انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترین

عالمی برادری اور میڈیا پاکستان کی بہترین سفارتکاری،ملٹری ڈپلومیسی کی معترف،خراج تحسین پیش

یواین سیکرٹری جنرل، چین ، امریکہ ، ایران،قطر ، سعودیہ ، برطانیہ ،مصر ،نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کا پاکستانی قیادت کو خراج تحسین،عالمی میڈیا نے شہباز شریف ،فیلڈ مارشل کی کوششوں کو اجاگر کیا

اسلام آباد، نیویارک (ویب ڈیسک ) پاکستان کی موثر سفارتکاری اور ثالثی کردار کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کے رہنمائوں نے امن کے قیام میں پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت حساس اور پیچیدہ صورتحال میں متوازن اور موثر سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد ایران کے ساتھ جنگ روکنے میں پیشرفت ممکن ہوئی۔فریڈرک مرز نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا جبکہ وزارت خارجہ ترکیہ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔چین کی جانب سے بھی پاکستان کے کردار کو بھرپور سراہا گیا۔

جیانگ زائیدونگ نے مشرقِ وسطی اور خلیجی خطے میں امن کے فروغ کےلیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جبکہ وزارت خارجہ چین نے امن کے لیے پاکستان کی فعال ثالثی کی حمایت کا اعلان کیا۔قطر اور سعودی عرب کی جانب سے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا گیاجبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری نے کہا ہے کہ پاکستان کے کردار کے بعد خطہ ایک اہم اور حساس مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔

برطانوی سفیر جین میریٹ نے بھی امن کے لیے پاکستان کی موثر سفارتکاری پر شکریہ ادا کیا، جبکہ پالو جینٹیلونی نے پاکستان کو نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا۔قازقستان کے صدر نے بھی جنگ بندی میں کردار پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادکیا۔نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز اور یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے بھی امریکہ ایران جنگ بندی اور پاکستان کے ثالثی کردار کو قابلِ ستائش قرار دیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، مصر، انڈونیشیا، عراق سمیت متعدد ممالک نے اس جنگ بندی کو مثبت پیشرفت قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔مصر کی وزارت خارجہ نے کہا یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کیلئے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لئے مزید کوششیں درکار ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کیلئے بھی استحکام کا باعث بنے۔

ترجمان جاپانی حکومت منورو کہارا نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیشرفت ہے، حالات کو حقیقی معنوں میں امن کی جانب جانا چاہیے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کیلئے محفوظ گزرگاہ یقینی بنائی جائے، امید ہے سفارتکاری کے ذریعے جلد حتمی معاہدہ طے پائے گا، جاپان بین الاقوامی برادری کے ساتھ ملکر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ماہرین کے مطابق پاکستان ایک نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر اور ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر عالمی افق پر ابھر رہا ہے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطی کی پیچیدہ صورتحال میں اپنے متوازن تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں عالمی طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔تجزیہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ تباہ کن جنگی ماحول میں امن کا راستہ نکالنا پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور موثر ملٹری ڈپلومیسی کا واضح ثبوت ہے، جس سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔دریں اثناء پاکستان کی جانب سے حالیہ کشیدہ صورتحال میں موثر سفارتکاری اور ملٹری ڈپلومیسی کے ذریعے جنگ کے خاتمےمیں کردار کو عالمی ذرائع ابلاغ نےبھی بھرپور انداز میں سراہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے خطہ ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچ گیا۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کی موثر سفارتکاری کے نتیجے میں جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے روکنے کا اعلان کیا۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور بااعتماد ثالث کے طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا موثر ذریعہ بنا۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے صدر ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بات چیت کے بعد لڑائی روکنے کا فیصلہ کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان کئی ہفتوں سے خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا تھاجو بالآخر کامیاب ثابت ہوئیں۔خلیجی اخبار گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر خود کو ایک بااعتماد امن ضامن کے طور پر منوایا۔ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ نے پاکستان کے کردار کو "تاریخی اور نتیجہ خیز مصالحتی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے خطے کو بڑے خطرات سے بچایا۔

بھارتی اخبار دی ہندو نے بھی جنگ کے خاتمے میں پاکستانی قیادت، خصوصا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو اجاگر کیا۔ایک اخبار نے لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکرات کی قیادت کی، جب دنیا دم سادھے کھڑی تھی اس وقت پاکستان کے اہم اور جرأت مندانہ اقدام کو فریقین اور عالمی برادری نے سنجیدگی سےلیا۔اخبار نے مزید لکھا کہ بین الاقوامی دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے پاکستان اور وزیراعظم کے مؤقف کی پذیرائی ہورہی ہے، وزیرخارجہ اسحاق ڈار رات گئے تک سفارتکاری میں مصروف رہے۔خلیجی میڈیا کے مطابق پاکستان نے حالیہ جنگ کے خاتمے کیلئے بہترین کردار ادا کیا اور ٹرمپ نے حملے روک دیے، پاکستان نے ایران اورامریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث خود کو امن کےبا اعتماد ضامن کے طور پر منوایا ہے۔

ماہرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں نے نہ صرف خطے کو ممکنہ تباہی سے بچایا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم اور قابلِ اعتماد ثالث کےطور پربھی منوایا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک عالمی سطح پر اپنی اہمیت اور سفارتی اثر و رسوخ کو موثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button