پنجاب میں اعلیٰ عہدوں پر من پسند افسران کے تقرر و تبادلوں کے معاملے پر تین ’’بڑوں ‘‘ کے درمیان جاری طویل کشمکش بالآخر ایک ملاقات کے نتیجے میں ختم ہوگئی ہے، لہٰذا اب طے پاگیا ہے کہ کس اہم عہدے پر کونسی ’’بڑی‘‘ شخصیت تقرر و تبادلے کریگی۔ یوں آئندہ ہفتے میں پنجاب میں اہم عہدوں کیلئے ٹرانسفر پوسٹنگ ہو گی، جو افسران پرتگال میں انوسٹمنٹ کر کے وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے معاملات طے کر کے بیٹھے ہیں انہیں بھی نئی پوسٹنگ ملے گی یا وہ پھر ایکس پاکستان لیو پر چلے جائینگے، یہ فی الحال کچھ دنوں کے بعد ہی پتا چلے گا، لیکن واضح رہے کہ وہ افسران جو پرتگال کی شہریت حاصل کرکے اپنی رخصتی کے معاملات قریباً قریباً مکمل کرچکے ہیں ان کے اہل خانہ کو بھی وہ سکیورٹی کلیئرنس دلواچکے ہیں۔
دوسری طرف نئی پوسٹنگ کیلئے اب بڑے بڑے افسر ان میدان میں کود چکے ہیں اور انکی توجہ اپنے کام کی بجائے اہم سیاسی شخصیات کی قربت حاصل کر کے اہم پوسٹنگ حاصل کرنے پر ہیں، ویسے تمام تر تفصیلات میں پہلے کالم میں گوش گزار کرچکا ہوں، اب بھی یقین ہے کہ اس میں صرف چند ایک تبدیلیاں ہونگی۔
پنجاب کے بڑےضلع میں ماضی کے برعکس امسال عید کے موقعہ پر تاریخ میں پہلی بار کوئی جرم رپورٹ نہیں ہوا ، لہٰذا دیگر اضلاع کے افسران، جو اِس ضلع کے جرائم کی تاریخ سے بخوبی واقف ہیں وہ بھی حیران ہیں۔
یہ بڑا ضلع گوجرانوالہ ہے، یہاں پولیس سربراہ رانا ایاز سلیم نے اپنی پوسٹنگ کے دوران صرف جرائم کا ہی خاتمہ نہیں کیا بلکہ جرائم کی وجہ اُن کالی بھیڑوں کا بھی خاتمہ کیا جن کی سرپرستی سیاسی شخصیات کرتی آرہی تھیں ،لیکن سی پی او گوجرانوالہ پر کسی کا سیاسی دبائو کارگر ہوا اور نہ ہی دم تعویز یا کالے علم نے کوئی اثر کیا، لہٰذا پولیس وردی میں کالی بھیڑیں جنہیں سزائیں دی گئیں وہ کرپٹ افسران ملازمت پر بحال نہیں ہوئے جبکہ وہ افسران و ملازمین جنہوں نے اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھ کر اپنے معاملات سیدھے کرلئے تھے اب انہیں ایمان دار افسر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اپنا ’’طریقہ واردات ‘‘یا تو تبدیل کرلیا ہو ،یا پھر رانا ایاز سلیم کے تبادلے کے منتظر ہوں۔
پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ کی تاریخ ہے کہ ہر سال عید کے موقعہ پر ڈکیتی، چوری، خاندانی دشمنی پر قتل یا دیگر جرائم عام دنوں کے برعکس کہیں زیادہ ہوتے ہیں مگر امسال سی پی او گوجرانوالہ ایاز سلیم نہ صرف خود عید اور عید کے باقی ایام میں ڈیوٹی پر موجود رہے ، بلکہ انہوں نے ماتحت افسران ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز وغیرہ کو بھی چھٹی دینے سے انکار کردیا لہٰذا تمام افسران فیلڈ میں موجود رہے، یوں نہ صرف کرائم قابو میں رہے بلکہ پتنگ بازی کا خونی کھیل بھی نہیں ہوا، وگرنہ عید کی چھٹیوں میں پہلوان کے شہر میں بسنت کا سماں ہوتا تھا۔
گوجرانوالہ ڈویژن میں صرف تین ایس پی حضرات دو دن کی رخصت پر گئے جبکہ باقی فیلڈ میں ڈیوٹی کرتے رہے، یوں سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم کی منظم منصوبہ بندی کے باعث عید پر جرائم قابو میں رہے ۔ بہت سے جاننے والے پولیس افسران اور دوستوں کا کہنا ہے کہ آپ سی پی او گوجرانوالہ کے بارے تعریفی کلمات لکھتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ انکے اچھے کاموں کے بارے میں فیلڈ افسران اور ذرائع سے ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں ، یہی نہیں اُن کے ماتحت وہ افسران جو سی پی او کے سخت گیر رویے سےناخوش ہیں وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے ایاز سلیم جیسا کمانڈر نہیں دیکھا کیونکہ اِن کی دھک کی وجہ سے سنگین جرائم میں ملوث خطرناک ملزمان علاقہ چھوڑ گئے ہیں لہٰذا وہ تبھی واپس آئیں گے، جب سی پی او کا تبادلہ ہوگا۔
جہلم کے ماتحت پولیس افسران سابق ڈی پی او ناصر محمود باجوہ کو تبدیل کرانے کیلئے دن رات افواہیں پھیلانے میں مصروف رہے تاکہ ڈی پی او ناصر محمود باجوہ کسی نہ کسی طرح تبدیل ہوجائیں ،یہ وہ ماتحت افسران تھے ،جن پر کرپشن کے الزامات تھے، اور وہ من پسند پوسٹنگ کیلئے بڑی سفارشیں کرواتے لیکن اِس بار قسمت نے اِن کا ساتھ نہ دیا اور ڈی پی او ناصر محمود باجوہ کی جگہ تعینات ہونیوالے ڈی پی او طارق عزیز سندھو ان سے بھی سخت افسر نکلے اسی وجہ سے جو پولیس افسران ڈی پی او ناصر محمود کے تبادلے کیلئے دن رات سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے اب انہیں وہی مسیحا لگتے ہیں کیونکہ ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے کرپٹ افسران کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے اور افسران کیلئے سفارشیں بھی کسی کام نہیں آ رہیں ۔
اِس سے قبل ایس ایس پی طارق عزیر سندھو قصور اور اوکاڑہ کی پوسٹنگ میں بڑے سیاستدانوں اور اہم شخصیات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ماتحت افسران کی اپنی مرضی کی پوسٹنگ کرتے اور جس افسر کے متعلق انہیں یقین ہوجاتا کہ وہ محکمہ پولیس کی نیک نامی کو مجروح کررہا ہے اِس کالی بھیڑ کو محکمہ سے نکال باہر کرتے، یہی وجہ ہے کہ اب جہلم میں بھی انہوں نے اسی حکمت عملی کے تحت کالی بھیڑوں کو اپنی تاک پر رکھا ہوا ہے، اور سائلین بھی تھانوں میں نامناسب سلوک کی شکایت نہیں کرتے بلکہ میرٹ پر انصاف ملنے کا اعتراف کرتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں تعینات ہونے والے ڈی پی او سید علی کی پہلی پوسٹنگ ایسے ’’ہارڈ ایریا‘‘ میں ہوئی جہاں انکا دن رات چوروں، ڈاکوئوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پنجاب و خیبرپختونخوا کی سرحد ہونے کی وجہ سے خوارجیوں کے ساتھ بھی سامنا ہوتا رہتا ہے، لیکن ڈی پی او سید علی اِس لئے قابل تعریف ہیں کہ انہوںنے اپنی ٹیم اور انٹیلی جنس معلومات کے باعث ساتوں حملے ناکام بنا کر سبھی کو دنگ کردیا ہے کیونکہ اِس سے قبل خیبر پختونخوا میں خوارجیوں کے حملے کے نتیجے میں پولیس ملازمین و شہریوں کا جانی نقصان ہوتا رہا ہے۔
سٹی ڈویژن لاہور میں تعینات ایک بااثر ایس ایچ او از خود میسج کر کے من پسند پوسٹنگ حاصل کرتا ہے، وہ اپنے افسران و اور ماتحت ساتھیوں کو انتہائی ایماندار اور پروفیشنل افسر کے ساتھ ہونے والی موبائل پر واٹس ایپ چیٹ (conversation)دکھا کر انہیں مرغوب کرتا ہے، اسی وجہ سے وہ من پسند پولیس اسٹیشن میں پوسٹنگ لیتا ہے،حالانکہ سنیئر پولیس افسر کیساتھ موبائل فون پر ہونیوالی conversationدوسروں کو دکھانا سراسر غیر اخلاقی ہے۔



