پاکستانتازہ ترینکالم

جب امریکی صدر بھی 4 ججز سے ہار گئے

ایازخان

اسلام آباد میں وکلا احتجاج کرتے رہے، آنسو گیس اور لاٹھی چاج کا سامنا کرتے رہے، سپریم کورٹ کے4 ججز نئے ججز کی تعیناتی پر اعتراضات پر خط لکھتے رہے ، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوارہیں، لیکن اس کے باوجود چھ نئے ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔
سپریم کورٹ میں آٹھ ججز کی تعیناتی کے معاملے پر سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، اور جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ اس خط میں درخواست کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے کیس کا فیصلہ ہونے تک ان تعیناتیوں کو مؤخر کیا جائے۔

خط میں نشاندہی کی گئی کہ اس کیس میں آئینی بینچ فل کورٹ کا فیصلہ دے سکتا ہے، اور اگر نئے ججز شامل ہو جاتے ہیں تو فل کورٹ کی تشکیل ایک نیا تنازع کھڑا کر سکتی ہے۔ ججز نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں یہ تعیناتیاں ‘کورٹ پیکنگ’ کا تاثر دے سکتی ہیں۔

‘کورٹ پیکنگ’ کیا ہے؟ ایک تاریخی مثال

‘کورٹ پیکنگ’ کی اصطلاح اس وقت منظرعام پر آئی جب امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے 5 فروری 1937 کو سپریم کورٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے کا منصوبہ پیش کیا تاکہ سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے ججز کی تعداد بڑھا کر عدالت کے فیصلوں کو اپنے حق میں موڑ سکیں۔

اس وقت سپریم کورٹ کے چار ججز، جنہیں "چار گھڑسوار”یا Four Horsemen کا نام دیا گیا —جسٹس جارج سدرلینڈ، جسٹس پیئرس بٹلر، جسٹس جیمز میک رینالڈز، اور جسٹس ولس وان ڈیوانٹر— جو اکثر روزویلٹ کی نیو ڈیل پالیسیوں کی مخالفت کرتے تھے۔
امریکی صدر روزویلٹ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جوڈیشل پروسیجرز ریفارم بل آف 1937 متعارف کرایا جس کے تحت 70 سال سے زائد عمر کے ہر موجودہ جج کے لیے ایک اضافی جج مقرر کرنے کی اجازت ہوتی۔ اس طرح، وہ چھ نئے ججوں کی تقرری کر کے اپنی پالیسیوں کی حمایت حاصل کر سکتے تھے۔

تاہم اس منصوبے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چارلس ایونز ہیوز اور جسٹس لوئس برانڈیس نے بھی اس کی مخالفت کی۔ بالآخر سینیٹ جوڈیشری کمیٹی نے یہ بل مسترد کر دیا اور روزویلٹ کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

یہ واقعہ امریکی عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی تقسیم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ عدالت کی ساخت میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

آج پاکستان کی عدالتوں اور اسلام آباد کی سڑکوں پر جو بھی ہو ریا ہے۔ یا مزید جو بھی دیکھنے کو ملے گا یہ سب سابق چیف جسٹس کے فیصلوں اور 26 ویں آئینی ترمیم کے ساتھ جڑا ہے۔

پاکستان کی عدلیہ جو کبھی عوامی جدوجہد اور آئینی اصلاحات کی علامت تھی، آج تنازعات کی زد میں ہے۔ نومبر 2024 میں منظور کی جانے والی 26ویں آئینی ترمیم جسے دباؤ اور اپوزیشن ارکان کی مبینہ جبری گمشدگی کے الزامات کے تحت منظور کرایا گیا، عدلیہ کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر چکی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے ججز کے خودمختار تقرر کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں، سیاسی بنیادوں پر تقرریوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور حکومتی وزرا کو بینچ کی تشکیل اور ججز کے انتخاب میں براہ راست مداخلت کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔
اعتراض کیا جارہا ہے کہ اصلاحات کے نام پر طاقت کے ارتکاز کا یہ عمل 18ویں اور 19ویں ترامیم کے تحت قائم کردہ توازن کو بگاڑ رہا ہے اور عدلیہ کے غیرجانبدارانہ کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
جب پارلیمنٹ نے یہ ترمیم منظور کی تھی تو ایک عالمی فورم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے اسے عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی، اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا تھا۔
آئی سی جے کے سیکریٹری جنرل سینٹیاگو کینٹن نے کہا تھا کہ اس ترمیم سے عدالتوں میں تعیناتیوں اور عدلیہ کے انتظامی معاملات پر سیاسی اثر و رسوخ میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے، جو عدلیہ کی آزادانہ اور مؤثر جانچ پڑتال کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔آئی سی جے نے کہا تھا کہ یہ بل عجلت میں منظور کیا گیا ترامیم کو خفیہ رکھا گیا، اور عوامی سطح پر مشاورت نہیں کی گئی۔ اب اس ترمیم کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، اور اس سے عدالتی نظام پر مزید سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ججز کی حالیہ تعیناتیوں کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ مزید تقسیم کا شکار ہو جائے گی؟ کیا وکلا اور ججز کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوگا؟ اور کیا یہ عدلیہ کی ساکھ اور آزادی پر اثر انداز ہوگا؟

یہ تمام سوالات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے، لیکن جو چیز یقینی ہے وہ یہ کہ عدالتی نظام میں غیرمعمولی تبدیلیاں ایک سنگین آئینی بحث کو جنم دے چکی ہیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کے بینیفشری سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کل کو وہ خود بھی اس کا متاثرین بن سکتے ہیں۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔
مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سیاست دانوں نے پہلے کبھی تاریخ سے سبق سیکھا ہے جو اب سیکھیں گے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button