لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سنٹر کی پرائیویٹائزیشن کیخلاف ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔وائے ڈی اے،ایپکا سمیت 23تنظیموں نے گنگا رام ہسپتال تا محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن تک لانگ مارچ کیا ،متاثرین کا کہنا ہےکہ چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں ،فاقوں پر مجبور ہیں حکام نوٹس لیں۔

ایپکا پنجاب / اگیگا پنجاب، ینگ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز آرگنائزیشن YPA پنجاب، پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن اینڈ ہیلتھ سپورٹ سٹاف، ایکٹیو الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل پنجاب، پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب، پنجاب ڈسپنسرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان ڈسپنسر فیڈریشن، نیشنل پروگرام پنجاب، ای پی آئی EPI پنجاب، آل پاکستان سی ڈی سی فیڈریشن، سی ڈی سی ونگ پنجاب،IRMNCH یونین پنجاب،PREHA (PHFMC) پنجاب
، یونائیٹڈ ہیلتھ فیڈریشن، پبلک سیفٹی ایمپلائز پنجاب، میڈوائف ایسوسی ایشن پنجاب، ینگ لیڈی ہیلتھ وزیٹر ایسوسی ایشن پنجاب،PMHI پروفیشنلز ایسوسی ایشن پنجاب، لیڈی ہیلتھ وزیٹر ایسوسی ایشن پنجاب، سینٹری انسپکٹرز ونگ پنجاب، ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن، ینگ نرسز ایسوسی ایشن YNA پنجاب نے لاہور میں گنگا رام ہسپتال تا محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن تک پر امن لانگ مارچ کیا۔

تمام تنظیموں کے شرکا نے محکمہ ہیلتھ کی پرائیویٹائزیشن اور نکالے گئے پرائم منسٹر ہیلتھ انیشیٹو پروگرام کے ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا ،تفصیلا ت کے مطابق پرائم منسٹر ہیلتھ انیشیٹو پروگرام جو کہ یکم جولائی 2019 میں شروع کیا گیا تھا اس پروگرام کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع کے بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹر ز پر ڈاکٹرز، چارج نرسز ڈسپنسرز، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، آیاز ، اور سینٹری ورکرز کو شامل کیا گیا ۔
پی ایم ایچ آئی پروگرام آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کا فیز 5 اور فیز 6 پر مشتمل ہے،پی ایم ایچ آئی پروگرام کا کنٹریکٹ سال ہا سال دوبارہ ری نیو کیا جاتا تھا لیکن آخری کنٹریکٹ جولائی 2024 کو صرف 06 ماہ کیلئے اس بات پر ری نیو کیا گیا کہ پی ایم ایچ آئی پروگرام کے ملازمین کو نان ڈویلپمنٹ میں شامل کرنے کیلئے سمری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی گئی ہے جیسے کہ پہلے فیز 1 سے فیز 4 کے ملازمین کو نان ڈویلپمنٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔
31 دسمبر 2024 کو پی ایم ایچ آئی پروگرام کا کنٹریکٹ ختم ہو گیا تب بھی ملازمین اپنی ڈیوٹی ویسے ہی سر انجام دے رہے تھے لیکن جنوری میں 150 بنیادی مراکز صحت کو( آؤٹ سورس)ٹھیکے پر دینے کیلئے پی ایم ایچ آئی پروگرام کے تمام 1200 ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے فارغ کر دیا گیا ۔
تقریبا03ماہ گزرنے کے باوجود ان تمام ملازمین کا کنٹر کٹ ابھی تک بحال نہیں کیا گیا، پروگرام کے ملازمین نے اپنے تمام اعلیٰ افسران جن میں ہیلتھ منسٹر خواجہ عمران نذیر ، پروگرام ڈائریکٹر خلیل احمد سکھانی، سیکریٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب شامل ہیں اس پروگرام کی بحالی کیلئے درخواستیں بھی دیں لیکن تقریبا 03 ماہ گزرنے کے باوجود ان ملازمین کا کنٹریکٹ ابھی تک بحال نہیں کیا گیا۔
پرائم منسٹر ہیلتھ انیشیٹو پروگرام کے وفد کی صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیرسے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ آفس میں ملاقات میں پی ایم ایچ آئی پنجاب کے ملازمین کو درپیش مسائل ، کنٹریکٹ ایکسٹینشن وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے پی ایم ایچ آئی پروگرام کے وفد کو یقین دلایا تھا کسی کو بے روزگار نہیں کیا جائے گا ، ملازمین کو آنے والے کسی بھی پروگرام میں ایڈجسٹمنٹ کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی
خواجہ عمران نذیر نے وفاقی مشیر صحت مختار احمد بھرتھ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ہر حال میں ملازمین کو بے روزگاری سے بچانے کے لئے درخواست کی تھی۔ پی ایم ایچ آئی پراگرام کا وفد وفاقی مشیر صحت مختار احمد بھرتھ سے ملاقات کرنے کیلئےاسلام آباد بھی گیا تھا جس پر وفاقی مشیر صحت مختار احمد بھرتھ نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام پنجاب حکومت کے اپنے آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کا حصہ ہے وفاقی حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ۔
اس بات کا انہوں نے فون پر منسٹر ہیلتھ پرائمری اینڈ سیکنڈری خواجہ عمران نذیر کو اور لکھ کر ون پیجرملاقات کیلئے گئے وفد کو اس کی کاپی فرائم کی لیکن پھر بھی تین ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان ملازمین کے روزگار کا کوئی بھی بندوبست نہیں کیا گیا۔
ان ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں ملازمین فاقہ کشی پر مجبور ہیں، ڈاکٹرز کیلئے مریم نواز ہیلتھ کلینک ،چارج نرسز اور لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر پروگرام میں شامل کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن ڈسپنسر ز، آیاز ، اور سینٹری ورکرز کیلئے ابھی تک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں کوئی بھی پروگرام موجود نہیں ہے ۔ ان کی پانچ سال کی محنت ضائع کی جارہی ہے ان کو ریگولر کرنے کی بجائے ان کی نوکریاں چھینی جارہی ہیں۔



