پاکستانتازہ ترینکالم

پھٹتا ہوا ایک پیج اوربدلتا منظر نامہ

عاطف عارف

پاکستانی سیاست میں "ایک پیج” کا بیانیہ کئی سالوں سے اقتدار کے مرکزوں کی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ خاص طور پر عمران خان کی حکومت کے قیام اور سقوط کے دوران اسٹیبلشمنٹ اور منتخب حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا تاثر دیا جاتا رہا۔ تاہم، حالیہ چند ہفتوں کے واقعات اور بیانات سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ صفحہ جس پر حکومت اور طاقت کے غیر منتخب مراکز ایک ساتھ تھے، اب پھٹتا جا رہا ہے۔

خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق کی کھلی تنقید
خواجہ آصف نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی نہ صرف اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہی ہے بلکہ غیر ملکی شہریت بھی حاصل کر رہی ہے۔ یہ بیان اُس وقت مزید معنی خیز ہو جاتا ہے جب خواجہ سعد رفیق جیسے تجربہ کار سیاستدان کہتے ہیں کہ "اگر سچ نہ بولا گیا تو 75 سال پھر ضائع ہو جائیں گے”۔ ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ن لیگ کے اندر بھی طاقتور اداروں کی مداخلت پر شدید بے چینی موجود ہے، مگر وہ اسے کھل کر بیان کرنے سے ہچکچاتے رہے تاہم اب وہ پردہ چاک ہوتا نظر آ رہا ہے۔

🔹 کرپشن کا پردہ چاک یا اندرونی جنگ؟
حالیہ دنوں خواجہ آصف کے قریبی افراد پر نیب اور دیگر اداروں کی کارروائیاں اسی بات کی غماز ہیں کہ اب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان مکمل ہم آہنگی باقی نہیں رہی۔ یہ کارروائیاں نہ صرف سیاسی وفاداریاں توڑنے کا حربہ ہیں بلکہ ایک دوسرے کو دباؤ میں لانے کا ہتھیار بھی۔

سوال یہ ہے: کیا واقعی کرپشن ہی ہدف ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو کئی دیگر "مقدس گائیں” بھی احتساب کے دائرے میں ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن کا نعرہ اکثر سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ اصلاح کے لیے۔

🔹 عمران خان: واپسی کی آوازیں؟
عمران خان اس وقت قید میں ہیں، اور ان پر بیک وقت کئی مقدمات چل رہے ہیں، جن میں سائفر کیس، توشہ خانہ، اور 9 مئی کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم، دلچسپ امر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ناراض وہی جماعتیں جنہوں نے عمران خان کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا، اب "حقیقت پسندی” کی بات کر رہی ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان نے اب تک کسی ڈیل یا مفاہمت کی راہ اختیار نہیں کی، یہی بات ان کے بیانیے کو عوام میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات اور جلسوں میں پی ٹی آئی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی عمران خان کو متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایک دوسرے کا دفاع کرنے میں ناکامی
صورتحال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کا دفاع نہیں کر پا رہی، اور اسٹیبلشمنٹ حکومت کے اقدامات سے لاتعلقی اختیار کر رہی ہے۔ یہی تضاد اب میڈیا، پارلیمنٹ، اور بیوروکریسی میں بھی واضح ہو رہا ہے۔

قیادت کی تبدیلی کی افواہیں
ملک میں اس وقت یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وزیر اعظم اور صدر کی تبدیلی زیر غور ہے۔ کئی حلقے شہباز شریف کی جگہ نگران سیٹ اپ یا کسی نئی قیادت کی بات کر رہے ہیں، جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے نئی صف بندی پر غور کر رہی ہے۔ ان افواہوں کی حقیقت جو بھی ہو، یہ بات واضح ہے کہ نظام کے اندر ہلچل جاری ہے۔

عوامی مسائل: اصل فریق نظر انداز
مہنگائی، بجلی کے نرخ، بے روزگاری، اور اشرافیہ کے لیے دیے گئے ٹیکس ریلیف جیسے اقدامات نے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ جب اقتدار کی بندربانٹ میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں مصروف ہوں، تو عام شہری کے مسائل کون سنے گا؟

نتیجہ
"ایک پیج” اب پھٹ چکا ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جبکہ عوام دونوں سے مایوس ہو چکی ہے۔ اگر حالات کا رخ نہ بدلا گیا اور حقیقی جمہوری عمل کو بحال نہ کیا گیا، تو نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔

اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button