انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

گورنر کیلیفورنیا کا ٹرمپ کیخلاف مقدمہ،مظاہرے ،گرفتاریاں جاری،بعض علاقوں میں کرفیو

پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہروں کے دوران گرفتاریوں، لوٹ مار اور فوجی تعیناتی پر تنازع بڑھنے لگا،پولیس کی کارروائیاں تیز

لاس اینجلس: (ویب ڈیسک )لاس اینجلس میں مظاہرے جاری ہیں کیلیفورنیا کے بعض علاقوں میں کرفیو کردیاگیا ہے جبکہ گورنر کیلیفورنیا نے صدرٹرمپ کیخلاف مقدمہ دائر کردیا ہے ،پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہروں کے دوران گرفتاریوں، لوٹ مار اور فوجی تعیناتی پر تنازع میں اضافہ ہواہے جبکہ پولیس کی کارروائیاں تیزہوگئی ہیں۔

میئر لاس اینجلس کا کہنا ہے کہ رات 8 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔مئیر کیرن باس نے یہ اقدام مسلسل چار راتوں سے جاری ہنگامہ خیز مظاہروں کے بعد کیا ہے، نیشنل گارڈز کی تعداد بڑھا کر 21 سو کردی گئی ہے۔ لاس اینجلس میں بدھ کے روز امریکی پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ان مظاہروں کا مقصد صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کے خلاف احتجاج تھا، مظاہرین جب غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی مرکز کے قریب پہنچے تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔ میڈیا کی کوریج پر بھی قدغن لگائی گئی اور صحافیوں کو پوچھ گچھ کے بعد جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

مظاہرین میں سے بعض افراد نے امریکی پرچم الٹا لہرا کر "ریاستی نظام کے خاتمے” کا پیغام دینے کی کوشش کی۔ شہر کی کئی گلیوں میں مظاہروں کے دوران پرتشدد عناصر نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، سامان لوٹا اور کاروباری املاک کو نقصان پہنچایا، جبکہ دیگر مظاہرین نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

ایپل اسٹور سمیت متعدد دکانیں لوٹ مار کے بعد بند ہو گئیں، کئی کاروباروں نے چوری سے بچنے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے، جبکہ کچھ دکانیں مکمل طور پر خالی کر دی گئیں۔العربیہ کی نامہ نگار نے حالات کو "جنگی منظرنامے” سے تعبیر کیا۔امریکی میرین فورس کی تعیناتی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں واضح کیا گیا کہ یہ فورس صرف وفاقی املاک، سرکاری عمارتوں اور حراستی مراکز کی حفاظت تک محدود ہے، جبکہ سڑکوں پر ان کی تعیناتی کا اختیار صرف کیلیفورنیا کی پولیس کے پاس ہے۔

پولیس کی "فسادیوں” سے نمٹنے کی ذمہ داری بدستور برقرار ہے، تاہم میرین فورس صرف اس صورت میں ردعمل دیتی ہے جب ان پر براہِ راست حملہ کیا جائے۔یہ تمام پیشرفت اس وقت ہو رہی ہے جب کیلیفورنیا کی حکومت نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ فوج کو سڑکوں پر تعینات کرنے سے روکنے کے لیے حکم جاری کیا جائے۔

گورنر گیون نیوسم نے فوجی اہلکاروں کو شہروں میں تعینات کرنے کے عمل کو "جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ” قرار دیا ہے۔لاس اینجلس کی میئر کارن باس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو احتجاج روکنے کے لیے "تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر گیون نیوسم اور میئر کارن باس پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر نے وفاقی فوجی تعیناتی پر ڈونلڈ ٹرمپ اور محکمہ دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر سیکڑوں امریکی میرینز لاس اینجلس میں تعینات کر دیے گئے۔ گورنر کیلیفورنیا نے ٹرمپ کے فیصلے کو جمہوریت پر حملہ اور طاقت کا غلط استعمال قرار دے دیا۔میئر لاس اینجلس نے کہا کہ مظاہرے صرف شہر کے وسطی علاقوں تک محدود ہیں، لوٹ مار اور تشدد کے باعث کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے گزشتہ روز تقریباً 2 ہزار افراد کو گرفتار کیا۔واضح رہے کہ غیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف کارروائیوں پر لاس اینجلس میں پانچویں روز بھی مظاہرے جاری ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button