انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

اسرائیلی بمباری،مزید58فلسطینی شہید،غزہ کو ملکیت میں لانا اچھی بات: ٹرمپ کی ہٹ دھرمی

غزہ پٹی میں گندم کا دانہ بھی داخل نہیں ہو گا : اسرائیلی وزیر خزانہ، فلسطینی قیدیوں پر بدترین جسمانی، ذہنی تشدد ،کتوں کے سامنے پھینکنے کا انکشاف

غزہ ،نیویارک( ویب ڈیسک )غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 58 مزیدفلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 58 فلسطینی شہید اور 213 زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی غزہ کے خان یونس میں ناصر ہسپتال کے قریب میڈیا کے خیمے پر پیر کے روز اسرائیلی حملے میں شدید جھلس جانے والے صحافی احمد منصور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔اسرائیلی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب غزہ کی پٹی پر شدید حملے کیے جن میں 19 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کے خونیں حملوں میں شہید ہونے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے دوران مقامی آبادی کو نکالنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو سراہا ہے۔نیتن یاہو کے مطابق غزہ کی پٹی کے لوگ "یرغمال” ہیں جن کو کوچ کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، چوں کہ یہ لڑائی کا علاقہ ہے لہذا ہم نے انھیں نہیں روکا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ پر کنٹرول کرنا اور اسے ملکیت میں لانا اچھی بات ہے ۔

غزہ جنگ کو رکنے میں زیادہ وقت نہیں لگےگا ۔حماس کی زیرحراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کررہے ہیں ۔اقوام متحدہ کی چھ ایجنسیوں کے سربراہان نے غزہ میں اسرائیل کی جاری ناکہ بندی اور حملوں کے تباہ کن اثرات پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا "ایسے جنگی جرائم کا مشاہدہ کر رہی ہے جو انسانی زندگی کی مکمل طور پر بے قدری کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے غزہ میں کوئی تجارتی یا انسانی امداد داخل نہیں ہوئی۔بیان میں کہا گیا: "2.1 ملین سے زیادہ لوگ محصور ہیں، بمباری اور بھوک کا شکار ہیں، جبکہ سرحدی گزرگاہوں پر خوراک، ادویات، ایندھن اور پناہ گاہ کی امداد جمع ہو رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے لیے وائٹ ہائوس پہنچ گئے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس بات چیت میں غزہ میں جنگ، ایران اور اسرائیل سمیت دنیا پر عائد امریکی ٹیرف سے متعلق امور شامل ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو نسل کشی پر ادیس ابابا میں منعقدہ کانفرنس کے دوران افریقی یونین کے ہیڈکوارٹر سے نکالے جانے کے اقدام کو سراہتے ہیں،قابض ریاست کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بزالیل سموٹرچ نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب فلسطینیوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا۔ غزہ کی پٹی میں گندم کا ایک دانہ بھی داخل نہیں ہو گا۔

سموٹرچ نے حماس تنظیم کی شکست سے قبل غزہ کی پٹی سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کو ترجیح دینے کے فائدے پر استفسار کیا۔ مصر، فرانس اور اردن کے رہنماؤں نے فلسطینیوں کے تحفظ اور انہیں ہنگامی انسانی امداد کی فوری اور مکمل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور جیل حکام نے دورانِ قید ان پر بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کیا۔بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کئی قیدیوں نے بتایا کہ انھیں کیمیکل سے جلایا گیا، برہنہ کر کے مارا گیا، بجلی کے جھٹکے دئیے گئے اور کتوں سے ڈرایا گیا۔36 سالہ مکینک محمد ابو طویلہ کا کہنا تھا کہ ان کے جسم پر کیمیکل پھینک کر آگ لگا دی گئی اور وہ جانوروں کی طرح تڑپتے رہے۔ بی بی سی نے ایسے5 قیدیوں سے انٹرویو کئے جنھیں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد بغیر مقدمہ گرفتار کیا گیا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button