لاہور،قصور ( بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) لاہور میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ ( سی سی ڈی) کی جانب سے ایک ہی رات میں تین مبینہ پولیس مقابلوں میں زیرِ حراست ملزم ہلاک کر دئیے گئے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق تینوں مقابلے رات کے پچھلے پہر مختلف مقامات پر پیش آئے اور حیران کن طور پر تمام مقابلوں کی کہانی ایک جیسی بیان کی گئی۔ پہلا مبینہ مقابلہ رات ایک بجے شفیق آباد کے ویرانے میں ہوا، جہاں سی سی ڈی کی مطابق مبینہ ڈاکو اظہر پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
دوسرا مقابلہ رات ڈیڑھ بجے چوہنگ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مبینہ ملزم شہزاد کو ہلاک کر دیا گیا۔
تیسرا مقابلہ رات دو بجے نشتر کالونی میں پیش آیا، جس میں مبینہ ملزم ارشد مارا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں مارے جانے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر سی سی ڈی کی تحویل میں تھے اور انہیں وقفے وقفے سے ایک ہی رات میں مقابلوں میں مارا گیا۔
تینوں واقعات میں پولیس کا موقف یہ رہا کہ ملزموں کو ان کے ساتھیوں نے چھڑوانے کی کوشش کی، جس دوران یہ جھڑپیں ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ان تمام مقابلوں میں کسی پولیس اہلکار کو خراش تک نہیں آئی۔ ایس پی سی سی ڈی آفتاب پھلروان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے اور مزاحمت کرنے والے ڈاکوئوں کو ہلاک کیا گیا۔
ادھر رحیم یار خان کے تھانہ تبسم شہید کے علاقے میں بھی پولیس کے ساتھ مقابلے میں ایک بین الاضلاعی خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت نادر گوپانگ کے نام سے ہوئی ہے، جو ڈکیتی سمیت 30سنگین مقدمات میں ملوث تھا۔مزید برآں قصور کے نواحی گائوں چاہ باوے والا میں 3بہنوں کے اکلوتے 14سالہ معصوم بھائی کو اغوا برائے تاوان کی واردات میں قتل کرنے والا سفاک ملزم بھی پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوگیا۔ پانچ روز قبل نامعلوم ملزمان نے چاہ باوے والا کے رہائشی محمد ارشد کے بیٹے عزیر کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کر کے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش کے لئے تین رکنی ٹیم تشکیل دی، اس دوران سفاک ملزمان نے تاوان نہ ملنے پر معصوم عزیر کو بے دردی سے قتل کر کے لاش کو سرکنڈوں میں چھپا دیا۔ تفتیشی ٹیم نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے کام شروع کر دیا، گزشتہ رات جھلار چھینہ نتھو کی کے قریب پولیس نے ناکہ لگا رکھا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار تین مشکوک ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے پولیس پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزم فائرنگ کرتے ہوئے کھیتوں میں بکھر گئے، فائرنگ رکنے پر ملزمان کی تلاش شروع کی گئی تو ایک ملزم زخمی حالت میں ملا جس نے اپنا نام مبین اشرف بتایا جو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گیا تھا۔
طبی امداد کے لئے ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں ہی ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک پسٹل اور صدر پھولنگر کے علاقہ سے چھینی جانیوالی ایک موٹر سائیکل برآمد کر لی۔ جبکہ تھانہ کوٹ رادھاکشن پولیس نے مقدمہ درج کر کے فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔



