اسرائیلی حملے ، عید کی خوشیا ںماتم میں تبدیل ، 64فلسطینی شہید : غرہ کے وسیع علاقے کو سکیورٹی زونز میں شامل کرنے کا امکان
صیہونی جارحیت میں شہید ہونے والے بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل، عید کے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے، ہر آنکھ اشکبار
غزہ، واشنگٹن، بیروت ( ویب ڈیسک) فلسطینیوں کے لیے ایک اور عید المناک یادوں کے ساتھ آئی، غزہ میں عیدالفطر کے دونوں روز اسرائیلی حملے جاری رہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 64فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، غزہ میں ایک ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے ریڈ کریسنٹ کے 15امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں، ٹرمپ منصوبے کیخلاف حماس نے دنیا بھر میں ہتھیار اٹھانے کی کال دیدی، دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے گڑھ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم کے 3کارکن شہید اور 7زخمی ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں بچوں سمیت 64افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے جس سے عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔فلسطینی حکام کے مطابق رفاہ کے قریب اسرائیلی فائرنگ کے ایک ہفتے بعد 14لاشیں برآمد ہوئیں، لاشیں طبی عملے کے 8ارکان، 5شہری دفاع اور ایک یو این ملازم کی ہیں، شہدا کی مجموعی تعداد 50ہزار سے تجاوز کر گئی، 1لاکھ 14سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے۔
عرب میڈیا نے مزید بتایا کہ فرانسیسی صدر میکرون نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، فرانسیسی صدر میکرون نے اسرائیل سے غزہ پر حملے بند کرکے جنگ بندی پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر غزہ میں ایک ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے ریڈ کریسنٹ کے 15امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ پٹی کے جنوبی علاقے سے ریڈ کریسنٹ کے 8طبی کارکنوں اور دیگر فلسطینی ریسکیو ورکرز کی لاشیں ریت میں بنی ایک کم گہری قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔یہ کارکن گزشتہ ہفتے اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے اور اس کے بعد سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے لاپتہ رضاکاروں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے بین الاقوامی فیڈریشن (IFRC)کے مطابق، 9رکنی ریڈ کریسنٹ ٹیم کا ایک کارکن اب بھی لاپتہ ہے۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ نے کہا کہ اسی علاقے سے 6سول ڈیفنس اراکین اور ایک اقوام متحدہ کے ملازم کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان کارکنوں کو نشانہ بنایا تھا، تاہم ریڈ کراس نے حملے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنمائوں کو غزہ چھوڑنے کی پیشکش کی، مگر شرط رکھی کہ مسلح گروپ پہلے اپنے ہتھیار ڈال دے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف)نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں گزشتہ 10روز کے دوران کم از کم 322بچے شہید اور 609زخمی ہوئے ہیں۔ دریں اثنا، حماس کے ایک سینئر عہدیدار سمیع ابوزہری نے دنیا بھر میں اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار اٹھائیں اور غزہ کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کے خلاف لڑیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے گڑھ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم کے 3کارکن شہید اور 7زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق حملے میں کثیر المنزلہ عمارت کی اوپر کی 2منزلیں تباہ ہوگئیں، جب کہ خوفزدہ رہائشی اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دوسری جانب عید کے پہلے اور دوسرے دن اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے عید کے دن اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے بچوں کی تصاویر جاری کر دیں، جن میں بچوں کو عید کے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچے اپنی کیمپوں میں اس وقت شہید کیے گئے جب تمام بچے اپنے والدین اور اہل خانہ کے ہمراہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں امداد میں ملنے والے نئے کپڑے پہن کر تیاری کر رہے تھے۔ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 10سال سے کم ہیں اور زیادہ تر بچے کے عید کی خوشیاں دیکھنے سے قبل ہی اپنے چھوٹے بہن اور بھائیوں سمیت شہید کئے گئے۔مزید برآں اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ میں جاری فوجی آپریشن میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر کے اسے اسرائیل کے سکیورٹی زونز میں شامل کر دیا جائے گا۔ بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کاٹز کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں لڑائی جاری ہے، وہاں سے بڑے پیمانے پر فلسطینی آبادی کا انخلا کیا جائے گا۔ انہوں نے غزہ کے رہائشیوں سے حماس کے خاتمے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل غزہ کے کتنے بڑے حصے پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔



