چترال ڈائری: پلیلیاں سیر پل خستہ حالی کا شکار
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
خیبرپختونخوا کی وادی اپر چترال میں واقع شوست یارخون پل "پلیلیاں سیر” کے نام سے مشہور ہے یہ پل نہ صرف اپر یارخون و وادی بروغل کے باسیوں کے لیے آمدورفت کا ذریعہ واحد ہے بلکہ یہ درہ بروغل کی وادیوں میں انسانی رابطے، معاشی زندگی، تعلیمی مواقع اور علاج معالجے کی سہولت کا ستون بھی ہے۔ یہ پل 1997 میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کی کوششوں سے تعمیر ہوا تھا جس نے ایک دور افتادہ، پسماندہ مگر جغرافیائی لحاظ سے اہم خطے کو مرکزی دھارے سے جوڑ دیا۔
1990 کی دہائی کا اختتام ایک ایسے دور سے ہوا جب یارخون اور بروغل کے عوام جدید سہولیات سے محروم تھے۔ برف پوش پہاڑوں، تنگ گھاٹیوں اور صعوبتوں بھرے راستوں میں "پلیلیاں سیر پل” نامی اس پل کی تعمیر ایک نعمت سے کم نہ تھی۔ اس پل کی بدولت مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانا ممکن ہوا، بچے تعلیمی اداروں تک پہنچے، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور تجارتی نقل و حرکت کو نئی زندگی ملی۔
گزشتہ تقریباً تین دہائیوں میں یہ پل ہزاروں انسانوں کی زندگیوں کو بحفاظت ہسپتال پہنچانے کا ذریعہ بنا رہا۔ سادگی سے بنی لکڑی کی یہ ساخت وقت کے ساتھ ساتھ موسموں، برفباری، بارش اور استعمال کی شدت سے کمزور ہوتی چلی گئی، مگر حکومتوں کی توجہ سے ہمیشہ محروم رہی۔
آج یہ پل نہ صرف خستہ حالی کا شکار ہے بلکہ خطرناک حد تک غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ پل کا ڈھانچہ بوسیدہ ہو چکا ہے، لکڑیاں گل چکی ہیں اور آمدورفت کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں کی باشعور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت پل کو بند کیا تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ مگر افسوس! ابھی تک نہ کوئی حکومتی نمائندہ، نہ ضلعی انتظامیہ اور نہ ہی AKRSP نے پل کی حالت کا جائزہ لینے کی زحمت کی ہے۔
اس المیہ پر خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ پسماندہ علاقوں کے مسائل کبھی بھی حکومتی ترجیح نہیں رہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف بھی ہے۔
عوام اپر یارخون و بروغل نے ایک قرارداد کے زریعے ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محترمہ ثریا بی بی، صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال جناب شہزادہ صاحب، تحصیل چیئرمین جناب سردار حکیم، ایم این اے چترال جناب مولانا عبداللطیف اور بالخصوص AKRSP سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری بنیادوں پر موجودہ پل کی مرمت کی جائے۔ جدید آر سی سی (RCC) پل کی تعمیر کی جائے جو طویل مدتی حل ہو۔ پل کی تکنیکی جانچ اور مضبوط ڈیزائن کے لیے ماہرین کی ٹیم بھیجی جائے۔ عوامی مشاورت کو ترجیح دی جائے تاکہ اصل زمینی حقائق سامنے آ سکیں۔
"پلیلیاں سیر پل” محض ایک پل نہیں بلکہ ایک پوری وادی کی سانسیں وابستہ ہیں۔ اناوچ پل کے حادثے سے سبق سیکھنے کا وقت ہے، اور اب مزید کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اربابِ اختیار فوری اقدامات کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، قابلِ اعتماد اور پائیدار رابطے کا ذریعہ فراہم کریں گے۔
یہ وقت خالی وعدوں کا نہیں، عمل کا ہے۔”اگر ہم آج نہ جاگے تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔”
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے



