راولاکوٹ سے 10 ہزار مظاہرین منتشر کرنے کا حکومتی دعویٰ، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان

پونچھ:(ویب ڈیسک)پاکستان کے زیر انتظام میں ضلع پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کو راولاکوٹ کے دو مقامات سے منتشر کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانی والی جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں سے وہ مظفر آباد کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں وہیں روک کر رکھا ہوا ہے۔

حال ہی میں کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور روپوش ہونے والے رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے کہا کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے راولاکوٹ کے علاقے دریک میں عید گاہ اور بس ٹرمینل کے قریب لانگ مارچ کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کیا جس میں مظاہرین ان علاقوں سے منتشر ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران درجنوں کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس وقت آپریشن کیا گیا اس وقت مظاہرین کی تعداد آٹھ سے لے کر دس ہزار کے درمیان تھی۔
کمشنر پونچھ کا کہنا تھا کہ راولاکواٹ کے کچھ مقامات پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت کا سامنا ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کے کارکن ایک منصوبہ بندی کے تحت منتشر ہوئے ہیں۔

اس تنظیم کے ایک رہنما اکرم عباسی کے مطابق ان کا لانگ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کی قیادت کی طرف سے اس لانگ مارچ اور احتجاج کی کال کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
اسسٹنٹ کمشنر حماد بشیر کےمطابق حکومت کی جانب سے پابندی لگائی گئی کسی بھی تنظیم کو جو فنڈز فراہم کرتا اس کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ 21/22/23 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے ’اسی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک کالعدم تنظیم ہےے اس کو مظفرآباد میں چار بڑی بیکرز نے فنڈز فراہم کیے تھے جن کو انھی دفعات تحت سیل کر دیا گیا ہے۔
بدھ کو کشمیر کے بڑے اضلاع بشمول باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں کاروباری مراکز، پبلک ٹرانسپورٹ، بینک اور پیٹرول پمپس بند رہے جبکہ سڑکوں پر عام ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ اگرچہ کشمیر میں سرکاری دفاتر کُھلے ہوئے تھے تاہم اُن میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اُن مقدمات کا سٹیٹس بحال کرنے کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر رہی ہے جو کہ گذشتہ برس عوامی ایکشن کمیٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف درج کیے گئے تھے تاہم حکومت اور کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں پراسیکوشن کی طرف سے ان مقدمات کو واپس لے لیا گیا تھا۔



