بلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

معیشت پر خودکش حملہ،آئی پی پیز کی تاریخ دہرانے کی تیاری

عاطف عارف

پاکستان کی معیشت ایک کے بعد دوسری زنجیر میں جکڑتی جا رہی ہے۔ ماضی میں بجلی کے شعبے میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں نے قوم پر وہ بوجھ ڈالا جس سے آج تک نجات نہیں ملی۔ capacity payments یعنی بجلی بنے یا نہ بنے، ادائیگی ہر صورت لازمی تھی۔ اس طرز کے معاہدوں نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی ادائیگی پر مجبور کیا اور ملک میں توانائی بحران پھر بھی حل نہ ہو سکا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والی ریاست ایک بار پھر وہی راستہ اختیار کرنے جا رہی ہے۔

حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ پٹرولیم پروڈکٹس شپمنٹ ٹنل کا معاہدہ منظور کیا ہے۔ یہ معاہدہ بھی بغیر کسی اوپن بڈنگ کے ڈالرز میں کیا گیا ہے۔ گویا ماضی کے آئی پی پیز کی طرح ایک اور مالی جکڑ عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی تیاری ہے۔

آئی پی پیز کی کہانی

پاکستان نے 1990 کی دہائی میں توانائی کے بحران سے نکلنے کے لیے نجی بجلی گھروں کا سہارا لیا۔ اس وقت کہا گیا کہ یہ سرمایہ کاری ملک کو بجلی کی کمی سے نجات دلائے گی اور صنعتوں کا پہیہ رواں دواں ہو جائے گا۔ مگر ہوا کیا؟

ڈالرز میں معاہدے طے کیے گئے۔

حکومت نے یہ شرائط مان لیں کہ بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، سرمایہ کار کو capacity payments دی جائیں گی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی منصوبے مطلوبہ کارکردگی نہ دے سکے، مگر ادائیگیاں جاری رہیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان نے تقریباً 8.4 ٹریلین روپے آئی پی پیز کو ادا کیے ہیں جبکہ بجلی کی قلت بدستور موجود ہے۔ بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، گردشی قرضہ ہر سال بڑھ رہا ہے اور عوام بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

نیا معاہدہ اور پرانی غلطی

اب جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کی نوعیت بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔ ایک غیر ملکی کمپنی کو بغیر مقابلے کے ڈالرز میں پٹرولیم شپمنٹ ٹنل کا منصوبہ سونپ دیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ چاہے منصوبہ وقت پر مکمل ہو یا نہ ہو، چاہے نتائج ملیں یا نہ ملیں، پاکستان کو ڈالرز میں ادائیگی کرنی ہی ہو گی۔

ایسے معاہدے قومی معیشت کے لیے ٹائم بم ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی ادائیگیاں کئی دہائیوں تک جاری رہتی ہیں۔

ڈالرز پر انحصار اور تباہ کن اثرات

پاکستان پہلے ہی زرمبادلہ کے بحران کا شکار ہے،بیرونی قرضے 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔زرِ مبادلہ کے ذخائر بمشکل چند ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی ہوتے ہیں روپے کی قدر روز بروز گرتی جا رہی ہے۔

ایسے میں ایک اور ڈالرز میں معاہدہ کرنا گویا اپنی معیشت پر خودکش حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ مستقبل میں جب اس منصوبے کی ادائیگی شروع ہو گی تو حکومت کے پاس یا تو مزید قرض لینا پڑے گا یا عوام پر نئے ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ ڈالنا پڑے گا۔

شفافیت کا فقدان

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ یہ معاہدہ بغیر بولی کے کیوں کیا گیا؟

شفاف طریقہ کار میں اوپن ٹینڈرنگ ہوتی ہے تاکہ بہترین قیمت اور معیار سامنے آ سکے۔

بغیر بڈنگ کے معاہدہ ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیتاہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button