انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

مذاکرات: امریکہ بھارت کو میز پر لائے: بلاول بھٹو

پاکستان دہشتگردی پر بات کرنے کو تیار، مذاکرات سے متعلق بھارتی ہچکچاہٹ معنی خیز ہے، کشمیر کو بنیادی تنازع کے طور پر میز پر لانے کی ضرورت، دو عظیم قوموں کی تقدیر کو غیر ریاستی عناصروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا

اسلام آباد، واشنگٹن ( ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو نے خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صدر ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق حوصلہ افزا کردار ادا کیا۔
جنگ بندی کے حصول پر امریکی قیادت تعریف کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دہشتگردی پر بات کرنے کیلئے تیار ہے، مذاکرات سے متعلق بھارتی حکومت کی ہچکچاہٹ معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بنیادی تنازع کے طور پر میز پر لانے کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے، دو عظیم قوموں کی تقدیر کو غیر ریاستی عناصروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے پاکستان ہائوس ( واشنگٹن ) میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کی میزبانی میں منعقدہ عشائیہ استقبالیہ میں دو جماعتی امریکی قانون سازوں کے گروپ سے ملاقات کی۔ تقریب میں امریکی کانگریس کے ارکان بشمول جیک برگمین، ٹام سوزی، ریان زنکے، میکسن واٹرز، ایل گرین، جوناتھن جیکسن، ہینک جانسن، اسٹیسی پلاکٹ، ہنری کیوئلار، مائیک ٹرنر، رائلی مور، جارج لیٹیمیر اور کلیو فیلڈز سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ امریکی قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا اور وفد کے دورے کو ’’ امن کا مشن‘‘ قرار دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس وفد کو ایک مشن دیا ہے اور وہ مشن ہے امن، جس میں بھارت سے بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا شامل ہے۔ حالیہ بھارتی جنگی بیانیے اور موجودہ جنگ بندی کی نازک نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے مستقبل میں ممکنہ کشیدگی کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ انہوںنے کہا کہ جنگ بندی خوش آئند ضرور ہے لیکن یہ محض ایک آغاز ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا، بھارت اور پاکستان، اور بالواسطہ طور پر پوری دنیا، آج اس بحران کے آغاز کے وقت کی نسبت زیادہ غیر محفوظ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مکمل جنگ کی حد آج ہماری تاریخ میں کبھی بھی اتنی کم نہیں رہی، اگر بھارت میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، ثبوت ہو یا نہ ہو، اس کا مطلب جنگ سمجھا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو نے بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ممکنہ نتائج پر بھی امریکی قانون سازوں کو آگاہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا 24کروڑ پاکستانیوں کے لیے پانی بند کرنے کا عندیہ ایک وجودی خطرہ ہے، اگر بھارت نے یہ اقدام کیا تو یہ جنگ کے اعلان کے مترادف ہو گا، سابق وزیر خارجہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے حصول میں امریکہ کے کردار کو سراہا اور امریکی قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آپ سے اپیل کرنے آئے ہیں کہ امریکہ ہمارے اس امن کے مشن میں ہمارا ساتھ دے۔
اگر امریکہ اپنی قوت امن کے پیچھے لگا دے، تو وہ بھارت کو سمجھا سکتا ہے کہ ہمارے مسائل کو حل کرنا، بشمول بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کا مسئلہ، ہم سب کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امریکی حکومت اور کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بامقصد اور تعمیری بات چیت میں معاونت کریں۔
جس طرح ہمیں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی فوری مدد کی ضرورت تھی، آج بھی ہمیں آپ کی فوری مدد درکار ہے تاکہ بھارت کو ایسی پالیسیوں سے روکا جا سکے جو خطے اور دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث بنیں۔ کانگریس ارکان نے جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور جاری بحران پر پاکستانی وفد کی تفصیلی بریفنگ کو بھی سراہا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button