پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ایک صوبے کی کاز لسٹ میں 11 میں سے 10 بیوی کے قتل کے مقدمات:سپریم کورٹ

بااثر افراد اکثر کمزور فریق سے زبردستی صلح نامہ لکھوا لیتے ہیں،والد کو مارنے کے بعد بریت کا سرٹیفکیٹ کیوں چاہیئے؟ جسٹس ہاشم کاکڑ

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے چار مرلہ اراضی کیلئے باپ کو قتل کرنے والے بیٹے کی صلح کی بنیاد پررہائی کے کیس میں خواجہ حارث اور شاہ خاور کو بطور عدالتی معاونین تحریری گزارشات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کردی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے والد کو مارنے کے بعد ملزم کو بریت کا سرٹیفکیٹ کیوں چاہیے اور اس کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اس نے کوئی امتحان دینا ہے یا سیاست میں آنا ہے؟ ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں 11 کیسز میں سے 10 کیس بیوی کو قتل کرنے کے تھے۔

اگر قانون کا یہی حال رہا تو یہ جنگل کا قانون بن جائے گا جہاں جس کا دل چاہے وہ قتل کرتا پھرے۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں 11 کیسز میں سے 10 کیس بیوی کو قتل کرنے کے تھے، دو مردوں کی لڑائی میں بیویوں کو قتل کر دیا گیا، کوئی مسئلہ تو علیحدگی اختیار کرلو، بیوی کو قتل کرنے دینے کا کیا جواز ہے؟۔

مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس فساد فی الارض میں نہیں آتا، ملزم کے دماغ کی خرابی کا پہلو بھی ہوسکتاہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نےکہااگر دماغی خرابی تھی تو ملزم خود کو گولی مار لیتا یا چھت سے چھلانگ لگا لیتا، باپ کو گولی مارنا ذہنی بیماری کیسے ہو سکتی ہے؟۔ وکیل نے کہا عدالت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھے میرا موکل 2015 سے جیل میں قید ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نےکہا کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ گیارہ سال سے زائد قید کاٹنے پر آپ کے موکل کو الزام سے بری کردیا جائے، اس کیس کے فیصلے کا پورے ملک پر اثر پڑے گا، ایک قتل پر ملزم 15 سال سزا کاٹ کر باہر آ جاتا ہے جبکہ دس قتل کرنے والا بھی 15 سال بعد رہا ہو جاتا ہے جو ایسے ہے جیسے قتل کا لائسنس دے دیا جائے۔

دنیا بھر میں دشمنی میں بچوں اور عورتوں کو قتل نہیں کیا جاتا مگر ہمارے ہاں ہر کسی کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے صلح کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا بااثر افراد اکثر کمزور فریق سے زبردستی صلح نامہ لکھوا لیتے ہیں جس سے انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button