صبر سے جارحانہ حکمت عملی ؟،ایران کا بدلتا ہوا دفاعی نظریہ
شہید خامنہ ای نے ’’تزویراتی صبر‘‘ کا نظریہ اپنایا،جنگ نے ایران کو بے خوف بنا دیا،وسائل اور علاقوں پر قبضہ خواہش نہیں بلکہ ٹرمپ کی سامراجی منطق کا شاخسانہ ہیں:فواز جرجس

تہران: (ویب ڈیسک)امریکہ کے معروف پروفیسر اور محقق فواز جرجس نے ایران پر جارحیت کو امریکہ کی سنگین تزویراتی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اس جنگ نے مشرق وسطیٰ کو غیرارادی اور غیر مستحکم طریقوں سے بدل دیا ہے جبکہ دنیا میں امریکہ کے وقار کو بھی نقصان پہنچایا، امریکہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا؛ نہ ایران میں حکومت تبدیل ہوئی اور نہ اس نے امریکی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔

امریکہ خارجہ پالیسی، امور مشرق وسطیٰ اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے پروفیسر فواز جرجس نے اخبار دی گارڈین میں لکھے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ ایران نے خطے سے باہر معاشی نقصان پہنچا کر اور عالمی معیشت کو سست کر کے یہ ثابت کر دیا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اس کا سب سے طاقتور دفاع ہے، غالباً اس کےغیرفعال جوہری پروگرام سے بھی زیادہ۔
مستقبل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کیلئے اثرورسوخ کا سب سے طاقتور ذریعہ ہوگا۔امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو سب سے زیادہ جس بات نے پریشان کر رکھا ہے وہ جنگ کے بعد اس آبنائے پر ایران کا مستقل کنٹرول ہے جبکہ امریکہ ایک ناقابل بھروسہ ضامن دکھائی دیتا ہے۔ اس نئے عدم استحکام سے بچنے کیلئے خلیجی ممالک پاکستان، مصر اور ترکیہ جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ متبادل سکیورٹی انتظامات کر رہے ہیں جبکہ چین، یورپ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو گہرا کر رہے ہیں۔
اس جنگ نے ایران کو معاشی اور فوجی طور پر کمزور تو کیا لیکن طویل مدتی اثرات اس کے برعکس ہو سکتے ہیں یعنی ایک زیادہ بے خوف، طاقتور اور پراعتماد ایران۔اس جنگ کے اہم ترین غیر ارادی نتائج میں سے ایک تہران کے سٹریٹجک نظریے میں تبدیلی ہے، اب ایران احتیاط اور دفاع پر انحصار کرنے کے بجائےممکنہ طور پر ملٹی فرنٹ یعنی کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنائے گا، یعنی اپنے حریفوں کے وسیع تر معاشی اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانا۔ درحقیقت اس جنگ نے ایران کے ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت بننے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔
اندرون خانہ یہ تبدیلی شروع بھی ہو چکی ہے، پاسداران انقلاب کے افسران کی نئی نسل نے واضح سبق سیکھا ہے کہ’’ ضبط نفس کمزوری کو دعوت دیتا ہے‘‘۔ شہید ایرانی سپریم لیڈر اور ان کے مشیروں نے برسوں تک ’’تزویراتی صبر‘‘ کے نظریے پر عمل کیا، ان کا ماننا تھا کہ نپا تلا تحمل اور ردعمل حکومت کی بقا اور استحکام کو یقینی بنائے گا، تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ایرانی سول و عسکری قیادت کے قتل اور ملک پر براہ راست حملوں نے تاثر کو تقویت دی کہ دفاعی رویہ اب سلامتی کی ضمانت نہیں رہا۔

واضح ثبوت موجود ہیں کہ پاسداران انقلاب نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ حکومت کی گرفت کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ حکومت سے ناراضگی اور مخالفت کے باوجود عوام نے بیرونی حملوں کو حکومت پر نہیں بلکہ قوم پر حملہ تصور کیا ہے، نتیجے کے طور پر پوری قوم پرچم تلے متحد ہو گئی۔یہ محض حکمت عملی کی غلطیاں نہیں تھیں، بلکہ غلط مفروضوں کی وجہ سے ہوئیں۔ٹرمپ نے سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے، وہ نیتن یاہو کی یقین دہانیوں کو قبول کر بیٹھے کہ جنگ فوری اور فیصلہ کن ہوگی۔یہ مفروضہ تزویراتی غلط فہمی اور سامراجی تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔
وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری سے حوصلہ پا کر ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران بھی اس طرح کا آسان ہدف ثابت ہوگا۔ اس جنگ کے پیچھے ٹرمپ کی ایک وسیع تر منطق کارفرما ہے، یہ بنیادی طور پر ایک سامراجی منصوبہ ہے، جنوبی امریکہ سے لے کر آرکٹک اور مشرق وسطیٰ تک ٹرمپ نے توسیع پسندی کا لب و لہجہ اپنایا اور وسائل سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کرنے کی خواہش کا بار بار اظہار کیا۔اپنے پیشروؤں کے برعکس جو مداخلت کو بین الاقوامی نظم و ضبط اور انسانی حقوق کے لبادے میں چھپاتے تھے، ٹرمپ نے ایسا کوئی دکھاوا نہیں کیا بلکہ مختلف علاقوں پر قبضے کو اپنے لیے نفسیاتی طور پر اہم قرار دیا۔
دنیا جس چیز کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ امریکی طاقت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کا بے نقاب اظہار ہے۔دوران مذاکرات حملے کر کے ٹرمپ نے سفارت کاری کے تسلیم شدہ اصولوں کو توڑا اور ایک خطرناک مثال قائم کی۔ امریکہ اب ایک بگاڑ پیدا کرنے والی قوت بن چکا ہے۔مستقبل کے مورخین اس لمحے کو امریکی صدی کے خاتمے کے آغاز اور زیادہ غیریقینی اور خطرناک دور کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ایسا دور جس میں چین کی اُٹھان واضح ہے۔



