انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بھارتی فلمی فوج اور پاکستان کی بہادری

ٹیلی ویژن آن کیا تو بھارتی نیوز چینلز پر نشر ہونے والے پروگرامز نے چونکا دیا۔ اسکرین پر فلمی مناظر، بناوٹی مکالمے اور سنیما کے ایکشن ہیروز کو قومی وقار کے استعارے کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک متوازی دنیا تخلیق کر دی گئی ہو جو حقیقت سے یکسر کٹی ہوئی ہےجہاں اسٹیج، کیمرہ اور فلمی اسکرپٹ ہی طاقت کے اصل پیمانے بن چکے ہوں۔ یہ نفسیاتی بیانیہ اس بنیادی حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے کہ بھارت اپنی فوج میں حقیقی، تاریخ ساز اور زندہ کرداروں کی کمی کو فلمی ہیروز کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے، تاکہ دفاعی اور انٹیلیجنس ناکامیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ قربانیوں سے روشن ہے۔ یہاں ہیرو فلمی مکالموں سے نہیں، خون سے پہچانے جاتے ہیں۔ راشد منہاس جیسے نوجوان شاہین ہوں یا میجر عزیز بھٹی جیسے فولادی عزم کے حامل افسریہ وہ نام ہیں جنہوں نے جان دے کر قوم کو سرخرو کیا۔ نشانِ حیدر پانے والے یہ سپوت کسی اسکرین کی پیداوار نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہیں جن پر دنیا کی بڑی افواج آج بھی فخر اور تحقیق کرتی ہیں۔ یہی وہ عسکری سرمایہ ہے جو کسی فلمی سیٹ پر تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔
1965 کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، ہر جگہ حقیقت اور فسانے کے درمیان فرق دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستانی افواج نے دفاعِ وطن کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی عسکری اکیڈمیوں میں بطور کیس اسٹڈی پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی سنیما میں سنی دیول جیسے اداکاروں کی جنگی فلمیں عوامی جذبات کو بھڑکانے اور جنگ کو ایک تماشہ بنا کر پیش کرتی رہیں، تاکہ قوم کو اسٹیج کی روشنیوں میں الجھا کر اصل سوالات سے دور رکھا جا سکے۔
اسی حقیقت کی تازہ مثال حالیہ برسوں میں سامنے آئی۔ باجوڑ میں میجر عدیل زمان نے اپنی جان وطن کے لیے قربان کر دی۔ Inter Services Public Relations کے مطابق، ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے پانچ دہشت گرد ہلاک کیے گئے، مگر اسی معرکے میں میجر عدیل زمان اگلی صف میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھایہ اصل جنگ تھی، جہاں فتح کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے۔
حالیہ برسوں میں دنیا نے ایک بار پھر یہ حقیقت دیکھی کہ جدید ترین بین الاقوامی ٹیکنالوجی بھی اس وقت بے بس ہو جاتی ہے جب اس کے مقابل عزم، تربیت اور درست حکمتِ عملی کھڑی ہو۔ Rafale طیارے، S-400 میزائل سسٹم اور اسرائیلی ڈرونز محض اوزار ہیں اصل فرق اس ہاتھ اور دماغ سے پڑتا ہے جو انہیں استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج اور میڈیا کی گیدڑ بھبکیاں عملی میدان میں خاموش ہوتی نظر آئیں، اور خود بھارتی عسکری قیادت کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ فتح اسکرین پر دکھانا آسان ہے، میدان میں حاصل کرنا نہیں۔
پاکستان آرمی کی موجودہ قیادت، جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں، اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ دفاعِ وطن محض بیانات کا نام نہیں بلکہ عملی تیاری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ وقار کا تقاضا ہے۔ اسی پیغام کو قوم اور دنیا تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں DG ISPR، میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کردار بھی نمایاں ہے۔ ان کی گفتگو میں نہ کوئی فلمی مکالمہ ہوتا ہے، نہ اسٹیج ڈرامہ صرف حقائق، شواہد اور ایک ذمہ دار فوج کی زبان۔
آخرکار، تاریخ اپنا فیصلہ خود سناتی ہے۔ قومیں فلمی مناظر، مصنوعی ہیروز اور اسٹیج پر سجے بیانیوں سے نہیں بلکہ قربانی، کردار اور سچائی سے پہچانی جاتی ہیں۔ پاکستان کی فوج اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہےجبکہ بھارتی فلمی فوج محض اسکرین تک محدود ایک وہم ہے، جو روشنی بند ہوتے ہی خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button