23 فروری بروز اتوار چیمپئنز ٹرافی میں پاک بھارت ’’یدھ‘‘ ہونے جا رہا ہے چند روز قبل نیٹ فلیکس پر پاک بھارت کرکٹ میچز کے حوالے سے ایک ڈاکومینٹری ریلیز کی گئی تھی جس میں سابق بھارتی کپتان بائیں ہاتھ کے کلاسک بیٹر سارو گنگولی جو بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا پاک بھارت کرکت میچز دوستانہ ہوتے ہیں تو انہوں نے بڑا دلچسپ جواب دیا گنگولی نے کہا جب سامنے سے شعیب اختر 150 میل سے زیادہ بال کر رہا ہو تب کہاں کا دوستانہ رہ جاتا ہے ۔
اب تو نہ ساروگنگولی جیسا ذہین ترین کپتان ہے نہ شعیب اختر جیسا سپیڈ سٹار لیکن اسکے باوجود پاک بھارت کرکت میچ کی گونچ ویسی ہی ہے جیسے ماضی سے رہی ہے اگر ان دونوں ملکوں نے اپنی باہمی تضادات حل کرلئے ہوتے تو آج برطانیہ اور آسٹریلیا کی طرح ایشیز جیسے بڑے کرکٹ مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہوتے پچھلے 15 سالوں کے دگرگوں سیاسی حالات نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی کرکٹ سیریز کو بھی ختم کر دیا ہے ،اب تو یہ دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے ایونٹ یا پھر ایشیز کرکٹ کونسل کے مقابلے میں ہی مدماقبل ہوتے ہیں ، مجموعی طور پر تو ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا ریکارڈ بہتر ہے جیت کی اوسط پاکستان کی بھارت سے زیادہ ہے مگر جو آئی سی سی اور الشین کرکٹ کونسل کے میچز ہیں اس میں بھارت کی جیت کی شرح پاکستان سے بہت بہتر ہے ۔
ون ڈے کرکٹ میچز کے ورلڈ کپ میں تو 1975 سے لے کر 2023 تک پاکستان بھارت سے ایک بھی کرکٹ میچ نہیں جیت سکا تاہم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور ون ڈے چیمپئنز ٹرافی میں دوبار ہم بھارت کو ہرانے میں کامیاب رہے ، 2017 کی آخری چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو ہرایا تھا ،سرفراز احمد فاتح کپتان تھے اب اتوار کے میچ میں کپتان محمد رضوان اور بھارتی کپتان روہت شرما دونوں پر دبائو تو ہو گا مگر نفسیاتی طور پر روہت شرما بہتر ہیں کیونکہ چیمپئنز ٹرافی کا پہلا میچ بنگلہ دیش کے خلاف جیت چکے ہیں اور برطانیہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیتے تھے جبکہ پاکستان چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں نیوزی لنڈ سے ہار چکا ہے اس سے پہلے اپنے سہ فریقی سیریز میں بھی ہار گیا تھا ۔
پاکستان کے بیٹرز بابر ،رضوان سعود ،سلمان کو بھارت کے شامی، کلددیپ ، اکشیر پٹیل جیسے بہترین بالروں کا سامنا ہے ، جبکہ بھارت کے ورلڈ کلاس بلے باز ویرات کوہلی ،روہت شرما، شبمن گل ،کے راہول کو پاکستان کی اوسط۔ درجے کی بولنگ شاہین،نسیم ، حارث، ابرار کے مدمقابل ہو گی ، آخرمیں پاک بھارت کرکٹ میچ دبائو کا کھیل ہوتا ہے جو دبائو برداشت کر گیا وہ جیت جائے گا۔



