اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد ہوا جس میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کیسز کے اندراج اور نمٹانے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر پیش رفت کا دسواں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی، عدالتی نظام کو جدید بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے مبصر کے طور پر شرکت کی اور کارکردگی کی نگرانی اور کلیدی کارکردگی کے اشاریوں کی اہمیت پر زور دیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران سپریم کورٹ میں 3600 نئے کیس دائر ہوئے جبکہ 5383 کیسز نمٹائے گئے۔ اس دوران زیر التوا کیسز کی مجموعی تعداد کم ہو کر 34083 رہ گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق اکتوبر 2024 میں سزائے موت کے زیر التوا کیسز کی تعداد 384 تھی جو اب کم ہو کر 60 رہ گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت سے متعلق تمام زیر التوا اپیلیں آئندہ 30 دن کے اندر سماعت کیلئے مقرر کی جائیں گی۔
مزید بتایا گیا کہ سالانہ بیک لاگ ختم کرنے کیلئے 2018 تک دائر مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ کیسز کی درجہ بندی اور فائل ٹریکنگ کیلئے بارکوڈنگ سسٹم 30 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق تصدیق شدہ نقول اور نظرثانی درخواستوں کیلئے پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے ای-پیمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے اور عدالتی فیسوں کی تمام کیٹیگریز کیلئے یہ سہولت ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر نے گزشتہ تین ماہ میں تقریباً 20802 سروس درخواستوں پر سہولت فراہم کی۔ اجلاس میں اے ڈی آر اور ثالثی کے اقدامات کی معیار کی یقین دہانی کا ہدف 30 اگست 2026 تک مقرر کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ای-فائلنگ اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں بار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔



