پاکستانتازہ ترینکاروبار

گندم 4ہزارروپے من مقررورنہ اسلام آباد مارچ:کسان اتحاد کی دھمکی

حکومت کسانوں کو لوٹنے والے مافیاز کی سرپرستی کر رہی:مرکزی چیئرمین کسان اتحاد:خالد باٹھ،ذوالفقار حسین

لاہور( بیوروچیف/سیدظہیر نقوی ) کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین چوہدری خالد باٹھ نے کہا ہے کہ گندم کابحران،حکومتی نا اہلیء اور کسان دشمن پالیسی کا نتیجہ ہے ۔کسانوں پر ظلم کے خلاف آج لاہور پریس کلب سمیت ہر ضلع میں احتجاج ہو رہاہے ۔

اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے اور گندم کی سرکاری قیمت 4000مقرر نہ کی تو پھر ہمارے احتجاج کارخ اسلام آباد کے ایوان اقتدار کی طرف ہوگا ۔لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا سے جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے بھی خطاب کیا اور مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ۔

چوہدری خالد باٹھ کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کو لوٹنے اور اونے پونے فصلیں خریدنے والے مافیاز کی سرپرستی کر رہی ہے۔حکومت کی ترجیحات ٹھیک نہیں ہیں جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار آئی ہے کاشتکاروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔گزشتہ سال سے لیکر امسال تک جتنی بھی فصلیں آئیں ہیں کسان رل کر رہ گیا ہے۔قرضوں میں جکڑ گیا ہے۔

حکومت کسانوں کو فصلیں کاشت کرنے سے بدظن کر رہی ہے۔ کاشتکار جو بھی چیز استعمال کرتا ہے چاہے کھادیں ہوں یا زرعی مداخل سب کی قیمتیں ہمسایہ ملک سے زیادہ ہیں۔بجلی کی یونٹ 60روپے کا پڑتا ہے۔ حکومت کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان خطے میں سب سے مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔

علاوہ ازیں بورے والا میں پریس کلب کے باہر کسانوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کسان اتحاد کے مرکزی صدر ملک ذوالفقار حسین اعوان نے کہا ہے کہ یہ ز راعت کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کہنے والی حکومت کسانوں کی ریڑھ کی ہڈی کو مت توڑے اور حکمران گندم کی خریداری قیمت چار ہزار روپے فی من مقرر کرے ۔

کسانوں کے بجلی کے بلوں میں اضافی یونٹوں کے بلوں کا فرانزک کرواکے بقیہ بلوں کی وصولی اقساط میں کی جائے جبکہ یوریا کھاد،زرعی ادویات میں بھی کسانوں کو سبسڈی دی جائے اور کسانوں کو بجلی بلوں کے بقایاجات کی وصولی کے لئے ہراساں نہ کیا جائے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button