جب وہ کرونا کا شکار ہوئے تھے ، پوری دنیا یک زبان ہو کر کرونا کا مقابلہ کر رہی تھی تمام مذاہب ذات پات ہر قسم کے علاقائی تعصب سے بالا تر ہو کر ساری دنیا کی حکومتوں کے دماغوں میں کرونا کو شکست دینے کی دھن سوار تھی۔

ریاستوں کے باہمی اختلافات پس پشت جا چکے تھے ایک دوسرے ملکوں میں آمدو رفت کے ذرائع ہوائی اڈے ریلوے اسٹیشن وغیر ہ سب بند تھے لوگ ایک دوسرے سے کٹ چکے تھے اور اپنے گھروں میں قید تھے ، سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا یہ کرونا کب ختم ہو گا ۔

مولوی، پادری، پنڈت سب خدا کےحضور سجدہ ریز تھے ، ایسے میں امریکہ ، برطانیہ، چین اور روس کے ماہرین طب اپنے اپنے ملکوں کی تجربہ گاہوں میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور کرونا ویکسین کی تیاری میں جت گئے کئی ماہ کی انتھک مخنت کے بعد ان ملکوں کے ماہرین طب کرونا ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

یوں دنیا کرونا کو ہرانے میں کامیاب ہو گئی ، یوں لگا اس موذی مرض نے دنیا کو ایک کر دیا تماممالک آپس کے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کو کرونا ویکسین مفت بانٹ رہے تھے ، ایسا لگنے لگا کہ کرونا کال نے دنیاوی اختلافات ختم کر دیئے ہیں اب دنیا میں کبھی جنگ نہیں ہو گی ، اب دنیا کرونا کے بعد غربت بھوک افلاس اور جہالت کے خلاف یک زبان ہو کر جنگ کرے گی اور انسانیت کا بول بالا ہو گا ۔

کرونا کال نے جو سبق دنیا بھر کے انسانوں کو پڑھا دیا اب لوگ اسی کو تا قیامت پڑھتے رہیں گے کیونکہ کرونا کی شکل میں قیامت دیکھ چکے ہیں ، مگر صد افسوس ایسا نہ ہوا دنیا کرونا کال کے خاتمے کے دو سال بعد ہی دست و گربیاں ہو گئ پہلے وسط ایشیا آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ لگی پھر یورپ روس اور یوکرین کی جنگ لگی اسکے بعد مشرق وسطیٰ میں حماس اور اسرائیل کی جنگ لگی اور اب جنوبی ایشیا میں پاکستان بھارت جنگ پھر وہی گولہ بارود کی بارش، موت کا وحشیانہ رقص نفرت اور تعصب کہیں بنام مذہب اور کہیں علاقائی خود مختاری کا یدھ ، دنیا بھول گئی ہے چند سال قبل وہ یک زبان ہو کر صرف کرونا کال سے لڑ رہے تھے ، قدرت نےاس دنیا کو انسانیت کے طابع ہونے کا ایک موقع دیا تھا مگر پھر یہ دنیا اس سبق کو بھلا کر انسانوں کے قتل عام میں لگ چکی ہے، حرف آخر گرو دت کی فلم کا ایک گیت یاد آتا ہے مجھے ایسی دنیا نہیں چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button